عمر اصغر خان: سنگیوں کا سنگی


آج کا دن اس شخص کے نام، اس جوان کے نام جس نے کئی طوفانوں کو روکا ہے جس کی بنا پر آج ہم اس جوان کے مرنے کے 23 سال بعد بھی اسے یاد کر رہے ہیں۔ اس شخص نے ٹمبر مافیا، انتہاء پسندی اور شدت پسندی جیسے طوفانوں کے آگے رکاوٹ ڈالی۔ اس کی زندگی سے یہ سیکھا جاسکتا ہے کہ انسان کے اندر ہمت لگن اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو تو راستے میں حائل رکاوٹیں کچھ معنی نہیں رکھتیں۔ میں آج جس شخص کی کہانی بیان کر رہا ہوں وہ نہ صرف برگیڈیئر (ر) رحمت اللہ آفریدی اور ائر مارشل اصغر خان کی وراثت کا امین ہے بلکہ اس ملک خداداد میں بسنے والے ہر مظلوم، مجبور اور پسے ہوئے طبقات کا وارث ہے۔ وہ سنگیوں کا سنگی عمر اصغر خان ہے۔

3 جولائی 1953 میں پیدا ہونے والے عمر اصغر خان کے اندر قائدانہ صلاحیتیں انھیں اپنے والد ائر مارشل اصغر خان اور ان کے دادا برگیڈیئر رحمت اللہ خان آفریدی سے ورثے میں ملی ہیں۔ عمر نے 1971 میں پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا لیکن 1973 میں آرمی سے بحیثیت کپتان ڈھاکہ کی علیحدگی اور بلوچستان آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ بعد ازاں انگلستان چلے گئے جہاں کیمرج سے ایم فل کرنے کے بعد پاکستان واپس آ کر پنجاب یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کر دیا۔ عمر اصغر بنیادی طور پر ایک جداگانہ اور انقلابی سوچ کے حامل تھے۔ وہ بنیادی انسانی حقوق اور ماحولیات کے دفاع کے علمبردار تھے۔ اسی بنا پر ان کو مزدوروں کی ریلی میں شرکت کی بنیاد پر پنجاب یونیورسٹی سے فارغ کر دیا گیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے نکالے جانے کے بعد عمر اصغر نے باقاعدہ طور پر عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا اور تحریک استقلال کے یوتھ ونگ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں جہاں سے ان کے روشن خیال، ترقی پسندانہ اور انقلابی سوچ کو جلا ملی۔ تحریک استقلال کے پلیٹ فارم سے انہوں نے بنیادی انسانی حقوق، جاگیرداری کے خلاف، جمہوریت پسند و روادار معاشرہ کی تشکیل، مزدوروں کے حقوق کے لیے نعرہ حق بلند کیا۔ نیک نیتی اور انسان دوستی پر مبنی جدوجہد کے باوجود پارلیمانی سیاست میں ناکامی کے بعد عمر اصغر نے مایوس ہونے کے بجائے ایک نئی امید اور لگن کے ساتھ اک نئی سمت کا تعین کرتے ہوئے ہزارہ ڈویژن کی پہلی سماجی تنظیم سنگی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ سنگی کے پلیٹ فارم سے عمر اصغر نے ماحولیات کے تحفظ، پسماندگی کے خلاف ایک ٹھوس Development Plan کے ساتھ ترقیاتی کاموں کی حوصلہ افزائی، مزدوروں کی تعلیم و تربیت اور ٹمبر مافیا کے خلاف ایک توانا آواز کی صورت میں عملی جدوجہد کی۔

1999 میں عمر اصغر خان پرویز مشرف کی کابینہ میں شامل ہوئے اور بیک وقت اپنی قابلیت کے بل بوتے پر 7 کے قریب وزارتیں حاصل کیں جس کی عمر نے تنقید بھی برداشت کی لیکن ایک آمر کی کابینہ میں ایک جمہوری اور بنیادی انسانی حقوق کے علمبردار کا ہونا بہت ہی ضروری تھا، جس کی واضح مثال عمر صاحب کے رویے سے بھی ملتی تھی انہوں نے خوشی سے موت کو قبول کر لیا لیکن نا اہلی، بد عنوانی، مزدور دشمن اقدامات، اور غیر جمہوری رویوں کے آگے سر خم تسلیم نہیں کیا۔

انہوں نے بطور وفاقی وزیر 13 سال کے طویل وقفے کے بعد پاکستان میں لیبر کانفرنس کا انعقاد کروایا اور متفقہ طور پر ایک لیبر پالیسی متعارف کروائی۔

1۔ کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دلوائے

2۔ حکومتی سطح پر خواتین اور کسانوں کو با اختیار بنانے کے لیے پارلیمان میں اور لوکل گورنمنٹ سسٹم میں مخصوص نشستوں کی پالیسی دی۔

3۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک مضبوط اور جامع بلدیاتی نظام متعارف کروایا۔

عمر اصغر خان نے بنیادی طور پر سنگی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کو پائیدار بنیادی انسانی حقوق کی پیروی کرنے والے اصولوں پر استوار کیا۔ عمر صاحب کی شخصیت میں ملنساری، انسان دوستی اور غریب پروری جیسی خصوصیت ان کے خون میں شامل تھیں۔ عمر صاحب نے عام لوگوں کے مسائل کو جاننے اور حل کرنے کی کوشش کی اور انہوں نے ڈرائنگ روم کی سیاست کے انتخاب کے بجائے فیلڈ میں جا کے عملی طور پر جدوجہد کی۔

2001 میں وفاقی کابینہ سے استعفیٰ دے کر انہوں نے ایک نئی سیاسی جماعت قومی جمہوری پارٹی کی بنیاد رکھی لیکن بدقسمتی سے وہ ہوا جس کا ہر وہ انسان جس کا عمر اصغر سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق تھا وہ آج تک یہ تصور نہیں کر پا رہے کہ عمر صاحب اس دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے۔ بدقسمتی سے عمر اصغر خان کی موت کو خودکشی کا رنگ دیا گیا۔ عمر اصغر کی حب الوطنی پر بھی سوال اٹھائے گئے اور 25 جون 2002 کو عمر نے اپنی حب الوطنی کو ثابت کیا اور اس ارض وطن کے لیے اپنا لہو نچھاور کر دیا۔

وطن کی مٹی میں شامل ہے لہو میرے آبا کا
اور کیا چاہیے ثبوت میری وفا کا

عمر اصغر کا خاندان تاریخی لحاظ سے ایک پس منظر رکھتا ہے۔ عمر صاحب کے دادا رحمت اللہ خان آفریدی ہوں یا والد ائر مارشل اصغر خان ہوں اس پورے خاندان نے اس ارض وطن کے ساتھ وفا نبھائی۔ ائر مارشل اصغر خان نے پاکستان ائر فورس کو پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔

عمر صاحب کی موت کو بہت ہی ڈرامائی انداز میں خودکشی کا رنگ دیا گیا لیکن وہ سنگی جن کی عمر صاحب کے ساتھ قربت تھی بقول ان کے جو خود درست سمت کا تعین کرنے والا ہو، جو گلی گلی، قریہ قریہ امید، حوصلہ اور ایک نئی سحر کی شمع جلاتا ہو، وہ جو اس ارض وطن کے ہر محکوم و مجبور کے لیے امید کی کرن ہو وہ کس طرح مایوسی کا طوق اپنے گلے کے ساتھ لگا سکتا ہے اور پھر وقت نے ثابت کیا اور تاریخ گواہ بنی اور تاریخ نے گواہی دی کہ عمر اصغر شمع فروزاں تھا، عمر فیض احمد فیض اور کروڑوں مظلوموں کی دعا تھا جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس گوہر زمان نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں عمر صاحب کی موت کو قتل قرار دیا۔ عمر اصغر خان بنیادی طور پر ایک شخص کا نام نہیں بلکہ ایک سوچ اور ادارے کا نام ہے جس کے بطن سے ہزاروں ایسے انسانوں اور سوچوں کا جنم ہوا ہے جو آج عمر صاحب کی موت کے 23 سال بعد بھی کروڑوں مجبوروں اور مظلوموں کی آواز ہیں۔ سنگی ہو، پائلر ہو یا عمر اصغر خان فاؤنڈیشن ہو یہ عمر صاحب کی سوچ اور فکر کی عملی مثالیں ہیں۔

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑائے جائیں گے

Facebook Comments HS