منٹو کو پڑھنا ضروری، کیوں؟


میں سوال نہیں پوچھ رہی بلکہ میں طنز کر رہی ہوں۔ جی ہاں ایک ایسا معاشرہ جہاں آئے دن غیرت کے نام پر عورتیں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کی جاتی ہیں۔ ان سے محبت کا مطلب ان کی جان کا مالک بننا ہے، جب چاہا ختم کر دی، وہاں منٹو کو پڑھ کر فضول میں اپنا وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ یہ سوال اٹھانے کا خیال مجھے اس لیے آیا کہ آج کل سوشل میڈیائی کھاتوں پر ایک عکس حرکت کر رہا ہے جسے ہمارے معصوم اردو دان بلا کسی تحقیق کے اچھا خاصا رونے دھونے اور بینوں کے ساتھ سب جگہ مشترک کر رہے ہیں۔ جیسے منٹو کا لکھا ادب آنے والی نسلوں کے لیے بڑی ہی کوئی عمدہ مثال یا رہنما بنے گا۔ ایسا نہ ہی ہوا اور نہ ہی آئندہ کبھی ہو گا۔

سب لوگوں کی زندگیوں میں عورت کا وہی مقام ہے اور وہی رہے گا۔ جس کے ساتھ ایک خاص قسم کا دوسرا درجہ بنا دیا گیا ہے۔ منٹو تو طوائفوں کو بھی اپنے افسانوں میں جگہ دیتا ہے لیکن اس معاشرے میں لوگ اپنے گھر کی خواتین کا نام تک کسی کے سامنے نہیں لیتے اور محفلوں یا عام میل جول میں پرائی خواتین کے ساتھ لی گئی تصاویر بہت فخر سے مشترک کرتے ہیں۔ شادی کے لیے انتہائی سادہ سی، کم عمر، کنواری اور خاندان کی کسی لڑکی کو چنا جاتا ہے۔ جو کافی سارے بچوں کو جنم دے اور اپنا دماغ استعمال کرنا بالکل نا جانتی ہو۔ لیکن خود مرد حضرات ایک سے ایک فیشن ایبل، ذہین و فطین اور برسر روزگار خاتون سے ملتے جلتے، ان کی تعریفیں کرتے، ان کے حقوق کے لیے آواز اُٹھاتے نظر آتے ہیں۔ ویسی خواتین بیوقوف ہیں یا پھر نظر اندازی کے فن میں ماہر ہیں کہ ایسے جاہل قسم کے لوگوں کی باتوں پر یقین کر لیتی ہیں۔ خیر! ہم لوگ کچھ بھی پڑھ لیں، کسی کو بھی پڑھ لیں، مقصد تو صرف زیادہ نمبر لینا یا نوکری حاصل کرنا ہوتا ہے تو پھر یہ واویلا کسی کام کا نہیں کہ ہمیں منٹو پڑھنا چاہیے یا پھر منٹو کو تاحیات اس ملک کے تعلیمی مواد سے نکال دیا جانا چاہیے۔ کوئی ایسی جان لیوا صورتِ حال نہیں ہے۔

اس کے علاوہ ایک چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گی کہ ایک ایسی لڑکی جو کے اپنے کم آمدنی والے خاندان کے ساتھ اگر خود کو مطمئن یا خوش محسوس نہیں کرتی تو وہ کیا کرے؟ جیسا آج کل ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے، وہ بدکاری شروع کر دے؟ یا پھر ایک انتہائی غریب گھر کی خاتون جس کا شوہر بوجوہ کما نہیں پا رہا وہ کیا کرے؟ جسم فروشی اس کے لیے آخری امید ہے؟ نہیں ایسا بالکل بھی نہیں۔ بہت خوب صورت خواتین بھی محنت سے کما کر اپنی زندگی سلیقے کے ساتھ گزارتی ہیں۔ منٹو کو عام کر کے کیا ہم لوگ ہر عورت کو ترغیب دلانا چاہتے ہیں کہ وہ ایک طوائف بن جائے؟ کیا یہی کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہو سکتی ہے؟ خاص طور پر ایک ایسے معاشرے میں جس کی ثقافت اور روایات ان سب چیزوں کو برا سمجھتی ہے۔ چاہے صرف عورت کے لیے ہی برا سمجھتی ہے لیکن سمجھتی تو ہے۔ اپنے دماغ کے بند دروازوں کو کھول کر ایک انسان، ایک پاکستانی، ایک ادب کا سلجھا ہوا قاری بن کر سوچیں کہ منٹو کے لکھے سیاہ و سفید کو کیا ہم لوگ اپنی زندگیوں میں کھلے عام رواج دے سکتے ہیں یا پھر یہ بین، یہ سر پیٹنا اور واویلا مچانا کسی خاص قسم کی کلاس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے تو نہیں؟ اور وہ خاص کلاس بھی تھوڑی عقل کے ناخن لے۔

Facebook Comments HS