اسرائیل ایران جنگ بندی۔ ٹرمپ کی قلابازیاں
12 روزہ اسرائیل ایران جنگ میں سیز فائر کے اعلان کے بعد پاکستان ’مشرق وسطیٰ کے ممالک اور دنیا کے امن پسند ملکوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ امید ہے کہ یہ جنگ بندی ڈونلڈ ٹرمپ اور خطے کے دیگر اہم ممالک کی مداخلت اور ایران کی جوابی صلاحیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے پائدار ثابت ہوگی۔ کیونکہ دونوں ممالک کا ایک دوسرے پر اعتماد کا انتہائی فقدان پایا جاتا ہے لہذا معمولی سا واقعہ دوبارہ جنگ چھڑنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس جنگ میں کس نے کیا کھویا اور کیا پایا اس کا واضح فیصلہ تو آنے والا وقت ہی طے کرے گا۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اسرائیل کو امریکہ برطانیہ اور یورپی ممالک کی ہر طرح کی امداد کے باوجود ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت کے مطابق بھرپور جواب دیا اور شدید قیمتی جانی و مالی نقصان اٹھانے کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ہمت کے ساتھ ڈٹا رہا اور گھٹنے نہیں ٹیکے۔ ایرانی قیادت نے اپنی کمزوریوں کے باوجود دفاعی اور سفارتی میدان میں بہتر حکمت عملی اختیار کی اور اس جنگ کے ذریعے بالخصوص مسلم دنیا اور بالعموم دنیا کے کمزور ممالک کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ کم وسائل کے باوجود عزم اور جذبے کے ساتھ سامراج کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی دلیرانہ مقابلے کی وجہ سے اسرائیلی حملہ ایرانی رجیم کو کمزور یا تبدیل کرنے کے بجائے مزید مضبوط کرنے کا باعث بنا ہے۔ اور جہاں تک ایران کے نیوکلیئر پلانٹس کو تباہ کرنے کے امریکی دعویٰ کا تعلق ہے تو معلوم یہی ہوتا ہے کہ انفراسٹرکچر کو تو ضرور شدید نقصان پہنچا ہے لیکن افزودہ یورینیم کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا ایرانی موقف درست ہے کیونکہ IEA نے تباہ شدہ پلانٹس سے تابکاری کے اثرات کے خدشے کو رد کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی استعداد تاحال موجود ہے اور وہ روس اور چین کی مدد سے اس صلاحیت کو حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم ایران کے ایٹمی ریکٹرز کی تباہی کی وجہ سے اب اس کا یہ سفر لمبا ہو سکتا ہے اور ایران کو جنگ میں پہنچنے والے معاشی و دفاعی نقصان کی بحالی میں بہت لمبا عرصہ اور محنت درکار ہوگی اور یہی ایرانی حکومت کا سب بڑا امتحان ہو گا۔
کیونکہ معاشی بحران کے اثرات عوام پر براہ راست آئیں گے اور عوام میں سیاسی بے چینی پیدا ہونا فطری عمل ہو گا۔ اور یہ بے چینی کوئی بھی رخ اختیار کر سکتی ہے۔ حکومت مخالف اندرونی و بیرونی لابی اس کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ یقیناً اس کے نتیجے میں حکومت پر دباؤ آئے گا۔ تاہم اب ایران کو این پی ٹی میں رہنے پر بھی مجبور کرنا اور اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر لا نا بھی آسان نہیں ہو گا۔ یہ دیکھنا ہو گا کہ اس سلسلے میں آنے والے دنوں میں امریکی اور برطانوی اور یورپی ممالک کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ دوسری طرف توقع ہے کہ ایرانی رجیم کے تبدیل نہ کر سکنے اور دعووں کے مطابق ایران کے شکست نہ ماننے اور اسرائیلی عوام کو جنگ میں ہونے والے نقصانات اور برداشت کی جانے والی مشکلات کے باعث نیتن یاہو کو اپوزیشن اور عوامی حلقوں کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو اس کے لئے بڑا چیلنج ہو گا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے وہ دوبارہ کوئی ایڈونچر کرنے کی طرف جا سکتا ہے۔ امریکی صدر اپنے مخصوص انداز میں انسان دوست گفتگو کرتے ہوئے اس جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے ہوئے اپنی ساکھ کو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔ حالانکہ ایران پر اسرائیلی حملے اور غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کی مہم کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس طرح سے ڈپلومیسی کے نام پر اپنے مخصوص مزاج کے مطابق ایک تھیٹر اداکار کی طرح منافقانہ کردار ادا کیا ہے اس کردار نے اس کی شخصیت کے بارے میں unpredictable اور خوش پسند ہونے کے تاثر کو مزید تقویت دی ہے۔ اور اب ڈپلومیسی کے میدان میں ان کے کہے پر کوئی بھی آسانی سے یقین کرنے کو تیار نظر نہیں آتا۔
اس منظر نامے میں یہ امر بھی مکمل طور پر واضح ہو گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے کہنے پر بالخصوص مسلم ممالک اور دنیا میں کہیں بھی ’کوئی بھی ایڈونچر کر سکتا ہے اور ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس نام نہاد تہذیب یافتہ دنیا میں اخلاقیات‘ بین الاقوامی قوانین ’انسانی حقوق کی تنظیمیں‘ سیکیورٹی کونسل ’اقوام متحدہ اور IEA سب طاقتور کی باندیاں اور ہتھیار ہیں اور might is right کا اصول آج بھی ہلاکو خان اور چنگیز خان کے دور کی طرح روبہ عمل ہے۔ اور اس دور کی چنگیزیت کو روکنے کے لئے آپ کے پاس بھی کم ازکم بھرپور جواب دینے کی طاقت و صلاحیت ہونی چاہیے ورنہ کوئی بین الاقوامی قانون‘ اخلاقیات ’اقوام متحدہ‘ سیکیورٹی کونسل ’انسانی حقوق کی تنظیمیں یا کوئی اور ملک آپ کو طاقتور کی جارحیت سے نہیں بچا سکے گا۔ اس صورتحال نے دنیا بھر کے قوانین اور اخلاقیات کے اصولوں پر عمل کرنے والے طبقات کے ایمان کو بھی متزلزل کر دیا ہے اور بقول علامہ اقبال اس دنیا کے لئے یہی پیغام دیا ہے کہ۔
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات


