سوال اور سیکھنے کا رشتہ


 

ہمارے ایک بزرگ استاد کہا کرتے تھے، ”جس دن تم نے سوال کرنا چھوڑ دیا، سمجھو کہ تم نے سیکھنا چھوڑ دیا۔“

یہ جملہ میں نے ایک سنسان سی دوپہر میں سنا تھا، لیکن اس کی گونج آج تک دل و دماغ میں موجود ہے۔ سوال وہ دروازہ ہے جو ہمیں لاعلمی کے اندھیرے سے نکال کر آگہی کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ استادِ محترم کا یہ جملہ صرف ایک خیال نہیں بلکہ سیکھنے کا وہ بنیادی اصول ہے جس پر جدید تعلیم و تحقیق کی عمارت استوار ہے۔

ایک اور پرانی کہاوت ہے : ”سوال آدھا علم ہے، یعنی جو سوال نہیں کرتا، وہ اپنی مکمل لا علمی اور اسی پر مطمئن رہنے کو ظاہر کرتا ہے۔“

سوال کرنا بہ ظاہر ایک معمولی سا عمل لگتا ہے۔ ایک معصوم سا ”کیوں؟“ ، ایک دل چسپ سا ”کیسے؟“ ۔ لیکن درحقیقت یہ چھوٹے چھوٹے سوالات علم، فکر اور جستجو کی وہ کھڑکیاں ہیں جن سے دماغ میں روشنی داخل ہوتی ہے۔

غیر متحرک دماغ، سناٹے میں ڈوبا کمرۂ جماعت

ایک کمرۂ جماعت کا تصور کیجیے جہاں 35 سے 40 طلبہ موجود ہیں، ایک استاد ہے اور پھر بھی مکمل خاموشی ہے۔ استاد صاحب کہتے جا رہے ہیں اور طلبہ سن رہے ہیں۔ نہ کوئی بہ غرضِ سوال ہاتھ اٹھا رہا ہے، نہ کوئی چہرہ الجھا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ظاہری طور پر یہ ”مثالی نظم و ضبط“ ہے، لیکن درحقیقت یہ سیکھنے سکھانے کا حلقہ نہیں بلکہ نیم مردہ ذہنوں کا قبرستان ہے۔ کیوں کہ جہاں سوال نہیں وہاں جستجو نہیں۔ جہاں جستجو نہیں، وہاں سیکھنے کی روشنی نہیں اور جہاں یہ روشنی نہیں وہاں علمی حیات نہیں۔ ہمارے اسکولوں کے کمروں میں سب کچھ ہوتا ہے۔ تختہ سیاہ و سفید، فرنیچر، کتابیں، اساتذہ، نظم و ضبط۔ بس اکثر ایک چیز کی کمی رہتی ہے اور وہ ہے ”سوال“ ۔

کیا ہر سوال اہم ہوتا ہے؟

جی ہاں! ہر سوال اہم ہوتا ہے۔ چاہے وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ لگے۔ سوال صرف ایک جملہ نہیں ہوتا، یہ ایک ذہن کی للکار ہوتی ہے۔ ”کیوں؟“ ، ”کیسے؟“ ، ”کب؟“ ۔ جیسے یہ چھوٹے چھوٹے الفاظ دراصل سیکھنے کی جانب پیش قدمی ہوتے ہیں۔

ایک طالب علم جب سوال کرتا ہے کہ ”بادل کیوں گرجتے اور برستے ہیں؟“ تو وہ صرف موسم نہیں جاننا چاہتا، وہ فطرت کے پردے ہٹا کر کائنات کو سمجھنے کا شوق رکھتا ہے۔

جب کوئی طالب علم یہ پوچھتا ہے کہ ”ہم یہ شعر کیوں پڑھتے ہیں؟“ ، تو وہ نصاب نہیں، معنی کی تلاش میں ہوتا ہے۔

کیا نیوٹن کا سیب پر سوال بچگانہ تھا؟ کیا غالب کا ”دل ہی تو ہے، نہ سنگ و خشت“ دل کے مفہوم پر سوال نہیں تھا؟

ہر سوال دراصل کسی نہ کسی ذہنی پیچیدگی یا حیرت کا اظہار ہے اور حیرت علم کی ماں ہوتی ہے۔

ماہرین تعلیم، خاص طور پر Lev Vygotsky اور John Dewey جیسے مفکرین، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سوال کرنا صرف علم حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ سیکھنے کا متحرک عمل (active process) ہے۔ Dewey کے نزدیک تعلیم کا مقصد بچے کو ”سوچنے“ کے قابل بنانا ہے، نہ کہ صرف یاد کرنے کا۔ وہ کہتا ہے ”If we teach today ’s students as we taught yesterday‘ s، we rob them of tomorrow۔“ یعنی اگر ہم آج کے طلبہ کو اُسی طرح پڑھائیں جس طرح ہم نے کل پڑھایا تھا، تو ہم اُن سے آنے والا کل چھین رہے ہیں۔

جھجک کی جڑیں کہاں پیوست ہیں؟

سوال علم کا پہلا زینہ ہے، پہلا قدم ہے اور کبھی کبھی پہلا انقلاب بھی۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرتی اور تعلیمی ڈھانچے میں سوال کرنے والا اکثر مشکوک، بدتمیز، نافرمان، نالائق، وقت ضائع کرنے والا یا گستاخ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے تعلیمی ماحول میں سوال کرنے پر چہرے بگڑ جاتے ہیں، آوازیں نیچی ہو جاتی ہیں۔ کلاس روم میں وہ بچہ جو بار بار سوال کرتا ہے، اس کی آواز دبانے کے لیے طنزیہ جملے استعمال ہوتے ہیں :

”تمھیں ہر بات پر اعتراض کیوں ہوتا ہے؟“
”ابھی پڑھانے دو، تم بعد میں پوچھ لینا۔“
”سوال پر سوال وہی کرتا ہے جو سبق پڑھ کر نہیں آتا!“
”چپ کر کے سنو، استاد سب جانتا ہے!“

ایسے جملے وہ زہر ہیں جو طالب علم کے ذہن میں سوال کی جڑوں اور علم کے دریا کو سُکھا دیتے ہیں۔ پھر وہی طالب علم زندگی بھر خاموش رہنے کا عادی ہوجاتا ہے۔ دفتر میں، معاشرے میں اور کبھی کبھی اپنے ضمیر کے سامنے بھی یا پھر خود کو ”کم عقل“ سمجھنے لگتا ہے۔ اور یہ خاموشی علم کے دروازے پر تالا بن جاتی ہے۔

پاکستانی ماہرِ تعلیم ڈاکٹر محمود بٹ کی تحقیق کے مطابق (Punjab Higher Education Commission، 2021 ) بیش تر اسکولوں میں طلبہ کو سوال کرنے کا حوصلہ نہیں دیا جاتا، جس کے نتیجے میں ”محض رٹا“ فروغ پاتا ہے، ”سمجھ بوجھ“ نہیں۔

استاد کا کردار: اِک مشعلِ راہ

ایک استاد اگر صرف سبق سنانے والا ہے تو سوال اس کے لیے ایک خلل اور بغاوت کے مترادف ہے۔ لیکن اگر استاد واقعی معلم ہے تو سوال اس کے لیے نعمت ہے۔ وہ سوالات کو علم کی توسیع کا موقع سمجھتے ہوئے نہ صرف شاگردوں کے سوالات پر خوش ہوتا ہے بلکہ اُن کے ذہنوں کو منور کرتے ہوئے اپنے علم کو بھی نکھارتا ہے۔ ایسا استاد سوال کو چمک دار آنکھوں میں چھپی چنگاری کو سمجھتا ہے اور اسے بجھنے نہیں دیتا۔

مثال :ایک بار ایک استاد نے ریاضی کے سبق کے دوران ایک بچی سے پوچھا، ”تم کچھ پوچھنا چاہتی ہو؟“

بچی نے جھجکتے ہوئے کہا، ”سر، اگر زیرو کچھ نہیں ہوتا تو زیرو کو لکھنے کا فائدہ کیا؟“ پوری کلاس ہنس پڑی، لیکن استاد مسکرایا اور کہا:

” تم نے وہ سوال کیا ہے جو صدیوں تک فلاسفہ، ریاضی دانوں اور دانشوروں کے ذہن میں گونجتا رہا۔ آج ہم ریاضی نہیں، ’کچھ نہ ہونے کی طاقت‘ پڑھیں گے۔“

اُس دن وہ کلاس صرف زیرو پر گفتگو کرتی رہی اور وہ بچی کبھی دوبارہ نہیں جھجکی۔ یہی لمحے ہوتے ہیں جہاں علم صرف مضمون نہیں رہتا، بلکہ تجربہ بن جاتا ہے۔

OECD Report on Student Inquiry، 2020 کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جو طلبہ سوال کرتے ہیں وہ نہ صرف زیادہ سیکھتے ہیں بلکہ ان کی تجزیاتی (critical thinking) اور تخلیقی (creative thinking) صلاحیتیں بھی بہتر ہوتی ہیں۔

سوال کی فصل کیسے اگائیں؟

اگر اساتذہ، والدین اور تعلیمی ادارے واقعی علم کی روشنی پھیلانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بچے سوال کریں، تو ہمیں پہلے اُنھیں ”محفوظ ماحول“ دینا ہو گا۔ ایسا ماحول جہاں ان کے سوالات کو اہمیت دی جائے، ان پر ہنسا نہ جائے اور ہر سوال کو سیکھنے کا ایک قدم سمجھا جائے۔ اساتذہ درج ذیل اقدامات سے بہتری لا سکتے ہیں :

1۔ سوالات کے لیے مختص وقت : اساتذہ کو تربیت دی جائے کہ وہ سوالات کو مثبت انداز میں لیں۔ Pre۔ service اور in۔ service training میں اس پہلو کو شامل کیا جائے۔ ہر تدریس کے آخر میں چار سے پانچ منٹ صرف سوالات کے لیے رکھے جائیں۔ یا پھر ہر ہفتے دو ہفتے میں ایک کلاس صرف سوال و جواب کے لیے ہو۔ بغیر کسی امتحانی دباؤ کے۔ طلبہ کے سوالات کو خوش دلی سے سنا جائے، چاہے وہ معمولی ہی کیوں نہ ہوں۔

2۔ غیر لفظی حوصلہ افزائی: بچے کی آنکھوں کی چمک یا چہرے کی الجھن کو محسوس کر کے خود سوال کرنے پر اُکسایا جائے۔ اساتذہ کو سکھایا جائے کہ وہ سوال پوچھنے کی روایت کی کیسے حوصلہ افزائی کریں، کیسے بات آگے بڑھائیں اور کیسے طلبہ کو کمرۂ جماعت میں بحث و مباحثے میں شامل کریں۔

3۔ انعام نہیں، اعتراف: طلبہ کے سوالات پر تنقید کی بہ جائے ہر سوال پر داد دی جائے، شاباشی دی جائے۔ تاکہ دیگر طلبہ کی ہمت بھی بندھے۔

4۔ سوالات کی نوٹ بک یا سوالات کی دیوار: طلبہ سے کہا جائے کہ اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالات ایک مختص کاپی میں لکھا کریں، تاکہ کبھی کوئی سوال ضائع نہ ہو۔ بلکہ کمرۂ جماعت میں ایک چارٹ پیپر یا بورڈ لگائیے اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کیجیے کہ وہ ہر روز اپنی سوچ کا کم از کم ایک سوال لکھیں اور چارٹ پیپر یا بورڈ پر چسپاں کریں۔ چاہے اسکول کا ہو یا زندگی کا، نصابی ہو یا غیر نصابی۔

استاد خود سوال کرے : جب استاد خود کہے ”کیا تم نے کبھی سوچا کہ۔“ تو طلبہ بھی سوالات میں دل چسپی لینے لگتے ہیں۔ یہ طریقہ ’گفتگو پر مبنی سیکھنے کا انداز‘ (Socratic Method) ہے جہاں استاد طلبہ سے مسلسل سوالات کرتا ہے تاکہ وہ خود جواب تک پہنچیں۔

سوال، معاشرے کی تعمیر کا ستون

سوال کرنا صرف تعلیم کا جزو نہیں، یہ زندگی کی علامت ہے۔ جو معاشرے سوال کی اجازت نہیں دیتے، وہ سوچنے سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ جس معاشرے میں سوال کرنے کی عادت ہو، وہاں تعصب نہیں پنپتا، تقلید اندھی نہیں رہتی اور شخصیتیں بے روح نہیں ہوتیں۔ اگر کسی بچے کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے تو یہ اس کے اندر ایک علم دوست روح کی گواہی ہے۔ اسے دبانا نہیں، ابھارنا چاہیے۔ سوال وہ چراغ ہے جس سے اور چراغ جلتے ہیں اور پھر وہ چراغ دیگر ذہنوں کو منور کرتے ہیں۔ یاد رکھیے! جو قومیں سوال سے ڈرتی ہیں وہ جواب کے قابل بھی نہیں رہتیں۔

علم کا پہلا قدم سوال ہے اور جو سوال نہیں کرتا، وہ سیکھنے کی راہ پر نہیں بلکہ خاموشی کی دلدل میں پھنسا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو صرف جواب نہ دیں بلکہ اُنھیں سوال کرنے کی جرات دیں۔ کیوں کہ یہی وہ جرات ہے جو ایک عام طالب علم کو غیر معمولی بنا دیتی ہے۔ بچے صرف استاد کے جوابات سے نہیں، اپنی حیرت کے اظہار سے بھی سیکھتے ہیں۔ لہٰذا اگر ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جو روشن ہو، خودمختار ہو اور جدید دنیا میں کھڑا ہو سکے۔ تو ہمیں اپنے بچوں کو یہ کہنا ہو گا:

”پوچھو، سوال کرو۔ کیوں کہ تمہارے سوال ہی تمہیں وہ انسان بنائیں گے جو کچھ جاننا چاہتا ہے نہ کہ صرف وہ جو مان لیتا ہے!“

سوال کیجیے۔ کہ یہ سیکھنے کی سب سے سچی پہچان ہے۔

Facebook Comments HS