جدید ٹیکنالوجی، ایران اسرائیل اور ٹرمپالوجی


ہمارے ہاں کئی بار ایسا دیکھا گیا ہے کہ کسی نے دو بچے لڑا دیے اور بیٹھ گیا تماشا دیکھنے، دوران لڑائی جب تک اس کا پسندیدہ بچہ حاوی رہتا وہ خوشی سے کھیل جاری رکھتا اور جیسے ہی دوسرے بچے نے کوئی بھاری ہاتھ مارا تو کھیل ماسٹر تلملا اُٹھا اور ناپسندیدہ بچے کو خود سے ایک چپٹ جڑ کر مقابلے کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ بالکل ایسا ہی کھیل گزشتہ دو ہفتوں سے خلیج میں جاری تھا اور جب ایران نے لاڈلے بچے اسرائیل کو دو چار کراری چپیڑیں لگا دیں، امریکی صدر ٹرمپ نے فوری طور پر ایران کے ایٹمی مراکز پر دھاوا بول کر مقابلے کو خود سے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ لاڈلا بچہ بھی خوش، ایرانی مولوی بھی خوش کہ اُس اسرائیل کو دوچار مکے مارے ہیں جس کے چہرے کی طرف دیگر عرب ممالک دیکھنے سے بھی خوفزدہ تھے۔

دنیا بھر کے ایٹمی سائنسدانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو ملک ساٹھ فیصد یورینیم افزودہ کر لے اُس کے لیے نوے فیصد افزودگی کوئی مشکل کام نہیں۔ کچھ عرصے بعد ایران بھی رسمی دھماکے کر کے اگلی ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کردے گا۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ کس کو ایٹمی طاقت ہونا چاہیے کس کو نہیں۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ جب دو ہمسائے ایٹمی ہتھیار رکھتے ہوں تو پھر وہ آپس کی چھوٹی موٹی جنگوں کو نہیں روک سکتے کیوں کہ دونوں بخوبی آگاہ ہوتے ہیں کہ وہ کسی فیصلہ کُن لڑائی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس کی درخشندہ مثال ایٹمی پاک بھارت ہیں، جو شاید قیامت تک پراکسیز کی تیاریوں اور اُن کے استعمال کے ساتھ موجود رہیں گے اور نہ کھل کر ایک دوسرے کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرسکیں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کے وجود کو ختم کر پائیں گے۔ حالیہ تنازعے نے خلیج میں بھی اس ”یک رنگی“ کا خاتمہ کر دیا ہے اور جب ایران ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کردے گا تو یہ عمل مکمل ہو جائے گا۔ خطے میں مغربی طاقتوں کا لاڈلا اسرائیل بھی ایک کھینچ دی گئی حد میں رہے گا اور ایران کی قابل تقلید مثال دوسرے عرب ممالک میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کی خواہش بڑھا دے گی۔ ٹرمپ تاریخ کا حصہ بن جائے گا ہو سکتا ہے ایک آدھ نوبل انعام بھی اس کو مل جائے، پھر اگلے ٹرمپ نما صدور یہ دیکھیں گے کہ خلیج میں فرقہ ورانہ ایٹمی کشیدگی سے امریکہ کس حد تک فوائد اور طاقت کشید کر سکتا ہے۔

یہ بات ماننے میں کوئی عار نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور تازہ ترین کمیونیکیشن آلات کی آمد اور استعمال نے تاریخی انسانی تدبر اور سمجھداری کو زک پہنچائی ہے۔ جدید ترین ماحول میں ذہنی طور پر پسماندہ اور تنک مزاج لوگوں کی اکثریت کو جنم دیا ہے اور روایتی جمہوری تصورات کے ساتھ ساتھ ممالک میں قائدانہ وضع داری کا تیزی سے خاتمہ کیا ہے۔ اس کی روشن مثال امریکی صدر ٹرمپ ہے جو نہ صرف کئی ملین امریکیوں کی زندگیوں پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے بلکہ اربوں انسانوں کی حامل اس دنیا کے ساتھ جو چاہے جب چاہے کر سکتا ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں ٹرمپ ایک مکمل جمہوری نظام میں جمہوری طریقے سے اس منصب پر پہنچنے والا سیاسی لیڈر ہے۔ جو بات کسی نارمل امریکی شہری کی سوچ میں بھی نہیں آ سکتی ٹرمپ وہ کر گزرے گا اور پوری دنیا میں موجود اس کے اتحادی چاہیے اس کی موجودگی میں آپس میں طنزیہ کُھسر پُھسر کرتے رہیں، نہ صرف مانیں گے بلکہ ساتھ بھی دیں گے۔ ایسی ہی ایک نسبتاً چھوٹے درجے کی مثال ہمارے پڑوس میں مودی صاحب ہیں، ٹرمپ جیسی کئی عادتیں چیخ چیخ کر اِن میں اپنی موجودگی کا پتہ دیتی رہتی ہیں اور وہ گاہے بگاہے اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے اپنے ملک میں کئی درجن چھوٹے چھوٹے ٹرمپ پائے جاتے ہیں، جن کے ہاں وہی خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں لیکن اُن کی سیاسی و سماجی حیثیت مسلم ہے اور وہ کامیابی کے ساتھ طاقت اور اقتدار کی دوڑ میں شامل ہیں۔

دنیا جو آئے دن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے لیس ہو رہی ہے کیا ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں محفوظ ہوگی؟ دنیا میں پہلے سے موجود تنازعات اور دشمنیاں کیا رخ اختیار کریں گی اور مہلک ٹیکنالوجی انسانوں کی زندگیوں کو کس قدر جہنم بنا دے گی؟ یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ موجودہ حالات میں دنیا میں برداشت اور قائدانہ تدبر کے اجزاء جو قدرتی طور پر انسانیت کا ورثہ ہیں، اُن میں کوئی واضح جُنبش محسوس کی جائے گی اور نئی قیادتیں اپنے اپنے معاشروں میں اس کی ضرورت کا احساس کریں گی۔ اس میں شک نہیں کہ آج بھی لاتعداد ایسے ممالک اور سماج موجود ہیں جہاں شعور، سچائی، دیانتداری اور برداشت پوری قوت کے ساتھ موجود ہے، لیکن کیا ایسی کوئی صورت حال مستقبل قریب میں نظر آ رہی ہے کہ باقی کی دنیا بھی اِن سے مستفید ہوگی یا اثر لے گی؟ عالمی سطح پر اس نوعیت کی تبدیلی کا آغاز خود امریکی سوجھوان کر سکتے ہیں اگر وہ اپنی موجودہ قیادت کی طنابیں کھینچنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے۔ لامحالہ طور پر امریکی صدر کے مزاجاً پارہ صفت ہونے کا خود امریکیوں کو بھی ادراک ہے اور کچھ جاندار آوازیں ٹرمپ کے خلاف وہاں سے اُٹھ رہی ہیں۔

اگر واقعی ایران اسرائیل جنگ کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور خطے میں حالات بہتر ہوتے ہیں تو امکان ہے کہ غزہ میں بھی حالات بہتر ہوں گے اور اسرائیل کے اندر یہ سوچ پروان چڑھے گی کہ اس ملک کو کس قسم کی قیادت کی ضرورت ہے۔ عرب ممالک میں بھی شاید کچھ تبدیلیاں سامنے آئیں اور خطے کو ایک بہتر متوازن قیادت ملنے کے امکانات پیدا ہوں۔ لیکن ابھی تک یہ صرف توقعات اور اندازے ہیں، اصل صورت حال کیا ہوگی اور ٹرمپ، نیتن یاہو اقسام کے اذہان کس حد تک عدم استحکام اور بربادی کی کاشت کرتے ہیں، اس کے بارے میں ابھی سے حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔ اس جنگ کے بعد ایران کس قسم کی حکمت عملی اپناتا ہے اور خلیج میں موجود کشیدگی کہاں جاکر ٹھہرتی ہے، ابھی سے اِن سوالوں کا جواب ناممکن ہے۔ لیکن اس سارے ہنگامے میں ایک بات واضح ہوئی ہے کہ طاقت اور ردعمل نے نئے سرے سے اپنی اپنی تعریف متعین کی ہے۔ منہ زور اور کمزور سمجھے جانے والوں کے بارے میں تصورات تبدیل ہوئے ہیں۔ پھولے نہ سمائے پھرنے والے عالمی قائد اور جمہوریت کے چیمپئن امریکہ کے ووٹروں کے انتخاب پر اہم نوعیت کے کئی سوالات اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم جو ملکی سطح پر یوٹرن دیکھنے کے عادی تھے عالمی سطح پر تاریخی یوٹرن دیکھ رہے ہیں اور شاید اب یہی بنی نوع انسانیت کی قسمت ہے جو تیزی کے ساتھ مخبوط الحواس قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں آ رہی ہے۔

Facebook Comments HS