وے صورتیں الہٰی کس ملک بستیاں ہیں


میں نے انٹر کیا تو ابا نے کسی سے کہلوا کر ریلوے میں کلرک بھرتی کروا دیا۔ کہنے لگے بیٹا کام کرو اور تعلیم مکمل کرلو۔ ریلوے جنرل سٹور میں پوسٹنگ ہوئی جہاں میرے ساتھ 25 لڑکے اور بھرتی ہوئے تھے۔ اونچی اونچی دیواروں سے گھرے ہوئے جنرل سٹور کے اندر ایک دنیا آباد تھی جہاں سے پورے پاکستان میں ریلوے کے ہر دفتر میں استعمال ہونے والی اشیاء سپلائی کی جاتی تھیں۔ انگریزوں نے بڑی پلاننگ کے ساتھ اس چار دیواری کے اندر جگہ جگہ مختلف شعبے قائم کیے تھے۔ عمارتیں پرانی ہو چکیں تھیں لیکن ان کی حفاظت کی جا رہی تھی۔ اس زمانے میں ریلوے پاکستان کے سب سے بڑے روزگار مہیا کرنے والے ادارے کے طور پر جانا جاتا تھا۔

جس شعبے میں میری پوسٹنگ ہوئی وہ ایک ایسی بلڈنگ تھی جس کے دو حصے تھے۔ ایک حصے میں سٹاف بیٹھتا تھا اور دوسرے حصے میں گودام تھا جس میں پورے پاکستان میں استعمال ہونے والی سٹیشنری دستیاب تھی۔ انگریز جو بلڈنگ بناتے اس کی چھت اونچی رکھتے تھے۔ پنکھے ابھی تک ڈی سی چل رہے تھے۔ اونچی چھتیں ہونے کی وجہ سے گرمیوں میں ٹھنڈک رہتی تھی۔ جو شعبے کے انچارج تھے ان کا دفتر الگ ہوتا تھا جس میں ٹیلیفون کی سہولت بھی موجود تھی۔ اس زمانے میں ایک بٹ صاحب ہمارے انچارج تھے۔ چاچا محمد دین اسی دفتر میں بیٹھ کر لڑکوں کی شکایات لگاتے تھے اور وہ بھی بڑے سائنسی طریقے سے۔ بٹ صاحب سے کہتے ”پتر آفتاب صبح 10 بجے سے باہر گیا ہوا ہے، اب 1 بجنے والا ہے ابھی تک واپس نہیں آیا۔ اللہ خیر کرے“ ۔ اس طرح دفتر سے کسی نہ کسی لڑکے کی غیر حاضری کی اطلاع بٹ صاحب کے گوش گزار کر کے اپنا ’فرض‘ پورا کر دیتے۔ دوسری طرف بٹ صاحب ہم لڑکوں کے خیال میں کچھ ’ڈرپوک‘ سے تھے۔ یا رکھ رکھاؤ والے آدمی تھے۔ زیادہ باز پرس نہیں کرتے تھے۔ ہم نے چاچا محمد دین کا نام ”اللہ خیر کرے“ رکھ دیا تھا۔

مشتاق نیا نیا بھرتی ہوا تو بڑے محنتی بچے کی طرح آتے ہی کام میں جُت جاتا۔ ہم لڑکے دوپہر کا کھانا کھانے جا رہے ہوتے تو وہ کام میں مگن ہوتا۔ ایک دن میں نے پوچھا کہ کہاں سے آتے ہو۔ کہنے لگا شاہدرہ سے سائیکل پر آتا ہوں۔ میں نے کاغذات کے جو دو چار پلندے اس کے پاس چھ مہینے کی بیک لاگ کے طور پر پڑے ہوئے تھے وہ اسے کہا اپنے سائیکل کے کیرئیر پر رکھے اور راوی دریا کے پل سے گزرتے ہوئے پھینک دے۔ کہنے لگا ”نہیں نہیں یار میرے خلاف ایکشن نہ ہو جائے“ ۔ میں نے کہا ”کُش نہیں ہوندا (کچھ نہیں ہوتا)“ ۔ چنانچہ اس نے وہ بنڈل راوی میں پھینکے اور ہمارے ساتھ ہی کھانا کھانے کے لئے جانے کے قابل ہو گیا۔

یہاں کی زندگی تعلیمی دور کی زندگی سے یکسر مختلف تھی۔ صبح دفتر آنا، حاضری لگانا اور پھر کام شروع کر دینا۔ شروع شروع میں بہت محنت سے کام کیا پھر آہستہ آہستہ سب لڑکے ’خلیفے‘ بنتے گئے۔ ہمارے ساتھ کام کرنے والے بابے انگریزوں کے زمانے کے بھرتی شدہ تھے اور ان کے مزاج بھی الگ طرح کے تھے۔ اکثر ناک بھوں چڑھاتے کہ نیو جنریشن نے ’پر امن ماحول‘ کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔

ہم نئے لڑکے بھرتی کیا ہوئے تھے کہ جس ڈیپارٹمنٹ میں ہم گئے وہاں ہلچل مچا دی۔ سب نے ایک دوسرے سے یاریاں لگا لیں اور ڈیپارٹمنٹ دفتر کی جگہ پکنک پوائنٹ بنتا گیا۔ اس زمانے میں ریلوے جنرل سٹور میں گہما گہمی ہوتی تھی۔ ہر طرف ملازمین ادھر ادھر بھاگتے دوڑتے نظر آتے۔ ہریالی تھی۔ درخت تھے۔ وہاں کی کینٹین میں بھی رش ہوتا تھا۔ کوئی ’ٹیم‘ کھانا کھا رہی ہوتی، کہیں کچھ لوگ باہر سبزے پر بیٹھے چائے اور بسکٹ اڑا رہے ہوتے۔ کچھ لوگ گپیں لگا رہے ہوتے۔ ہم سب عام گھروں کے لوگ تھے۔ سب لا ابالی اور کھلنڈرے تھے جنہیں مستقبل کی کوئی فکر نہیں تھی۔ سارا دن ہنسی مذاق اور لطیفے چلتے رہتے تھے۔ میری طبیعت بھی ’بحال‘ ہونا شروع ہو گئی تھی۔

یہاں کے بزرگ اگر بڑے بڑے کریکٹرز تھے تو لڑکوں میں کریکٹر ایکٹرز تھے۔ ہم لڑکوں میں سب سے بڑی ”ایٹم“ معراج دین تھا۔ بھوگیوال باغبانپورہ کا رہنے والا۔ اس کی ہر بات گالی سے شروع ہوتی اور گالی پر ختم ہوتی۔ مجھے گالیوں کی عادت نہیں تھی۔ کئی بار اسے نیچے گرا کر آس کے اوپر بیٹھ جاتا۔ وہ نیچے سے گالیاں دے کر کہتا کہ ”اب چھوڑ بھی دے“ ۔ میری ہنسی نکل جاتی۔ اب کبھی کبھی فون آ جاتا ہے۔ جوانی کی طرح چلبلا ہے۔ وقت نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا۔

نئے لڑکوں میں آصف نوید سب سے سلجھا ہوا لڑکا تھا۔ کسی پڑھی لکھی فیملی سے تعلق تھا۔ ہم دونوں گھنٹوں بیٹھ کر قسمت سے ”گلے شکوے“ کرتے رہتے کہ کہاں پھنس گئے ہیں۔ پھر دبئی سے اس کا ویزہ آ گیا۔ ایک دو بار ملنے کے لئے آیا تھا اور پھر دنیا کی بھیڑ میں کہیں گم ہو گیا۔ ایک محترم مولوی عزیز تھے۔ گانے کے شوقین اور اللہ نے انہیں گلا بھی خوبصورت دیا تھا۔ محل فلم کا گانا ”مشکل ہے بہت مشکل! چاہت کا بھلا دینا“ اتنا ڈوب کر گاتے کہ سماں باندھ دیتے۔

ایک دن لڑکوں نے صلاح کی کہ ریلوے میں لیبر یونین ہے۔ کلرکوں کی یونین بھی ہونی چاہیے۔ چنانچہ ہم سب نے اس سلسلے میں ایک میٹنگ کی اور قسمیں کھائیں کہ جب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے، یہ میٹنگ راز رہے گی۔ میٹنگ کے بعد ہم لوگ آفس سے باہر کھانا کھانے چلے گئے۔ واپس آرہے تھے تو ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کا ایک بندہ سامنے سے آ رہا تھا۔ ہنس کر بولا اب تو یونینیں بن رہی ہیں۔ اس زمانے میں موبائل فون بھی نہیں تھے۔ لڑکے بھی سب ساتھ ساتھ تھے۔ کس نے اطلاع دی یہ بہت بڑا سوالیہ نشان تھا۔ لیکن جو نفسانفسی، افراتفری، مار دھاڑ، لالچ اور خود غرضی آج نظر آتی ہے یہ نہیں تھی۔

ایک دن چاچا محمد دین لڑکوں کے ہاتھ دیکھ کر مستقبل کی پشین گوئیاں کر رہے تھے۔ میں نے بھی ہاتھ آگے کر دیا۔ ہاتھوں کی انگلیاں دیکھ کہنے لگے ایک۔ دو۔ تین۔ چار۔ پانچ۔ چھ۔ سات۔ پھر یک دم کہنے لگے۔ ”اوئے تم تو وزیر اعظم بن جاؤ گے؟“ اس کے بعد آٹھویں، نویں اور دسویں انگلی پر کہنے لگے۔ نہیں۔ تم وزیراعظم تو نہیں بنو گے لیکن ریلوے میں نہیں رہو گے۔ اب کبھی کبھی سوچتا ہوں ریلوے چھوڑ کر شاید میں کہیں کا نہیں رہا۔ ہر اخبار والے نے میرے پیسے کھائے ہیں۔ اخبار نے تنگدستی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ وہاں بڑھاپے میں کم از کم پینشن تو مل ہی جاتی۔

کچھ عرصے پہلے جی چاہا کہ جنرل سٹور جاؤں۔ شاید کوئی پرانا دوست مل جائے۔ جہاں کبھی ہلچل تھی، گہما گہمی تھی، بھاگ دوڑ تھی، وہاں ویرانیاں چھائی ہوئیں تھیں۔ عمارتیں بوسیدہ ہو کر ٹوٹ رہیں تھیں۔ کچھ عمارتیں گر چکی تھیں۔ کینٹین عرصہ دراز ہوا بند کر دی گئی تھی۔ سٹیشنری ڈپو کی عمارت کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی تھی۔ سبزہ سوکھ چکا تھا۔ ایک حصے میں چند لوگ بیٹھے کام کر رہے تھے جو سارے کے سارے بعد میں بھرتی ہوئے تھے۔ آوازوں کا ہجوم تھا جو میرے کانوں میں شور مچا رہا تھا۔ کبھی میرے کانوں میں چاچا محمد دین کی آواز گونجتی، کبھی بٹ صاحب کی، کبھی مولوی عزیز کی، کبھی مشتاق کی۔ کبھی کسی اور کی۔ ان میں سے کوئی بھی اس دنیا میں موجود نہیں تھا۔ میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا۔ یہ دنیا واقعی دارفانی ہے۔ ایسے لگ رہا تھا میرا چمن تھا جو خزاں کی نذر ہو گیا۔ ایک ہرا بھرا باغ تھا جو اجڑ گیا تھا۔ ہر طرف ویرانیاں ہی ویرانیاں نظر آ رہیں تھیں۔ جہاں کبھی قہقہے گونجتے تھے وہاں کی دیواریں، سڑکیں اور پیڑ اپنی کم مائیگی اور بے ثباتی پر نوحہ خوانی کر رہے تھے۔ میرا دل غم سے بھر گیا۔ آنکھوں میں شدت سے آنسو امڈ آئے جو میں نے اندر ہی اندر جذب کر لیے۔ لیکن گھر پہنچا تو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔

Facebook Comments HS