تختی، چاک، اور لاٹھی کا نیا نصاب
”ابھی سورج نے شہر پر پوری طرح روشنی بھی نہیں ڈالی تھی کہ مظاہرین جمع ہونا شروع ہو گئے۔ خواتین ہاتھوں میں پلے کارڈز تھامے ہوئے، ریٹائرڈ ملازمین چھڑیوں کے سہارے کھڑے، اور سفید شلوار قمیض میں ملبوس اساتذہ خاموشی سے انصاف کے نعرے لگا رہے تھے۔ کچھ ہی گھنٹوں میں پُرامن دھرنا ہنگامے میں تبدیل ہو گیا۔ پولیس کے اہلکاروں نے، جو مکمل حفاظتی لباس میں تھے، علاقے پر دھاوا بول دیا۔ لاٹھیاں چلنے لگیں۔ آنسو گیس کی شیلنگ شروع ہو گئی۔ ایک پچاس سالہ استاد۔ جس نے سرکاری کالج میں تیس برس خدمات انجام دی تھیں۔ کے سر پر لاٹھی پڑی اور وہ سڑک پر گر کر بے ہوش ہو گیا۔ اس کا واحد جرم؟ آٹے کی قیمت کے برابر تنخواہ کا مطالبہ۔ کیمرے یہ ظلم ریکارڈ کرتے رہے، مگر حکومت کی خاموشی ان چیخوں سے کہیں زیادہ گونج دار تھی۔“
یہ منظر تھا میزان چوک کوئٹہ کا جہاں حکومت نے انصاف، اخلاقیات اور انسانیت کو ڈنڈوں اور پولیس گردی سے ہانکنے کی کوشش کی، اور آمرانہ سوچ کی عکاسی میں ایک درجے اور اوپر جانے کی کوشش کی۔ فقط اس لئے کے ملازمین تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے جو ایک جائز اور جمہوری مطالبہ اور مملکت خداداد کے آرٹیکل 16 اور 17 میں درج ہے کہ ”ہر شہری کو پرامن اجتماع کا حق حاصل ہو گا، بشرطیکہ قانون کے تحت عائد کردہ مناسب پابندیوں کی خلاف ورزی نہ کرے۔“
اور آرٹیکل 17 میں ہے کہ ”ہر شہری کو انجمن سازی یا یونین قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔“
1۔ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ (Universal Declaration of Human Rights۔ UDHR) کے آرٹیکل 23 اور 20 کے مطابق ”ہر شخص کو کام کرنے، آزادانہ پیشہ اختیار کرنے، منصفانہ اور سازگار حالاتِ کار اور بے روزگاری سے تحفظ کا حق حاصل ہے۔“
”ہر شخص کو بغیر کسی امتیاز کے برابر کام کے لیے برابر اجرت کا حق حاصل ہے۔“ اور آرٹیکل 20 کے مطابق ”ہر شخص کو پُرامن طور پر اجتماع کرنے اور تنظیم بنانے کا حق حاصل ہے۔“
لیکن ان سب کے باوجود حکومت بجائے قانون کے بزرگ شہریوں کو لاٹھیوں اور شیلوں کی نظر کر رہی ہے۔ فقط اس لئے کہ جس جمہوریت کے سہارے بزرگ شہری حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں وہ جمہوریت بھٹو کے وارثوں کے ہاتھوں کب کی لاڑکانہ میں دفن ہو چکی ہے۔
ملازمین اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ سرکاری نمائندگان اپنے تنخواہ اور مراعات میں چھ سو فیصد اضافہ کرتے ہیں اور ہمارے تنخواہ میں 6 فیصد جو مہنگائی کے حساب سے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے لیکن وہ شاید انیمل فارم کا ایک رول بھول جاتے ہیں کہ ”تمام جانور برابر ہیں، مگر کچھ جانور دوسروں سے زیادہ برابر ہیں“ جتنی جلدی باکسروں کو اپنا رول سمجھ آئے اتنا اچھا ہے کیوں کہ نپولین کہ پاس فقط ایک ہی رول ہے۔ تشدد اور استحصال۔ آج کے بلوچستان میں اساتذہ ہی ہمارے ”باکسر“ ہیں۔ جنہوں نے قوم کے لیے دن رات کام کیا، مگر اب جب وہ حق مانگتے ہیں، تو ان پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں۔ انھیں پابند سلاسل کیا جاتا ہے۔ ریاست کا رویہ ”نپولین“ سے کم نہیں۔ وہ کردار جو عوام کے نام پر انقلاب لاتا ہے، مگر بعد میں عوام پر ہی حکومت کرتا ہے۔ اور وہ بھی آمرانہ طرز پر۔
گزشتہ کچھ سالوں سے حکومت نے ہر معاملہ کو ڈنڈے کے زور پر حل کرنے کا وتیرہ اختیار کیا ہے، جن معاملات میں بات چیت ضروری ہے وہاں بھی لاٹھی کی زبان سے بولا جاتا ہے اور شیلوں سے معاملات سدھارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور دن بدن صوبہ ایک چمنستان سے زیادہ کالا پانی بنتا جا رہا ہے۔
آج ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں تنخواہ کا مطالبہ ریاست کے خلاف سازش سمجھا جاتا ہے، اور ووٹ خریدنے کے لیے خزانہ حاضر رہتا ہے۔
وزیر کی تنخواہ بڑھانے کا بل چند منٹ میں پاس ہو جاتا ہے، مگر استاد کی تنخواہ کے لیے سال ہا سال کی فریاد بھی ناکافی ہے۔ شاید اسی لیے اب ہمیں آئین کے آرٹیکل 25 میں ترمیم کر کے یہ لکھ دینا چاہیے :
”تمام شہری برابر ہیں، لیکن کچھ شہریوں کو لاٹھی سے سیدھا کیا جائے گا۔“
اور جنہیں لاٹھی سے سیدھا کیا جائے گا وہ فقط پڑھائیں گے نیا نصاب۔ تختی، چاک، اور لاٹھی کا نیا نصاب۔


