شک کا دھواں
شہر کے آسمان پر ہر شام سرخی کے ساتھ ایک اجنبی بادل آتا تھا۔ نہ وہ بارش برساتا، نہ چھاؤں دیتا، بس فضا کو یوں دھندلا دیتا جیسے کوئی پرانا زخم، جو ہر رات یاد دلاتا ہے کہ وہ ابھی بھرا نہیں۔ وقت کے ساتھ اس بادل کا رنگ گہرا ہوتا گیا، یہاں تک کہ وہ سورج کی روشنی پر بھی سوالیہ نشان بننے لگا۔
یہ شہر کئی صدیوں سے سانس لے رہا تھا۔ کبھی سرکشی کی صدائیں، کبھی بیعت کی سرگوشیاں۔ یہاں کے میناروں سے بلند ہونے والی صدائیں اب صرف عبادت کی نہیں رہیں، وہ فکری بیداری کی آواز بن چکی تھیں۔ مگر اب ان گلیوں میں فقط خامشی تھی۔ ایسی خامشی جس میں ہر لفظ ایک نم زدہ پتھر بن چکا تھا۔ ہر اینٹ میں کوئی دبی ہوئی چیخ، ہر کھڑکی میں ایک رکی ہوئی سانس۔
یون ایک نوجوان تھا، جو بھٹکے ہوئے جملے چنتا اور دھند میں راستے تلاش کرتا تھا۔ وہ انہی گلیوں میں پلا بڑھا۔ اس کے باپ نے ایک دیوار پر لکھا تھا: ”سوال کرنا گناہ نہیں، ثبوت مانگنا فرض ہے۔“ مگر وہ تحریر وقت کے ساتھ مٹ چکی تھی، جیسے سوال خود مٹتے جا رہے ہوں۔
یون کی آنکھوں میں ایک دائمی دھند تھی، جیسے وہ اندر کی روشنی کو باہر لانے کی تگ و دو میں ہو۔ جب اس نے بچپن میں پہلی بار آئینہ دیکھا، تو اپنے سائے کے پیچھے ایک دھندلا عکس دیکھا جو نہ وہ خود تھا، نہ اجنبی۔
اس کا ماننا تھا کہ کچھ دھواں ایسا ہوتا ہے جو پہلے اٹھتا ہے، اور حادثہ بعد میں جنم لیتا ہے۔
وقت گزرتا گیا۔ شہر کی فضاؤں میں وہی دھند، وہی بادل، اور وہی ماضی کا عکس ہر شام اترتا۔ جب بھی پردے کے پیچھے سے کوئی اعلان ابھرتا، ہجوم تالیاں بجاتا، مگر یون کی روح میں ایک ہچکی گونجتی۔
”کیا یہ عکس وہی ہے جو دکھایا جا رہا ہے، یا وہ جو چھپایا گیا ہے؟“
اسی دوران نوم آئی، پرانی کتابوں کے بورے کے ساتھ، اور آنکھوں میں وہی دراڑ جو یون کی آنکھوں میں تھی۔ وہ خود کو نوم کہتی تھی۔ ایک ایسا نام جو کسی خانے میں نہیں آتا۔ ایک ایسا لہجہ جو کسی خاص خطے سے جُڑا نہیں، جیسے صدیوں کی خامشی بولنے لگی ہو۔
نوم نے کہا، ”کئی شہر شعلوں میں گم ہوئے، نعرے بدلے، پرچم جلے، مگر آخر میں صرف دھند بچی۔ جب گرد بیٹھنے دو، تب ہی بھولا ہوا نقش ظاہر ہوتا ہے۔“
یون نے پوچھا، ”اگر گرد بیٹھنے کا وقت ہی نہ آئے تو؟“
نوم نے جواب دیا، ”پھر گرد ہی راستہ ہے۔ ہمیں اسی میں چراغ جلانے ہوں گے۔“
یون اور نوم نے خفیہ دھاگوں سے نئے پتے بُننے شروع کیے۔ وہ سرگوشیاں جو سرکاری قصوں سے گریں، وہ ٹوٹی گھنٹیاں جو دیواروں پر ابھرنے کو ترستی تھیں، انھیں اکٹھا کیا۔ راتوں کو دیواروں پر اجنبی علامتیں ابھرنے لگیں۔ مثلثوں میں چھپے سوال، دائروں کے اندر خاموش چیخیں، اور لکیروں کے ساتھ تاریخ کے وہ ٹکڑے جنہیں مٹا دیا گیا تھا۔
افواہ پھیلی کہ ایک خاموش جنگ جاری ہے۔ توپیں خاموش ہیں، مگر ذہنوں پر گولے برس رہے ہیں۔ ہر سوچ، ہر خامشی، ایک مشکوک آہٹ بن چکی تھی۔ لوگ بولنا بھول گئے، بس خالی آنکھوں سے دیکھنے لگے۔
پھر ایک رات، شہر کے مینار پر ایک جملہ ابھرا۔ ”جب عکس آئینہ چوری کر لے، تب دھند ہی سچ ہوتا ہے۔“
نوم کو شہر بدر کر دیا گیا۔ خامشی لوٹ آئی، مگر اس بار اس کا سایہ اور گہرا تھا۔
سال بیت گئے۔ نئی نسل نے ان سرگوشیوں کو کہانیوں کی صورت میں یاد رکھا۔ لائبریریاں بند کر دی گئیں، کتابیں جلا دی گئیں، مگر کچھ پتے مٹی میں دفن ہو کر خوشبو بن گئے۔
کسی دن، کسی خستہ حال لائبریری کی تہہ میں ایک زرد صفحہ ملا، جس پر لکھا تھا،
”یہ شہر گواہی دیتا ہے کہ عکس کبھی دھماکے سے نہیں آتا، وہ دھند بن کر آتا ہے، سانسوں کو روکتا ہے، اور پھر کہیں جا کر خفیہ دھاگے میں بدلتا ہے۔“
اس کے ساتھ ایک مہر تھی۔ نہ ریاست کی، نہ کسی تحریک کی۔ صرف ایک دھندلا دائرہ جس کے اندر تین نقطے تھے۔
پھر پرانے چہرے واپس آنے لگے۔ وہ جنھیں دفن کر دیا گیا تھا، اب یادداشت کے دریچوں سے جھانکنے لگے۔
ایک جرنیل نمودار ہوا۔ اس کی وردی پر مٹی تھی، مگر آنکھوں میں شعلے تھے۔
”مجھے جنگ نے نہیں، خامشی نے مارا۔“
ایک سائنسدان کی تصویر ظاہر ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں شیشہ تھا جس میں دھند جما دی گئی تھی۔
”جن سوچوں کو دفن کیا گیا، وہ اب بھٹک کر لوٹ رہی ہیں۔“
پھر ایک دن اعلان ہوا، ”جنگ ختم ہو گئی ہے۔“
شہر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پرچم دوبارہ بلند ہوئے۔ مٹھیوں میں امید کے بیج تھے۔
مگر نوم نے کہیں سے ایک پیغام بھیجا۔
”جنگ ختم ہو بھی جائے، سازشوں کے جال پھر بھی بنتے ہیں۔ کیونکہ اصل لڑائی سوچوں کی ہوتی ہے، اور سوچ کو خاموشی سے مارا جاتا ہے، بغیر گولی کے۔“
یہ پیغام دیواروں پر پھیل گیا، اور کچھ آنکھیں جو بند تھیں، کھلنے لگیں۔
ایک شاعر نے کہا، ”لفظوں کو قید کر دو، تو وہ خوابوں میں بولنے لگتے ہیں۔“
ایک بچہ، جس نے یون کی تحریر چپکے سے پڑھی تھی، دیوار پر لکھنے لگا۔
”ہچکیاں گونجتی ہیں، تو دھواں صرف دھواں نہیں رہتا، وہ روشنی کے پتے بن جاتا ہے۔“
شہر کے بلند مینار پر ایک رات سرگوشی گونجی۔
”چراغ کبھی نہیں بجھتا، بس آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔“
اور جب آنکھیں کھلتی ہیں، تو دھند میں بھی راستے دکھائی دینے لگتے ہیں۔
اب ہر پرانا عکس، ہر بھولا ہوا حرف، کسی ہچکی کی صورت لوٹ رہا ہے۔ دھند چھٹ رہی ہے، مگر ہر ہوا کے ساتھ وہی اندیشہ باقی ہے۔
کہ کہیں یہ ایک اور بادل نہ ہو، جو نہ بارش لاتا ہے، نہ چھاؤں، صرف شک کا دھواں۔


