کشمیر بنا درد کی تصویر


گزشتہ دنوں مجھے ”یومِ یکجہتی کشمیر“ پر خصوصی تحریر کا پیغام موصول ہوا۔ خیر جواب تو دیا۔ اور میں سوچ میں پڑ گئی کہ کیا لکھوں؟ یوِمِ یکجہتی کشمیر آ گیا ہے ہر سال کی طرح ایک عام تعطیل اور محض رسمی نعروں تقریروں سے پھر رخصت کر دیا جائے گا ہمیشہ کی طرح۔ ہماری عمر کے نوجوان بلکہ ہمارے ماں باپ بھی آزادی کے بعد کی نسل ہیں اور کشمیر کی خونی و سیاہ تاریخ اس سے بھی قدیم ہے۔ جب اس پر سکھ حکمران تھے اور بعد ازاں سازش کے تحت اسے ایک آزاد حیثیت دینے کی بجائے متنازعہ علاقہ قرار دے کر اس کے باشندوں اور خصوصاً مسلمانوں سے علی الاعلان نا انصافی کی گئی۔ کئی سالوں کی تاریخ بھارتی ظلم جور کی آپ گواہ ہے لیکن قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ اصل قیامت تو تب ٹوٹی جب 5 اگست 2019 ءکو بھارت نے اپنے قانون سے  شق نکال دی جس کے سبب کشمیر کو ایک خصوصی حیثیت حاصل تھی۔ یوں اس کی اصل شناخت کی بجائے متنازعہ حیثیت بھی چھین لی گئی۔ اور ظلم یہ کہ مزاحمت کے خوف سے پوری وادی کو محصور کر دیا گیا۔ محصور تو خیر برسوں ہی سے تھے لیکن اب ان کا سانس لینا بھی دوبھر ہو گیا۔

یہ تھی تمام صورتِ حال جو پچھلے دو سالوں میں پیش آئی۔ اس پر اگر تمام دنیا، عالمِ اسلام یا پاکستان کے ردِ عمل کا جائزہ لیں تو وہ انتہائی مایوس کن ہے۔ پہلے تو چند روز بہت ریلیاں نکلیں، جلسے، جلوس، احتجاج، دورے لیکن پھر سب تمام شد۔

اپنی حالت کا بطور فرد ہی جائزہ لیا جائے کہ کیا ہماری زندگی یا شعور کے کسی کونے میں نام بھی موجود ہے یا اس کے باشندوں کی تڑپ نے ہمارا دل دہلایا؟ تو جواب یقیناً نفی ہی میں ہو گا۔ میں نے جس دن آنکھ کھلتے ہی خبر سنی۔ میری تو مانو پیروں تلے زمین نکل گئی۔ بہت رنج اور شدید اذیت میں مبتلا ہو گئی۔ کئی بار کچھ آنسو ضبط دامن چھوڑتے ہوئے بہہ بھی نکلے، ڈائری لکھی ایک دو دن گزرا تو کیتھارسس ہو گیا۔

ابتدائی ایام میں تو میڈیا کوریج بھی خوب رہی۔ ہر طرف صرف ایک چیز ہی دیکھنے کو ملی۔ کہیں جلسے، ایوان میں تقریریں، قراردادیں، سیاستدانوں کا اظہارِ خیال، وہی بار بار گھسے پٹے جملے سننے کو ملے۔ کئی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے اجلاس بیٹھے لیکن حل ندارد۔

چند دن گزرے رفتہ رفتہ میڈیا کو بھی نیا موضوع مل گیا۔ اور مسئلہ ٔ کشمیر کہیں دھندلکوں میں گم ہو گیا۔

لیکن غور طلب بات ہے کہ جیسے ہی پانچ فروری کا دن آئے گا ہم یکجہتی کرنے آن کھڑے ہوں گے گویا پورے سال میں ہی صرف ایک دن یکجہتی کا۔ لیڈر بھی اپنی بوسیدہ تقریروں کے دو بول کہہ کر سٹیج سے اتر جائیں گے۔ مگر افسوس! صد افسوس! کبھی اس سٹیج اور ڈرامے کی طرف دیکھ کر دل دہل نہیں جاتا جو ازل سے کشمیروں کے ساتھ جاری ہے۔ اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو بس وقتی طور پر باقی پھر معمول پر۔

لیکن کبھی ان کی جگہ خود کو رکھ کر سوچا جائے کہ گھر میں بیمار ہو اور دوا لینے باہر نہیں جا سکتے، کرفیو ہے کھانا پینا حرام کر رکھا ہو، باہر تو خونی جنگ، گھروں میں بھی تحفظ نہیں، کسی کی ماں، بہن، بیٹی ہونا آزمائش سے کم نہ ہو، اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے پیاروں کو جان کی بازی ہارتے دیکھنا۔ یہ محض چیدہ چیدہ باتیں ہیں۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ درد وہی محسوس کر سکتا ہے جس پر گزری ہو۔ باقی محض اندازے ہی ہیں۔ ہمیں مارچ اور تقریروں کی بجائے عملی طور پر کچھ کرنا ہو گا۔ اس حق اور آزادی کی بات کرنی ہوگی جس کے عوض کئی پیارے رخصت ہوئے۔ لیکن بطور انسان یا مسلمان ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

دنیا میں بھی عجب دہرے معیار ہیں یورپ والے جانوروں کی نسل کشی پر کئی قانون بنا لیں گے ان پر عمل درآمد بھی نظر آئے گا لیکن اگر بات کی جائے انسانوں کے قتلِ عام کی اور پھر مسلمانوں کی تو کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ لیکن اگر یہی بات کسی غیر مسلم یا ان کے اپنے بلاک کی ہو تو تمام ٹولیاں اکٹھی ہوجائیں گی۔ لیکن مسلمان چاہے روز مریں ان کی بلا سے۔

غیروں سے گلہ تو تب ہو جب اپنے ساتھ دیں۔ نام نہاد اسلامی ممالک نے غیر مسلم انتہا پسند ممالک جو کشمیر و فلسطین میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنائے ہوئے ہیں کے ساتھ تعلقات تمام گھناؤنی سازشوں کے دوران مزید مستحکم کرنے کا اعادہ کیا اور میل ملاقات جاری ہے۔ ایک آدھ اسلامی ملک کے علاوہ کسی نے اس ضمن میں، کشمیریوں کے حق میں بات کرنا ضروری نہیں سمجھا مبادا باہمی تعلقات میں کہیں بگاڑ پیدا نہ ہو جائے۔ جب ہم مذاہب لوگوں کا یہ عالم ہو گا تو غیر مسلموں سے کیا توقع ان کا تو مقصدِ اول ہی مسلمانوں کو زیر کرنا ہے جو کہ ہر میدان میں ہوتے ہوئے نظر بھی آرہے ہیں اور سونے پر سہاگہ آپس میں نفاق پہلے ہی موجود تھا بس اسے ہوا دینے کی ضرورت تھی سو دے دی گئی۔

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ کب تک ہم 5 فروری ”یومِ یکجہتی کشمیر“ کے طور پر مناتے ہوئے، کالم، مضمون تحریر کر کے خانہ پُری کرتے رہیں گے۔ اب لفظ نہیں رہے۔ اب قلم بھی آزادی کا نغمہ لکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی آزادی کی کہانی جن کے لیے ہمیشہ قلم کی نوک لہو سے تر ہی رہی۔ اب قلم قرطاس پر مزید خونی نقشہ کھنچنے سے قاصر ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ اب بس، بہت ہو گیا۔ ظلم اپنے عروج پر ہے جو اس کی بات کا عندیہ ہے کہ اس کا خاتمہ بھی کیا جائے۔ مگر حیرانی کا عالم ہے کہ ہم انسان اور خصوصاً مسلمان کب اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں گے۔ آخر کب؟

Facebook Comments HS