قدیم لکھنؤ اور عزاداری
قدیم ہندوستان میں اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ لکھنؤ ایک دل فریب اور گراں قدر تہذیب کا منبع نور سمجھا جاتا تھا۔ اس تہذیب نے گفتار و تکلم میں نئے اسلوب روشناس کروائے ہماری قدیم تاریخ اور تہذیب پر منضبط کتابیں لکھی گئیں اور حالات و واقعات کو قید کیا گیا لیکن ہندوستان کی تاریخ میں دلی والوں نے اپنی معاشرت کے بارے میں اچھا خاصا ذخیرہ محفوظ کیا لیکن لکھنؤ والوں نے اپنی روایت اور ثقافت کے بارے میں کسی قسم کی تدوین کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ عبد الحلیم شرر کی کتاب ”گزشتہ لکھنؤ“ اس معاشرت کے بارے میں عکاسی کرتی ہے مگر محدود کیونکہ اس تصنیف میں شاہی حالات کا ہی تذکرہ ملتا ہے۔ قدیم روایت کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا۔
شہادت امام حسین کی یاد میں تمام مسلمان محرم الحرام آتے ہی متاثر ہوتے ہیں اور سوگ مناتے ہیں۔ اودھ کی سلطنت کے قیام سے پہلے لکھنؤ میں بھی مسلمان محرم انتہائی عقیدت کے ساتھ مناتے تھے اور تعزیہ نکالتے جو کہ اسی زمانے کے رسم و رواج کے مطابق تھے اور اہم بات یہ کہ تعزیہ ہندوستانی چیز ہے۔
آصف الدولہ نے جب لکھنو کو دار الحکومت بنایا تو یہاں درباری مذہب شیعہ ہو گیا اور پھر دلدار علی کے مذہبی امور کا عہدہ سنبھالتے ساتھ ہی عزاداری کی ترویج کے لیے کئی اصطلاحات متعارف کروائیں جن میں جانوروں کی تصاویر اور ان کے مجسموں کو استعمال کرنا خلاف شرع قرار دیا، تعزیوں کے جلوسوں میں علم اور ذوالجناح کی شمولیت کو جائز قرار نہیں دیا، اس کی وجہ ان کی عوام میں مقبولیت مسلم تھی اور وہ چاہتے تھے کہ ان کی رعایا کے مذہبی رجحانات میں کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہ ہو۔ حرم اور عزاداری کا سلسلہ دس دن تک جاری رہتا تھا لیکن غازی الدین حیدر کی بیگم نے اس میں تبدیلیاں رونما کروائیں چونکہ وہ مذہبی خاتون تھی اور شیعت میں ان کے رجحانات ہندوؤں کے رسم و رواج سے کافی حد تک مطابقت رکھتے تھے یہ انہیں کا اثر ہے کہ بادشاہ نے محرم کے مراسم میں اضافہ کرتے ہوئے سوگ نشینی کی مدت کو بڑھا دیا جو کہ یکم محرم سے بیس صفر کر دی۔ نصیر الدین حیدری کو عزاداری اور احترام و سوگ نشینی کا اتنا شغف تھا کہ وہ ان ایام میں تاج شاہی سے پرہیز کرتا اور مور کے پروں سے بنا ہوا تاج استعمال کرتا تھا۔
واجد علی شاہ کو بھی محرم اور عزاداری سے اتنا انہماک تھا کہ وہ شب عاشور لوگوں کے گھروں میں جاتا تعزیہ خانوں کی زیارت کرتا اور ان پر چڑھاوا چڑھاتا اس طرح لکھنؤ کے گھر گھر میں عزاداری کا فروغ ہوا۔ ہر شہری محرم آتے ہی عزادار نظر آنے لگتا۔ واجد علی شاہ سبز لباس پہن لیتا اور اس کے بعد ان کے تمام ملازمین اور مستمکین سیاہ پوش ہو جاتے۔ ہندو شعرا مرثیے اور نوحے نظم کرتے تھے اور بعض ہندو تعزیہ داروں کے ساتھ اپنا لکھا ہوا کلام پڑھتے تھے۔ یہ کہنا غلط بھی نہ ہو گا عزاداری کے سلسلے میں جتنے رسم و رواج لکھنؤ میں رائج ہوئے ان کا عشر عشیر بھی کسی دوسرے ملک میں یہاں تک کہ کربلا میں جہاں روضہ امام حسین ہے کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔
شہر فیض آباد میں گلاب واڑی کے اندر شجاع الدولہ کا مقبرہ ہے تو دوسری جانب شد نشین پر امام باڑہ تھا جہاں بڑے پیمانوں پر مجلسیں ہوتی تھیں، شجاع الدولہ کی زوجہ جو بہو بیگم کے نام سے مشہور تھیں شہر سے باہر ان کا عالی شان مقبرہ تھا اور تہہ خانے کی چھت پر شہ نشین میں امام باڑہ تھا جس میں محرم کی ساتویں تاریخ کو جلوس بڑے دھوم دھام سے نکالے جاتے جس کی زیارت کرنے لوگ دور دور سے آتے تھے۔ آصف الدولہ نے لکھنؤ میں اپنے لیے پہلا امام باڑہ محلہ ٹھاکر گنج میں بنایا، پھر دوسرا امام باڑہ تعمیر کروایا جسے بڑا امام باڑہ کہا جاتا ہے اور اسی سے مشہور ہے اس عہد میں دو امام باڑے اور تعمیر کیے گئے ایک موسمہ کالا بہو بیگم یعنی آصف الدولہ کی والدہ محترمہ نے بنوایا اور دوسرا محلہ ٹھاکر گنج میں وزیر خزانہ راجہ جھاؤ لعل نے بنوایا جہاں آج بھی سال میں مخصوص عشرہ محرم منا یا جاتا ہے۔ غازی الدین حیدر نے عمار تشبیہ روضہ حضرت علی بنوائی اور ان کے جانشین نے ڈالی؟ گنج میں بیہرہا تعمیر کروائی۔ نصیر الدین حیدر کے دور میں شیعت کو فروغ حاصل ہوا۔ ان کی وفات کے بعد محمد علی شاہ نے اپنی خواب گاہ کے لیے وہی امام بارگاہ تعمیر کیا ہے جسے ”چھوٹا امام بارگاہ کہتے ہیں عظیم اللہ خاں نے بھی ایک کر بلا تعمیر کروائی جسے کربلا عباس کہتے ہیں۔ محمد علی شاہ کی صاحب زادی نے بھی ایک امام باڑہ بنوایا جس میں دنیا کا سب سے اونچا ممبر ہے۔ نواب سعید الدولہ نے تال کٹورہ کے قریب ایک کربلا بنوائی، ملکہ جہاں نے بھی ایک وسیع امام باڑہ تعمیر کروایا۔ محمد علی شاہ کے جانشین امجد علی شاہ نے سبطین آباد کا علاقہ قائم کیا اور وہاں وسیع و عریض امام باڑہ تعمیر کرایا، امجد علی شاہ کی بیگم نے محلہ عیش باغ میں ایک کربلا بنائی جو ملکہ کے نام سے موسوم ہوئی، اسی شہر میں آغا باقر ایرانی النسل تاجر تھے۔ انہوں نے یہاں امام باڑہ غفران تعمیر کرایا جس کی اپنی مکمل ایک تاریخ ہے اور دوسرے سوداگر کا نام باقر تھا۔ ان کا تعمیر کردہ امام باڑہ ان کے نام سے ہی منسوب ہے۔ لکھنؤ میں سب سے زیادہ مرجعیت کربلائے تال کٹورہ کو حاصل ہے کیونکہ یہاں شیعہ و سنی ہندو اور مسلمان سب ہی روز عاشورہ اور روز اربعین اپنے تعزیے دفن کرتے تھے اور اخوت و مساوات کی مثال قائم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
لکھنو کی قدیم معاشرت میں طوائفوں کا ایک بلند مقام تھا چنانچہ ان کے بہت سارے امام باڑے تھے۔ چودھرائن کا چوک میں امام باڑہ تھا اب یہاں دکانیں ہیں۔ نجا اور اللہ بندی کے امام باڑے، کنیز کے امام باڑے مشہور تھے۔ اس شہر میں اتنے امام باڑے تھے جن کی تعداد بتانا کٹھن ہے۔ اکثر امام باڑے اپنی نوعیت پر بھی باقی نہیں رہے ہر طبقہ کے لوگ کسی نہ کسی امام باڑے سے متمسک تھے۔
محرم کا چاند نظر آتے ہی ماحول بدل جاتا تمام لوگ سیاہ رنگ کے کپڑوں میں ملبوس نظر آتے خواتین خاص و عام تعزیہ خانے میں جا کر اپنے ہاتھوں کی چوڑیاں اور سب زیور اتار دیتیں اور گھروں میں ننگے کان اور ننگے ہاتھ رہنا پڑتا تھا۔ مرد عام طور پر بارہ محرم کے بعد پان کھاتے اور عقیدت و محبت کی مثال اس قدر ان کے ہاں ملتی ہے کہ بقول مرزا جعفر حسین محرم کے پہلے دس دنوں میں بعض خاندانوں کے ہاں بیماروں کا دوا علاج تک بند ہو جاتا ایسے مریض اپنے عقیدہ کی طاقت سے شفا یاب ہوتے۔ بعض خاندانوں میں بارہ دن تک نمک نہیں کھایا جاتا تھا ان کے لیے غم، احساس غم اور اظہار غم تینوں کی کیفیت کا طاری ہونا ضروری ہے۔ عاشورہ کو گھروں سے دفن کرنے کے لیے تعزیے باہر نکالے جاتے ہیں سر و پا برہنہ نوحہ پڑھتی اور ماتم کرتی ہوئی مستورات کے پیچھے ایک عورت لوٹے میں پانی بھرے چلتی اور امام باڑہ سے گھر تک صدر دروازے تک پانی انڈیلتی یہی طریقہ اپنے گھر کی میت کے ساتھ برتا جاتا۔
ابتدائے محرم میں ہی امام باڑوں کی آرائش و زیبائش روشنی اور انہیں معطر کرنے کی بھی فکر رہتی۔ خاص و عام اپنی بساط کے مطابق ان چیزوں کا خیال کرتے جس میں شیشہ کی لٹکی ہوئی لالٹین، سفید شمعیں اور منبر وغیرہ پر عطر اچھی طرح مس کر دیا جاتا تھا۔
خواص و عام امام باڑوں میں چوتھی سے چھ محرم کو بچوں کی منتیں پوری ہوتیں اور ان کے لیے مرادیں مانگی جاتیں۔ ساتویں محرم کو قاسم ابن الحسن کی یاد کے لیے مخصوص ہوتا اور ان کے لیے مہندی نکالی جاتی تھی۔ نوحہ و گریہ کیا جاتا، آٹھویں محرم کو حضرت عباس سے منسوب کیا جاتا ان کی شہادت پڑھی جاتی ماتم داری ہوتی اور اس کے بعد شام کے وقت بڑے پیمانے پر حضرت عباس کی حاضری ہوتی۔ بہترین اور بڑے بڑے نفیس شیر مالوں پر کباب مسالہ اور پنیر رکھ کر بڑی رکاب میں حضرت عباس کی نذر کرتیں جسے حاضری کہتے ہیں، نویں محرم کا دن گریہ و بکا کے لیے مخصوص تھا اور جب رات ہوتی اک ہل چل مچ جاتی لوگ امام کی شہادت سن کر روتے تعزیے باہر نکلتے لوگ جوق در جوق تعزیوں کی زیارت کرتے نوحہ خوانی کرتے۔ ان نوحہ خوانوں میں طوائفیں بھی تھیں۔ ایسے تعزیوں میں چندر جان، بدر منیر، مہر منیر، فضل جان، بین پنجا وغیرہ کے تعزیئے بڑی عزت و عظمت اور شہرت کے حامل تھے۔ یہ لوگ شب عاشور کے جاگے فاقہ کاٹتے، پیاسے رہتے یہاں تک کہ تمباکو تک نہیں کھاتے برادران اہل سنت فاقہ نہیں کرتے البتہ سارا دن تعزیوں اور جلوسوں کے ساتھ رہتے تھے۔
عمائدین و شہزادگان سارا دن گھر کے کسی مقام پر تنہا یوم عاشور گزارتے البتہ فاقہ شکنی کے وقت اپنے امام باڑوں میں تشریف لاتے۔ ملازمین اور دوسرے رفقا کی فاقہ شکنی کراتے لکھنؤ اپنے کھانے اور دسترخوان کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا۔ خوش رنگ کھانے پکائے جاتے لیکن ایام محرم میں باقر خانی، سالن، کباب اور دال چاول پر اکتفا کیا جاتا اور شیرینی قسم کی چیزوں کو دستر خوان پر نہیں لاتے البتہ شرفا اور عوام کے گھروں میں ست بجے سے فاقہ توڑا جاتا۔ شہر لکھنو میں سوگ نشینی اور حزن و ملال کا زمانہ یکم محرم سے شروع ہو کر بیسں صفر تک ختم ہوتا لیکن بعد میں اس کی میعاد آٹھ ربیع الاول تک کر دی گئی اور اس دن چپ تعزیہ اٹھتا جو اب تک بھی برقرار ہے۔
المختصر یہی کہ اس زمانہ میں اخوت اور بھائی چارے کی مثال جو ملتی ہے وہ آج سے بالکل مختلف ہے۔ ہندو، مسلمان اور سنی شیعہ سبھی میں اتحاد تھا اور نہایت احترام اور عقیدت سے ہر دن منایا جاتا جو لکھنوی معاشرے کی تہذیب و ثقافت اور لوگوں کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دار فانی میں صرف حکومتوں پر زوال نہیں آتا بلکہ معاشروں کی ہیئت بھی بدلتی ایسا ہی کچھ اس تہذیب کے ساتھ ہوا جس کی جگہ جدید تہذیب اور سامراجی حکومت نے لے لی۔ لیکن فخر کی بات ہے کہ انہوں نے اپنے عقیدہ کا دامن نہیں چھوڑا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ انگریز آصف الدولہ کے امام باڑہ میں اپنا فوجی مرکز بنائے ہوئے تھے۔ مجتہد العصر نے یہ کہہ کر امام باڑہ ان کی مقدس عبادت گاہ ہے تخلیہ کا مطالبہ کیا، قدیم کلاسیکی رواجوں کی جگہ جدت نے لے لی اور اک نئی تہذیب اور ثقافت ہمارے سامنے ابھری جسے ہم نے وقت کے پیش نظر قبول تو کر لیا مگر ماضی سے پیچھا نہ چھڑوا سکے۔



