ماڈرن جنگیں اب کیسے لڑی جاتی ہیں
سوشل میڈیا کے اس دور میں ماڈرن جنگیں جیسے لڑی جاتی ہیں اور اپنی فتح کے ڈنکے کیسے اب بجائے جاتے ہیں، ذرا اس پہلو کو آج ہم دیکھتے ہیں۔ اب ماڈرن جنگوں کی تعریف یوں ہو گئی ہے۔
ایک حملہ کرنے والا ملک دوسرے ملک جس پر حملہ کر رہا ہے، اس کو باقاعدہ مطلع کرتا ہے کہ تم پر ہم حملہ کرنے جا رہے ہیں، یہ حملہ صرف ان ان مخصوص جگہوں پر ہو گا، اس کے علاوہ کسی مخصوص جگہوں پر نہیں ہو گا، برائے کرم اس کو کوئی باقاعدہ جنگ نہیں سمجھا جائے، ہم آپ سے جنگ میں الجھنا نہیں چاہتے، صرف دہشتگردوں (جو ہماری تعریف کے مطابق ہوں، اور ضروری نہیں کہ آپ بھی ان سے متفق ہوں ) کا صفایا کرنا چاہتے ہیں، بے شک اس حملے میں کوئی بے گناہ سویلین مارا جائے، چھوٹا بچہ مارا جائے، عورتیں ماری جائیں، جتنا بھی ایک ملک کا نقصان ہو، چاہے جہاز گریں، سائنسدان مارے جائیں، املاک کا نقصان ہو، اس کو اپنے ہی لوگوں سے چھپانا۔ اگر وہ ہماری تعریف کے مطابق دہشتگرد ہیں، تو وہ دہشت گرد ہیں، بس۔ ہم اپنے ہتھیار ٹیسٹ کریں گے، تم جوابی حملے میں (جس کی اطلاع بھی تم دو گے ) اپنے ہتھیار ٹیسٹ کر لینا۔
بھارت، پاکستان کے مختلف مقامات پر حملہ کرتا ہے تو بتا کر کرتا ہے، ایران، قطر، بحرین، عراق، شام کے امریکی مراکز پر حملہ کرتا ہے تو بتا کر کرتا ہے، امریکہ، ایران کے جوہری مقامات پر حملہ کرتا ہے تو بتا کر کرتا ہے، اسرائیل جب ایران پر حملہ کرتا ہے تو اپنی تعریف کردہ دہشتگردی کے حساب سے کرتا ہے۔ ایران، اسرائیل کے مقامات پر حملہ کرتا ہے تو شاید پہلے سے مطلع کر دیتا ہے، کیونکہ اسرائیلی ایک بھی فوجی، اعلیٰ عہدیدار، ایٹمی سائنسدان یا سرکاری فرد ہلاک نہیں ہوتا، صرف چند شہری ہلاک ہوتے ہیں جن کا جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں۔
ہاں جب پریشر بڑھ جائے، تو جنگ بندی کا اعلان بھی وڈے چوہدری کی طرف سے کر دینا، تاکہ دونوں کو فیس سیونگ بھی مل جائے، اپنی اپنی بہادری کا ڈنکا بھی دونوں طرف بچ جائے، اور اپنے اپنے عوام کے آگے دونوں ملک ہیرو نمبر ون بھی بن جائیں۔ جنگ بندی یا سیز فائر کا اعلان ہو جائے تو اپنے اپنے ممالک میں جشن بھی منایا جائے، جیسے ایک دوسرے کے ملک ہی فتح کر لیے ہوں۔ منہ کے فائر بھر بھر کر کیے جائیں، تڑیاں دھمکیاں لگائی جائیں چاہے اندر آپ کی کانپیں ہی ٹانگ رہی ہوں۔
ویسے یہ جنگ جیتنے والا بھی بیانیہ بھی خوب ہی ہے، ایک ملک کی نیو کلیئر سائٹس امریکہ نے تباہ کر دیں۔ سارا ایٹمی پروگرام ریورس گیئر میں لگا دیا۔ اس ملک کے سارے ٹاپ آرمی جرنیل مخالف نے اڑا دیے۔ سارے ٹاپ ایٹمی سائنس دان بھی مخالف ملک نے مار دیے۔ اس ملک کے لیڈر پر بھی مخالف ملک کی قیادت کی نظر تھی، اس کو بھی دوسرے جہاں پہنچانے کا پروگرام تھا، لیکن وڈے چوہدری صاحب نے اس کو منع کر دیا۔ رجیم کی تبدیلی وہ کہہ رہے تھے، لیکن پتہ نہیں وہ کیا سوچ کر رک گئے کہ شاید وہ متبادل قیادت ان کے نظر میں کوئی قابل اعتماد نہیں تھی۔ دوسری طرف پہلے ملک نے تیس چالیس اپنے مخالف ملک کے عام شہری مارے۔ چند بلڈنگز گرا لیں۔ بس اور منہ کے فائر کر کر کے ثابت یہ کیا جا رہا ہے کہ ہمیں آخری فتح نصیب ہوئی۔
حالیہ ایران و اسرائیل جنگ، ابھی سے شروع نہیں ہوئی تھی، یہ جنگ دراصل، سات اکتوبر 2023 کو ایران کی شہ دینے پر، حماس نے شروع کی تھی جب اس نے اسرائیل پہ تباہ کن سرپرائز حملہ کیا تھا۔ اسرائیل نے جواب میں حماس کا صفایا کر دیا۔ ایرانیوں کے گھر میں گھس کے حماس کے لیڈر اسماعیل ہانیہ کو ہی ٹھوک دیا۔ غزہ کھنڈر بنا۔ پچاس ہزار فلسطینیوں کی جانیں گئیں اور اس کی وجہ وہ فساد ہے جو ایرانی ملاؤں نے شروع کروایا تھا۔ ایرانیوں کی دوسری پیاری پراکسی حزب اللہ تھی۔ اس کی ٹاپ لیڈرشپ بھی اسرائیل نے ٹھوک دی اور جب پیجر پھٹے اور ان کے ٹاپ لیڈران کا صفایا ہوتا ہے تو بھی اس رجیم کی اکڑ ہی ختم نہیں ہو پاتی۔
دوسری طرف اسرائیلی لاف گزافیاں بھی خوب ہیں، سنا ہے وہ بھی جنگ جیتنے کی بڑی بڑھکیں ہانک رہا ہے۔ بے شک اس نے ایران کے اندر اپنے کافی ٹارگٹس حاصل کر لیے اور ایران کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا لیکن ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق نہ تو یہ ایرانی ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر رول بیک کرنے میں کامیاب ہو سکا اور نہ ہی وہ رجیم کی تبدیلی کا مشن پورا کر سکا۔ تو اس کی ناکامیاں بھی دنیا کے سامنے عیاں ہیں۔ اب اس پر دنیا کے سامنے اپنی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹنا بھی محض ایک سراب ہی ہے۔ غزہ میں اس کی بہیمانہ اور سفاک کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس نے پوری غزہ کی آبادی کو کھنڈر اور اب تک 50 ہزار سے زیادہ لوگوں کو ہی مروا دیا ہے، جو نتن یاہو اور اسرائیل کے کھاتے میں جا رہے ہیں۔



یہ کہنا غلط ہے کہ انڈیا نے پاکستان کو ہر بار حملہ کرنے سے پہلے بتایا کہ ہم کہاں یا کن مقامات پر حملہ کرنے والے ہیں۔
نہ تو یہ حرکت 2019 میں بالا کوٹ میں مدرسہ کے پاس حملے میں ہوئی اور نہ مئی 2025 میں۔
–
سن 2019 میں انڈیا میں انتخابات متوقع تھے اور پاکستان کسی بیوقافانہ سرجیکل اسٹرائیک کی توقع کررہا تھا۔ یاد رہے افغانستان اور انڈیا میں آزادی کی جنگ لڑنے والے مجاہدین جن ہیں مخالف دہشت گرد قرار دیتے ہیں ان کے مرید کے، بہاول پوراور آزاد کشمیر میں کیمپوں پر حملے بیس سال سے متوقع ہیں۔ کبھی انڈیا اور کبھی امریکہ کی طرف سے بھی۔ لیکن یہ کبھی نہیں ہوئے وجہ صرف یہ تھی کہ پاکستان کے پاس لگ بھگ ہر دور میں ایسے طیارے موجود تھے جن کے بی وی ار میزائیل کی مار انڈیا سے زیادہ نہ سہی تو کم بھی نہیں تھی۔ اسی لئے بالاکوٹ کا حملہ رات کی تاریکی میں اور وہ بھی اسی طرح ہوا جیسے مئی 2025 میں ہوا تھا۔ متعدد جہاز سرحد کے پاس منڈلاتے رہے۔ پاکستان کی فضائیہ بھی فضاء میں رہی لیکن انڈیا نے بین الاقوامی سرحد کی بجائے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنی مناسب سمجھی اور یوں بالا کوٹ میں واقعہ پیش آیا۔
اس کے جواب میں پاکستان نے صرف یہی کہا تھا کہ ہم جواب دیں گے مگر وقت اور مقام کا فیصلہ ہمارا ہوگا۔
اس میں یہ کہاں سے آگیا کہ انڈیا یا پاکستان نے ایک دوسرے کو بتادیا تھا۔
پاکستان نے البتہ یہ ظلم کیا کہ رات بھر انڈیا کے پائلٹوں کو جگائے رکھا اور جب وہ دن میں ٹھنڈے پڑگئے کہ پاکستان اب دن میں کیا حملہ کرے گا۔ ۔۔۔۔۔حملہ ہوگیا۔
–
حالیہ دنوں میں بھی انڈیا نے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ کہاں حملہ کریں گے۔
ان کا صرف یہ بیان تھا کہ ہمیں پتہ ہے کہ دہشت گردی آپ کی طرف سے ہوئی ہے اور ہم صرف ان کے ٹھکانوں پر حملہ کریں گے اور کسی فوجی تنصیبات کو نقسان نہیں پہنچائیں گے۔ اس میں کسی جگہ کا نام اور تاریخ کبھی موجود نہیں تھی۔
–
اس رات کو بھی پاکستانی جہاز محض انڈیا کے جہازوں کے تماشے دیکھتے رہے اور ہم نے ان پر حملہ اسی وقت کیا جب انہون نے اپنے علاقوں سے ہمارے علاقوں میں اسمارٹ بم گرائے۔ جو ٹارگٹ سے 150 سے 250 کلومیٹر تک دور تھے۔
–
یاد رہے فضا سے زمین پر آنے والے میزائیلوں کو روکنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اور اس کے لئے جس طرح کے جدید سسٹم چاہئیں وہ کسی اہم ترین مقام کی حفاظت کے لئے تو نصب ہوسکتے ہیں ایسا نہیں کہ بہاول پور سے آزاد کشمیر اور کراچی سے کوئٹہ تک سب علاقے پروٹیکٹ ہوں۔
–
جہاں تک امریکہ کا ایران کو پہلے سے بتانا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ ایران کے پاس نہ تو ایسے فائٹر جہاز ہیں جو بی 2 بمبار گراسکیں اور نہ ایسا ایئر ڈیفنس سسٹم جو ان جہازوں کی بروقت آمد کو نوٹ کرکے زمین پر لوگوں کو خطرے سے آگاہ کرسکے۔
–
یہ کہنا غلط ہے کہ ایران کے میزائیل اسرائیل جب پہنچے اس کا ایران نے اسرائیل کو پہلے سے بتادیا تھا۔ وجہ یہ کہ وہاں کو اسرائیلی فوجی نہیں مرا۔
–
پاکستان کی 1965 اور 1971 کی جنگ کے برعکس جب سائرن بجتے تھے اور بلیک آؤٹ یا خندقیں استعمال کی جاتی تھیں۔ اب اسرائیل میں لوگوں کو تربیت دی گئی ہے کہ جیسے ہی آپ کے شہر کی طرف طیارے یا میزائیل آئیں گے۔ اس میں محض 3 سے 5 منٹ ملیں گے۔ آپ نے فورا ان حفاظتی مقامات پر چلے جانا ہے جو مخصوص کئے گئے ہیں۔
–
عام طور پر ہر بلند و بالا عمارت کی پارکنگ یا چند ایسے فلیٹ مختص کردیئے گئے ہیں جو عمارت تباہ ہونے کی صورت میں سب سے مضبوط مانے جاتے ہیں۔ ہر شخص کو علم ہوتا ہے کہ میں نے ایک ہنگامی کٹ اپنے پاس رکھنی ہے جس میں دوائیں، غذا، پانی اور ایمرجنسی لائٹ موجود ہوگی۔ چند علاقوں میں وہاں موجود لوگوں پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردن اور عراق اور خود ایران کی فضا میں جیسے ہی میزائیل نمودار ہوتے ہیں اسرائیل میں متوقع ادارے الڑت ہوجاتے تھے اور اردن عراق کے بعد اندازہ لگالیتے تھے کہ ممکنہ ہدف کونسا شہر ہے اور یوں سائرن بجنے پر لوگ محفوظ مقامات پر پہنچ جاتے تھے۔
جس طرح اسرائیل میں عمارتیں تباہ ہوئی ہیں اور جانی نقصان نہیں ہوا اس کی وجہ لوگوں کا شہری دفاع کی ہدایات پر عمل کرنا تھا۔۔۔۔۔یہ اور بات کہ ہم مئی جون میں بھی سورہے تھے اور اب بھی سو رہے ہیں۔
–
حالیہ ایک دو ساال میں پاکستان نے افغانستان اور ایران کے محصوص علاقوں پر اپنے فائٹرز کے ذریعے دونوں ملکوں کو بتاکر حملے کئے ۔ وجہ صرف یہی تھی کہ ایران اور افغانستان کی فضائی فوجیں ہرجا کہ ہیں مگر پاک فضائیہ کے سامنے بے بس ہیں۔ ایران بھی پاکستان پر ڈرون اور زمینی میزائیل تو مارسکتا ہے فضا میں کچھ نہیں کرسکتا سو محض دل مسوس کر رہ گیا ہوگا۔