خداداد صلاحیت
ہمارے جاننے والوں میں ایک نام میر خداداد صاحب کا بھی ہے جن کو قدرت نے مانگنے کی ایسی صلاحیت دے رکھی ہے کہ لوگ اسے خداداد صاحب کی خداداد صلاحیت کہتے ہیں، مگر اُن کے مانگنے کا طریقہ روایتی نہیں بلکہ ذرا منفرد قسم کا ہے۔ ابھی چند دن پہلے کا قصہ ہے کہ مجھے اپنے ساتھ ایک ہوٹل میں کھانا کھلانے لے گئے۔ وہاں جاکر پہلے تو مجھے شاندار کھانا کھلایا۔ میں ہر چند کہتا رہا کہ اتنے تکلف کی کیا ضرورت ہے مگر میری ایک نہیں مانی اور زبردستی مجھے کھانا کھلا دیا۔
کھانے کے دوران جب باتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو بولے، ”یار ویسے بہت مہنگائی ہو گئی ہے۔ پہلے میں ہفتے میں دس بار یہاں آتا تھا۔ مٹن کڑاہی پوری ایک کلو کھا جاتا تھا مگر اب نہیں کھائی جاتی۔ کیونکہ اب معدہ پہلے جیسا نہیں رہا“ ، میں نے اُن کی بات سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے بات کو آگے بڑھایا، ”ہاں جی۔ اب مہنگائی واقعی بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ پہلے جو چیز سو روپے کی آتی تھی اب ہزار کی ملتی ہے“ ۔ میری بات کو سن کر پہلے ایک ڈکار مارا اور پھر ایک بوٹی کو لقمے کے اوپر رکھتے ہوئے گویا ہوئے، ”ارے کیا بات کرتے ہو یار۔ ابھی کل ہی میں ایک دوست کے ساتھ کافی شاپ چلا گیا۔ وہاں جاکر ہم نے پندرہ سو کی کافی پی۔ دوست نے بل کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو پانچ ہزار کا نوٹ۔ لو جی کافی شاپ والے پریشان ہو گئے کہ پانچ ہزار کا کھلا کہاں سے لائیں۔ میں نے جب یہ دیکھا تو دوست کی طرف سے بقیہ پینتیس سو روپے اُن کو ٹپ میں دے آیا۔ دیکھو نا! انسان انہی چیزوں سے پہچانا جاتا ہے کہ فلاں نے کتنی ٹپ دی اور فلاں نے کتنی۔ اب اگر پندرہ سو کی کافی پہ پینتیس سو کی ٹپ دے دی تو کون سی قیامت آ گئی۔
ہم بھی خوش اور بچے بھی۔ کیا خیال ہے تمہارا؟“ ۔ میں نے جب پندرہ اور پینتیس کا ذکر سنا تو سچ پوچھیے میری بھوک تو وہیں ختم ہو گئی۔ اس لئے کہ کافی شاپ پہ بھی دوست اُن کے ساتھ تھا اور یہاں میں۔ ”دیکھو سخاوت اللہ رب العزت کو بہت پسند ہے۔ سخی بندے کا ہاتھ کبھی تنگ نہیں ہوتا۔ دس لگاؤ گے تو سو آئیں گے۔ آزما کر دیکھ لو“ ۔ ابھی ہم نے ایک کھانا ختم کیا ہی تھا کہ موصوف نے دوسرے کھانے کا بھی آرڈر دے ڈالا کیونکہ اُن کے بقول قرآن فرماتا ہے ”کلو واشربو ( کھاؤ پیو)“ لہذا قرآن مجید کے اس ارشاد کو کون کافر جھٹلائے گا۔
چنانچہ اس عظیم حکمِ خداوندی کے اوپر عمل کرنے کی خاطر موصوف نے مزید کھانے پینے کا بھی آرڈر دے دیا اور مجھے ساتھ میں برابر سخاوت کے فضائل سنا سنا کر دل کو کھلا رکھنے کی تلقین فرما رہے تھے۔ اُن کی باتوں اور کھانے سے مجھے آہستہ آہستہ اندازہ ہونا شروع ہو گیا کہ اس بار چھری کس کی گردن پر پھرے گی اور مشقِ ستم کون ہو گا۔ ”مٹن کڑاہی کے ساتھ اگر سیخ کباب نہ ہوں تو مزہ بالکل نہیں آتا۔ کیا کہتے ہو؟“ یہ کہہ کر ایک درجن سیخ کباب کا بھی آرڈر دے دیا تاکہ کھانے کے ذائقے میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔
میرا حلق تو ویسے ہی اب خشک ہو چکا تھا ایسے میں کون کم بخت کھانا کھاتا، سو میں چپ چاپ خاموشی کے ساتھ اپنے آنسو آپ ہی پیتا ہوا اُن کو کھانے میں مصروف دیکھ رہا تھا جو اس دلجمعی اور اطمینان نے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ گویا بادشاہِ وقت کے بیٹے ہیں۔ وہ نہایت چابکدستی اور ہوشیاری کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلتے ہوئے شارٹس کھیل رہے تھے جس میں بوٹیاں باؤنڈری بال سے باہر جاکر سیدھا اُن کے حلق میں گر رہی تھیں اور وہ ”سبحان اللہ!، الحمدللہ، ماشا ء اللہ، جزاک اللہ“ جیسے الفاظ کے ساتھ کڑاہی اور سیخ کبابوں کو چٹ کر رہے تھے۔ ”بھائی ویسے جو بھی ہے۔ کہتے ہیں کھانا کم کھاؤ مگر اچھا کھاؤ۔ میں تو بس اسی اصول کے تحت کھانا کھاتا ہوں“ ، اور اس اصول کے تحت اب تک ایک کلو مٹن کڑاہی کے ساتھ درجن سیخ کباب، دو پیالے رائتہ اور چھ سالم نان جناب زہر مار کر چکے تھے مگر لگتا تھا اتنی تباہی سے بھی اُن کا دل سیر نہیں ہوا اور آنکھیں مزید کھانے کا تقاضا کر رہی ہیں۔
”ویٹر! ادھر آؤ بیٹا“ ۔ ایک ویٹر کو آواز دی جو دوڑا دوڑا آیا۔ ”میں نے سنا ہے آپ کے ہوٹل کی دنبے کی سالم ران بہت مشہور ہے۔ وہ جو آپ کوئلے پر پکاتے ہیں۔ کیا یہ سچ ہے“ ۔ میں نے اگرچہ ویٹر کو آنکھ مار کر ”نا“ بولنے کو کہا مگر اُس کمبخت نے میری بات کا مطلب نہیں سمجھا۔ ”جی سر بالکل ملتی ہے۔ مگر اُس کے لئے آپ کو ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑے گا“ ۔ میں نے جب ایک گھنٹے کا لفظ سنا تو مطمئن ہو گیا کہ چلو بات بن گئی مگر، ”بس ایک گھنٹہ۔ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔ ایسا کرو تم وہ سالم ران لگواؤ۔ ہم دونوں ایک گھنٹے تک ہوٹل کی چھت پر واک کرلیتے ہیں۔ ٹائم بھی گزر جائے گا اور ران بھی تیار ہو جائے گی“ ۔ اس شاہی فرمان کے بعد مجھے زبردستی ہوٹل کے چھت پر لے گئے تاکہ وہاں کھلی ہوا میں سانس لے کر پہلے والے کھانے کو ہضم کیا جائے۔ ”دیکھو کتنا پیارا موسم ہے انسان کا دل کرتا ہے بس ساری زندگی اسی ہوٹل مین کھانا کھاتا رہے اور یہاں واک کرتا رہے۔ بھئی واہ سبحان اللہ۔ وہ دیکھو تو نیچے کتنا پیارا منظر ہے“ ۔ میں نے جب نیچے دیکھا تو ایک بار دل نے چاہا کہ یہیں سے کود کر مرجاؤں اور مرنے سے پہلے ایک بار دنیا والوں کو یہ بتا دوں کہ خدارا! اس شخص کے ساتھ کبھی کھانے کے لئے مت آنا ورنہ تمہارا انجام بھی یہی ہو گا جو میرا ہوا ہے، لیکن جب نیچے غور سے دیکھا تو بلندی زیادہ ہونے کی وجہ سے دل ڈر گیا اور میں پیچھے ہٹ گیا۔ ”ویسے لوگ کہتے ہیں امیرکن سسٹم ٹھیک رہتا ہے ہر بندہ اپنا بل خود دے۔ مگر مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا۔ بھائی دیکھو نا اس میں بھائی چارہ کہاں گیا۔ وہ جو کہتے ہیں مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اُس کی تو نفی ہوجاتی ہے اس چیز میں۔ ہمارے معاشرے میں بھائی چارہ پہلے ہی کم ہے ایسے میں امیرکن سسٹم شروع ہو گیا تو یہ بالکل ختم ہو جائے گا۔ اب دیکھو نا اگر ہفتے میں ایک دن تم نے مجھے کھانا کھلا دیا تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑے گا۔ الٹا میرے اور تمہارے درمیان محبت میں اضافہ ہی ہو گا۔ کس قدر ظالم ہیں یہ لوگ جو بھائی کو بھائی سے امیرکن سسٹم کے نام پر جدا کر رہے ہیں۔
لعنت ہو ان سب پر۔ خیر چھوڑو ان باتوں کو۔ آؤ نیچے چلیں ران تیار ہو گئی ہوگی“ ۔ ہم چھت سے اس طرح اتر رہے تھے کہ اُنہوں نے میرا ہاتھ مضبوطی سے یوں پکڑ رکھا تھا کہ کہیں میں بھاگ نہ جاؤں۔ اب جب میز کے پاس پہنچے تو دنبے کی گرما گرم سالم ران وہاں پڑی تھی جس سے خوشبودار دھوئیں اُڑ اُڑ کر اُن کی بے چین بھوک کو مزید وحشی بنا رہے تھے۔ جیسے ہی ہم وہاں بیٹھے تو خداداد صاحب نعرہ تکبیر، اللہ اکبر کے ساتھ سالم ران کے ساتھ مقابلے میں جت گئے۔
یہ مقابلہ تقریباً ایک گھنٹے جاری رہا جس میں آخری فتح بالآخر خداداد صاحب کو ہی ہوئی جنہوں نے کمال کے داؤ پیچ کھیلتے ہوئے سالم ران کو شکست فاش سے دوچار کر دیا۔ جب خداداد صاحب کا پیٹ اپنی آخری حد تک بھر چکا اور مزید کھانا ٹھکانے لگانے کی ہمت جواب دے گئی تو ویٹر کو بل لانے کو کہا گیا۔ ویٹر جب بل لے کر آیا تو کمال شفقت کے ساتھ اُس کے ہاتھ سے لے کر مجھے یہ کہہ کر تھما دیا کہ ”میری قریب کی نظر کمزور ہے اس لئے پڑھ نہیں سکتا“ ۔ میں نے جب کھانے کا بل دیکھا تو غشی کا ایسا دورہ پڑا کہ وہیں گر گیا۔ جب ہوش آیا تو اپنے آپ کو کچن میں پلیٹوں کے ایک بڑے سے ڈھیر کے درمیان پایا، جہاں ایک صاحب نے مجھے یہ کہہ کر دروازہ باہر سے بند کر دیا کہ ”یہ پلیٹیں جتنی جلدی دھو دو گے اُتنا جلدی اس قید خانے سے رہا ہو کر گھر چلے جاؤ گے“ ۔


