سندھ میں ہندو لڑکیوں کے اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور شادی: ایک انسانی المیہ!


سندھ کو ہمیشہ صوفیوں اور رواداری کی سرزمین سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اقلیتی برادری، خاص طور پر ہندو لڑکیوں کے ساتھ جبری اغوا، مذہب کی تبدیلی اور زبردستی شادیوں کی بڑھتی ہوئی اطلاعات ایک گہرے انسانی بحران کی نشان دہی کرتی ہیں۔ یہ واقعات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اقلیتوں کے تحفظ پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ اس سلسلے مین

2014 سے 2024 کے درمیان سندھ میں درجنوں ایسے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں ہندو نابالغ لڑکیوں کو اغوا کر کے زبردستی مذہب تبدیل کرایا گیا اور ان کی شادیاں کر دی گئیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ہر سال کئی اقلیتی لڑکیاں اس ظلم کا شکار بنتی ہیں۔

پولیس اکثر اغوا کے مقدمات کو ”رضاکارانہ قبول اسلام“ کا رنگ دیتی ہے، جو متاثرہ خاندانوں کے لیے بڑی نا انصافی ہے۔

ان کیسز میں لڑکیوں کی عمر عموماً 12 سے 16 سال کے درمیان ہوتی ہے، جو کہ قانوناً شادی کی عمر نہیں۔

سندھ اسمبلی نے 2016 میں ”جبری مذہب تبدیلی کے خلاف بل“ منظور کیا تھا، مگر مذہبی دباؤ کے تحت اسے واپس لے لیا گیا۔

عدالتیں اکثر متاثرہ لڑکیوں کا بیان لیتے ہوئے انہیں ”خود سے اسلام قبول کرنے والی“ قرار دیتی ہیں، حالانکہ ان کی عمر قانونی طور پر شادی کے قابل نہیں ہوتی۔ دیکھا جائے تو،

Child Marriage Restraint Act کے تحت 18 سال سے کم عمر کی شادی غیرقانونی ہے، مگر اس قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایسے واقعات سندھ میں رہنے والی اقلیتی برادریوں میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں، جس کی وجہ سے کئی خاندان اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اقلیتی برادری کی تعلیم، معاشی سرگرمیوں اور آزادی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

بدقسمتی سے سیاسی اور مذہبی رہنما اس سنگین مسئلے پر واضح موقف اپنانے سے گریز کرتے ہیں، جو نا انصافی کو مزید فروغ دیتا ہے۔ سندھ سرکار کو چاہیے کہ

  • * جبری مذہب تبدیلی کے خلاف قانون کو دوبارہ منظور کر کے اس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔
    * اقلیتی لڑکیوں کے تحفظ کے لیے خصوصی عدالتیں یا فوری انصاف فراہم کرنے والے ادارے قائم کیے جائیں۔
    * پولیس کو آزادانہ تفتیش کا اختیار دیا جائے اور والدین کی رضامندی کو مقدم رکھا جائے۔
    * میڈیا، سول سوسائٹی اور تعلیمی ادارے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔ کیونکہ

سندھ میں اقلیتی لڑکیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں صرف اقلیتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کی تذلیل ہے۔ اگر اس مسئلے پر فوری اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف اقلیتوں کا اعتماد ختم ہو جائے گا بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری بھی شدید خطرے میں پڑ جائے گی۔

Facebook Comments HS