دس اپریل 1986۔۔۔۔ وہ دن کہ جس کا وعدہ تھا (1)
شاکر حسین شاکر کے نام ۔۔۔۔۔۔ بعد از سلام
تمہارا خط کل ملا تھا۔ جواب آج لکھ رہا ہوں۔ تم نے بے نظیر بھٹو کے استقبال کی روداد معلوم کی ہے۔ اگر تم نہ بھی پوچھتے تو میں نے آج تمہیں یہی احوال سنانا تھا کہ آج کل پاکستان میں اس استقبال اور جلسے کے سوا کسی کے پاس کہنے کو اور کوئی موضوع ہی نہیں۔ شاکر میں نے تمہیں اس روز بہت مس کیا۔ بلکہ میں نے اپنے ہر دوست کی کمی محسوس کی۔ وہ ایک ایسا تاریخی لمحہ تھا اور ایسا تاریخی منظر تھا جو شاید پاکستان کی تاریخ میں دوبارہ کبھی دیکھنے کو نہ ملے۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں اس منظر کا حصہ تھا۔ تم جن لمحوں کی تصویروں کے لیے ترستے ہو میں نے وہ لمحے خود دیکھے ہیں۔ میں لاکھوں افراد کے اس ہجوم میں شامل تھا جو آمریت کے خلاف احتجاج کے لیے لاہور کی سڑکوں پر موجود تھا۔ شاکر لاہور کی سڑکوں پر میں گزشتہ 8 ماہ سے گھوم رہا ہوں مگر لاہور مجھے کبھی اتنا خوبصورت نہیں لگا جتنا 10 اپریل کو تھا۔ اور 10 اپریل ہی کیوں 9 اپریل کی رات بھی تو لاہور بہت خوبصورت تھا۔ آمریت کی طویل رات کو ختم کرنے کے لیے جمع ہونے والوں نے اس رات کو دن میں تبدیل کر دیا تھا۔ شاکر وہ رات تو نہیں تھی، امید کی روشنی لیے آئی تھی وہ رات۔ سب سڑکوں پر نعرے لگاتے تھے اور رقص کرتے تھے۔ میں اس ہجوم میں تنہا تھا مگر خود کو تنہا محسوس نہیں کر رہا تھا۔ میرے جیسے کئی دبے کچلے اور روشنی کے طلب گار لوگ میرے ساتھ تھے۔ ضیاء الحق مردہ باد۔ یہ نعرہ ہم نے سکول میں بھی لگایا تھا ، کالج میں بھی لگایا لیکن شاکر اس نعرے کا جو لطف 9 اور 10 اپریل کو آیا اس سے پہلے کبھی نہ آیا تھا۔ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ ہم تو اسے نعرہ سمجھتے تھے مگر اب معلوم ہوا کہ یہ نعرہ نہیں ایک حقیقت ہے۔ بھٹو واقعی زندہ ہے۔ جسے انہوں نے 4 اپریل 1979ء کو رات کی تاریکی میں پھانسی دی تھی وہ بھٹو 9 اپریل 1986ء کی رات لاہور کی سڑکوں پر موجود تھا۔ لاکھوں افراد رقص کرتے تھے، دھمال ڈالتے تھے اور ہر شخص بھٹو تھا۔ 9 اپریل کی رات لاہور میں شب برات اور 10 اپریل کا دن عید کی طرح پررونق تھا۔ میں 9 اپریل کو رات 8 بجے مینار پاکستان گیا تو وہاں عجب سماں تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ وہ سٹیج دیکھنے آئے تھے جو بے نظیر صاحبہ کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ یار میں نے موچی دروازے میں ایک دو سرکاری جلسیاں بھی دیکھی ہیں۔ بیورو کریسی اور ارکان اسمبلی کی کوششوں سے وہاں جن بھیڑ بکریوں کو جمع کیا جاتا ہے ان کی تعداد بھی اس ہجوم سے کم ہوتی ہے جو یہاں صرف سٹیج دیکھنے کیلئے جمع ہو گیا تھا اور بے نظیر بھٹو کو تو یہاں اگلے روز شام تک پہنچنا تھا۔ لوگ ڈھول پر رقص کرتے تھے اور نعرے لگاتے تھے۔ ہر طرف پیپلز پارٹی کا سہ رنگا پرچم لہرا رہا تھا۔ سرخ، سیاہ اور سبز رنگ کے پرچموں نے عجب سماں باندھ دیا تھا۔ مینار پاکستان کے سائے میں بہت بڑا سٹیج تیار کیا جا رہا تھا۔ پیپلز پارٹی کے کارکن سٹیج کو سجا رہے تھے۔ اپنے شہید قائد کی بیٹی کے استقبال کے لیے اہل لاہور دیدہ و دل فرشِ راہ کئے ہوئے تھے۔ دیدہ و دل فرشِ راہ کیسے کئے جاتے ہیں اس کا مفہوم تم کبھی بھی نہ سمجھ سکو گے کہ تم نے یہ منظر دیکھا ہی نہیں۔ اسے صرف وہی سمجھ سکے گا جس نے 9 اور 10 اپریل کا لاہور دیکھا ہے۔

مال روڈ کا نظارہ کرنے کے بعد میں پرانی انار کلی سے ہوتا ہوا چوبرجی کی طرف چلا گیا۔ وہاں بھی وہی جشن، وہی نعرے، وہی ہجوم، لاؤڈ سپیکروں پر ترانے چل رہے تھے۔ سوہنی دھرتی اﷲ رکھے قدم قدم آباد تجھے، اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا۔ مرد مومن کی نیندیں تو خیر حرام ہو چکی تھیں البتہ پورا لاہور مردِ مجاہد کی صورت میں جاگ رہا تھا۔ لاہور میں رت جگا تھا۔ بے نظیر صاحبہ کے طیارے نے صبح 6 بجے ایئر پورٹ پر لینڈ کرنا تھا سنا ہے ایئرپورٹ پر بھی لوگوں کی بہت بڑی تعداد پہنچ چکی تھی۔ میں خود ایئرپورٹ جانا چاہتا تھا میری بھی خواہش تھی کہ ہزاروں لاکھوں افراد کی طرح میں بھی یہ رات ایئرپورٹ پر گزاروں مگر مجھے جاگتا اور رقص کرتا لاہور خود سے جدا نہ ہونے دے رہا تھا۔ رات گئے تک میں اسی طرح لاہور کی سڑکوں پر گھومتا رہا۔ مختلف چوراہوں پر رقص کرنے والوں کے ساتھ رقص کرتا رہا۔ نعرے لگانے والوں کے ساتھ نعرے لگاتا رہا۔ اور پھر ملتان روڈ سے ہوتا ہوا شاہ نور سٹوڈیوز کے سامنے والے محلے میں اپنے کمرے میں آ گیا۔ میں کچھ دیر آرام کر کے تازہ دم ہونا چاہتا تھا۔ صبح مجھے دفتر بھی جانا تھا اور پھر وہاں سے جلدی فرار ہو کر بے نظیر بھٹو کے استقبال میں بھی شامل ہونا تھا۔ کمرے میں آکر میں نے کوشش کی کہ کچھ دیر سو جاؤں مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ آج رات جس طرح پورا لاہور سڑکوں پر اُمڈ آیا ہے کل جب بے نظیر بھٹو پاکستان پہنچ جائیں گی اور ملک بھر سے آنے والے تمام قافلے بھی لاہور پہنچ چکے ہوں گے تو کیا منظر ہوگا۔ بس جی چاہتا تھا فوراً دن نکل آئے اور بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد کی خبر سننے کو مل جائے۔
(جاری ہے)


