نیل نامہ: ہمارے وعدے


 

جس معاشرے میں لوگ اپنی ہی بات پر قائم نہ رہ سکیں، وہاں ہم کسی بہتری کی کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟ معاشرہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر ہم محض روزمرہ کی چند معمولی باتوں پر سنجیدگی سے غور کریں تو ایک باوقار اور مہذب معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ مگر افسوس کہ ہم اکثر اپنی روزمرہ زندگی میں شدید غفلت سے کام لیتے ہیں۔

ہماری قوم کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم سنجیدگی اختیار نہیں کرتے اور اپنی بات کا پاس نہیں رکھتے۔ ہم جان بوجھ کر غلط بیانی کرتے ہیں، چاہے وہ وقت کا وعدہ ہو یا کسی کام کی تکمیل کا اندازہ۔ ہم جانتے ہیں کہ وقت پر نہیں پہنچ سکتے، پھر بھی وعدہ کر لیتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کام مقررہ وقت میں مکمل نہیں ہو گا، مگر پھر بھی دوسرے شخص کو انتظار میں ڈال دیتے ہیں۔

ہم اکثر کسی بات کی نوعیت سمجھے بغیر بیان دے دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ذاتی تعلقات متاثر ہوتے ہیں اور معاشرے میں فتنہ و فساد جنم لیتا ہے۔ جھوٹ کو تو ہم اپنا حق سمجھنے لگے ہیں۔ ہم یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ ہمارے جھوٹ کا دوسرے شخص پر کیا اثر ہو گا، وہ نفسیاتی طور پر کس اذیت سے گزرے گا۔ ہمیں صرف یہ کہنے کی عادت ہے ”کیا فرق پڑتا ہے؟ سب ہی تو کرتے ہیں“

یہی ”ہوتا ہے، چلتا ہے، دنیا ہے“ والا رویہ ہمیں انسانوں سے ہجوم میں بدل رہا ہے۔ ہم بھیڑ چال کو خوشی خوشی اپناتے ہیں، بغیر سوچے سمجھے دوسروں کی نقل کرتے ہیں اور فخر سے کہتے ہیں ”کوئی بات نہیں چلتا ہے“

مگر ہمیں سوچنا ہو گا کہ دنیا ہم سے ہے۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور یہ ایک اجتماعی عمل ہے، انفرادی نہیں۔ اس لیے ہمیں بحیثیت قوم اجتماعی طور پر اپنے رویے بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ چھوٹی چھوٹی باتیں وقت کے ساتھ ناسور بن کر ہمارے معاشرے کو کھوکھلا اور ہماری زندگیوں کو زہر آلود بنا رہی ہیں۔ ہمیں شاید اس لیے یہ سب کچھ معمول کا لگتا ہے کیونکہ ہم نے اپنے بڑوں کو بھی یہی کرتے دیکھا ہے۔ مگر ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کی بجائے، ہمیں اپنے حال کو سنوارنے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری آئندہ نسلیں ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔

Facebook Comments HS