ریڈیو پاکستان لاہور کے پروگرام منیجر سلیم بزمی صاحب سے ایک بات چیت (چوتھی اور آخری قسط )
اختر حسین اکھیاں کا پہلا فلمی گیت
” سلیم صاحب! مجھے موسیقار سجاد طافو نے بتایا کہ اختر حسین اکھیاں صاحب نے فلم ’پاٹے خان‘ ( 1955 ) میں محض 18 سال کی عمر میں میڈم نورجہاں کو گوایا تھا۔ کیا کبھی انہوں نے اس بارے میں آپ کو بتایا؟“
” جی ہاں! یہ بالکل صحیح بات ہے اکھیاں صاحب نے خود مجھے بتایا کہ میری اٹھارہ اُنیس سال کی عمر تھی جب مجھے پہلی فلم ’پاٹے خان‘ ملی۔ میں گانے کی دھن بنا کر ریکارڈنگ کے لئے اسٹوڈیو آ گیا۔ جب میڈم آئیں تو ان کے احترام میں تمام میوزیشن اور اسٹوڈیو اسٹاف کھڑا ہو گیا۔ وہ سنگل صوفے پر بیٹھ گئیں اور پوچھا کہ موسیقار کون ہے؟ وہاں موجود افراد نے میری طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ نیا میوزک ڈائریکٹر ہے۔ میں بھی میڈم کے احترام میں کھڑا ہوا تھا۔ میڈم نے مجھے سر سے لے کے پاؤں تک دیکھا اور کہا کہ یہ موسیقار ہے؟ پھر کہا کہ سنائیں کیا بنا کے لائے ہیں۔ اختر صاحب نے کہا کہ میں ہارمونیم لے کر بیٹھ گیا۔ ڈھولک والا ساتھ تھا۔ میں نے ’کلّی کلّی جان، دُکھ لکھ تے کروڑ وے، دور جانے والیا مہاراں موڑ وے‘ سنایا۔ میڈم تو حیران ہی رہ گئیں اور کہا کہ یہ کس قسم کی دھن بنائی ہے؟ ایک دفعہ اور سناؤ! میں نے دوبارہ سنایا۔ جب میڈم نے دوبارہ سُن لیا تو انہوں نے کہا کہ اختر! اِدھر آ اور خوش ہو کر مجھے تھپکی دی۔ تو یہ میرا پہلا فلمی گانا تھا“ ۔
اختر صاحب نے مجھے پی ٹی وی پر متعارف کرایا
” بزمی صاحب! کیا بحیثیت گلوکار، اختر حسین اکھیاں صاحب نے آپ کے لئے بھی کوئی دھن بنائی؟ میں نے سوال کیا۔
” مجھے پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز میں گلوکار کی حیثیت سے متعارف کروانے والے اختر صاحب ہی تھے۔ یہ شاید 2003 کی بات ہو گی جب پی ٹی وی لاہور سے ایک پروگرام ’سُریلی شام‘ نشر ہوتا تھا۔ اس کے پروڈیوسر ارشد جمیل صاحب تھے۔ اختر صاحب نے اُن سے میرے متعلق بات کی کہ سلیم بزمی ریڈیو پروڈیوسر ہے اور اچھا گاتا ہے اور میں اِس کے ساتھ پروگرام کروں گا۔ ارشد صاحب نے کہا کہ کر لیں۔ پروگرام ’سُریلی شام‘ میں پرانے فلمی گانے گائے جاتے تھے۔ اختر صاحب نے میرے ساتھ بیٹھ کر 5 گانے منتخب کیے۔ ان میں ایک گانا فلم ’دلاں دے سودے‘ ( 1969 ) میں مسعود رانا اور میڈم کا الگ الگ گایا ہوا نذیر علی صاحب کی موسیقی میں خواجہ پرویز کا لکھا ہوا مشہور گیت ’بھُل جانے سب غم دنیا دے۔ ‘ اور فلم ’خان زادہ‘ ( 1975 ) میں بھی نذیر علی صاحب کی موسیقی میں خواجہ پرویز کا لکھا ہوا مشہور گیت جو مسعود رانا اور روبینہ بدر نے الگ الگ گایا ’رُس کے ٹُر پئے او سرکار‘ ۔ پھر فلم ’نظام‘ ( 1972 ) میں ماسٹر عبدا اللہ کی موسیقی میں سلیم کاشر کا گیت ’تیرے پچھے پچھے آونا اساں پیار نبھونا۔ ‘ جسے دوگانے کی صورت مہدی حسن اور میڈم نورجہاں نے گایا تھا۔ پھر فلم ’دو دوست‘ ( 1975 ) میں نذیر علی کی موسیقی میں غلام عباس صاحب کا گانا ’جد تک میرے ساں وچ ساں ایں پیار میرا ایمان روے گا‘ اسی طرح ایک اور گانا بھی تھا۔ اس پروگرام کی کمپیئرنگ بھی میں نے ہی کی تھی۔ اس سیریز کا یہ اولین پروگرام تھا۔ میرا یہ پروگرام 12 مرتبہ پی ٹی وی نیشنل سے نشر کیا گیا“ ۔
اختر حسین اکھیاں کا انتقال
کچھ پروگراموں کے نشر ہونے کے بعد ، اکھیاں صاحب نے پروڈیوسر ارشد جمیل سے کہا کہ اس سیریز میں اب میں ایک ایسا پروگرام دوں گا کہ کوئی بھی ’سُریلی شام‘ ایسی نہیں ہوئی ہوگی۔ یوں اختر صاحب مجھے ایک دفعہ اور لے آئے۔ اُس میں انہوں نے تین پرانے فلمی گانوں کے ساتھ میرے لئے خاص دو نئے گانے بنائے اور کہا کہ دیکھ لینا اِن دونوں میں سے ایک یقیناً مقبول بھی ہو گا۔ گیت نگار ناصر علی ناصرؔ کو بلوایا گیا اور میرے سامنے کمپوزیشن کی گئی اور مجھ سمیت میوزیشنوں کو ریہرسل کروائی۔ کہنے لگے کہ میں اب پیر کی صبح دس بجے آؤں گا۔ ایک ریہرسل اور کر کے پھر ریکارڈنگ کریں گے! پیر کی صبح میں سینٹرل پروڈکشن یونٹ میں شہوار حیدر صاحب کے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ٹھیک دس بجے فون آیا کہ اختر صاحب فوت ہو گئے! حیرت کی بات ہے کہ انہوں نے مجھے اپنے آنے کا بھی یہی وقت دیا تھا۔ میری زندگی میں دو افراد ایسے بھی آئے کہ جو وقت وہ دیتے، اُس سے پانچ منٹ پہلے ہی آ موجود ہوتے۔ اُن وقت کے پابند لوگوں میں ایک میرے دوست سیشن جج راجہ ارشد صاحب اور دوسرے اختر حسین اکھیاں صاحب ہیں۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ اب دنیا سے گزرتے ہوئے بھی اکھیاں صاحب وقت کی پابندی کر گئے فرق صرف یہ تھا کہ وہ ٹھیک دس بجے ریڈیو پاکستان لاہور تو نہیں آئے، بلکہ اگلے جہاں چلے گئے۔
اختر صاحب کی خاصیت
” بزمی صاحب! اختر صاحب کی طرزوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟“ میں نے پوچھا۔
” ان کی طرزوں کی خاصیت یہ تھی کہ میں جس بھی گلوکار کے لئے دھن بنانے کے لئے گانا دیتا تو انہیں اُس سنگر کے اسلوب اور انداز کا پتا ہوتا۔ نیز اس کے گلے میں کون کون سی جگہیں ہیں، اکھیاں صاحب وہ بھی جانتے تھے اس لئے بالکل اسی کے حساب سے گانا بنا کر لاتے۔ میں نے ایک گانا اے نیّر کے لئے دیا۔ اس کے بول تھے ’کہے جا رہی ہے ہوا شام ہی سے، جلانا پڑے گا دیا شام ہی سے‘ ، اختر صاحب عین اے نیر اسٹائل ہی کا گانا بنا کر لائے (یہ گانا سلیم بزمی نے گا کر بھی سنایا) ۔
استاد نذر حسین
” کیا آپ نے کبھی موسیقار نذر حسین صاحب کے ساتھ بھی کام کیا؟“ ۔
” جب میں ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوا تو استاد نذر حسین ریٹائر ہو چکے تھے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں اپنی پینشن لینے آتے لیکن گپ شپ کے لئے نہیں رکتے تھے اور ہاتھ کے ہاتھ واپس چلے جاتے۔ میں نے انہیں بہت کہا کہ استاد جی! صرف ایک کمپوزیشن کر دیں تا کہ میں فخر سے کہہ سکوں کہ میں نے بھی آپ کے ساتھ کام کیا ہے! کہتے کہ میں نے یہاں بہت کام کر لیا پھر ویسے بھی اب میں نے اپنے کام کا معاوضہ بڑھا دیا ہے۔ میں ایک کمپوزیشن کے پانچ لاکھ روپے لیتا ہوں۔ بھارتی گلوکار ہری ہرن سے میں نے اتنے ہی لئے تھے“ ۔
یہاں سلیم بزمی صاحب نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ”میں نے پنجاب ٹی وی سے فرحت عباس شاہ کے پروگرام میں گانا گایا۔ اتفاق سے وہ گانا استاد نذر حسین صاحب نے بھی سُن لیا۔ اُن سے میری ملاقاتیں تو ہوتی ہی رہتی تھیں لہٰذا مجھے سننے کے کچھ عرصے بعد جب وہ اپنی پینشن لینے ریڈیو آئے تو میرے پاس بھی آئے اور کہا کہ یار! تو تو اچھا گاتا ہے اِدھر آ! مجھے اندر اسٹوڈیو میں لے گئے۔ ہارمونیم پڑے ہوئے تھے۔ مجھے انہوں نے مہرکھنڈ کی تانیں یاد کروائیں اور کہا کہ ان کی مشقیں کر لو تمہارا گانا بڑھ جائے گا! اس لحاظ سے وہ بھی میرے استاد ہوئے“ ۔
ماسٹر عبداللہ
” کیا آپ کی ماسٹر عبدا اللہ صاحب سے کبھی ملاقات ہوئی؟“ میں نے پوچھا۔
” نہیں میں ماسٹر عبدا اللہ صاحب اور ماسٹر عنایت حسین دونوں سے کبھی نہیں ملا لیکن ان دونوں کا کام سنا ہے۔ یہ مجھے کافی یاد بھی ہے۔ ان جیسے موسیقار تو اب پیدا نہیں ہوں گے! فدا حسین بتاتے ہیں کہ وہ جب 1982 میں بھارت گئے تو آر ڈی برمن سے انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ کو کوئی پاکستانی موسیقار پسند ہے؟ تو مجھے انہوں نے جواب دیا ہاں فدا بھائی! میں عبدا اللہ سے ملنا چاہتا ہوں،
ان کا اشارہ ماسٹر عبدا اللہ کی طرف تھا۔ یہ دونوں یعنی آرڈی برمن اور ماسٹر عبدا اللہ جدّت پسند موسیقار تھے۔ سدا بہار میوزک وہ ہوتا ہے جو ہر دور میں چلے! ماسٹر عبدا اللہ صاحب اچھا شوکر والا کے بہت دوست تھے ان کی بہت سی فلمیں بھی کیں ”۔
ماسٹر عاشق حسین
” کچھ دیر قبل آپ نے بتایا تھا کہ ماسٹر عاشق حسین، اختر حسین اکھیاں صاحب کے بڑے بھائی تھے۔ کیا اِن سے کبھی آپ نے دھنیں بنوائیں؟“ میں نے پوچھا۔
ماسٹر عاشق حسین (تاریخِ وفات 26 دسمبر 2017 ) کو بھی میں اس وقت ریڈیو پاکستان لاہور میں لایا جب وہ کوئی زیادہ فعال نہیں رہے تھے۔ یہ اختر حسین اکھیاں کے بڑے بھائی ضرور تھے لیکن اپنی ہی طبیعت کے مالک تھے۔ میں کوئی غزل دیتا تو وہ انہیں پسند ہی نہیں آتی تھی۔ شاعر کی پوری پوری کتاب پڑھ کے سنا دیتا لیکن ان کو کچھ پسند نہیں آتا تھا۔ وہ بولوں کو منتخب کرنے میں اپنی مثال آپ ہی تھے۔ البتہ انہوں نے میرے ساتھ سینٹرل پروڈکشن یونٹ میں کام کیا اور اچھا کیا۔ ایک تو ان کی دھن مشکل ہوتی اوپر سے سونے پہ سہاگہ کہ میوزک کے پیس خدا کی پناہ ہوتے، پھر انٹرو اور انٹرول میوزک بھی ایسا مشکل بناتے کہ میوزیشن کو بجانا دشوار ہو جاتا۔ ’لال میری پت رکھیو بھلا‘ ان ہی کی بنائی ہوئی دھن ہے ”۔
باتیں تو ابھی اور بھی باقی تھیں لیکن سلیم صاحب کو ایک سرکاری میٹنگ میں شرکت کے لئے جانا تھا لہٰذا اتنی خوبصورت نشست پھر کسی اور وقت کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سلیم بزمی صاحب کو ریڈیو کے پروگراموں کی مزید بہتری اور لاہور مرکز کے مسائل پر قابو پانے کی توفیق عطا فرمائے۔








