جدید ناہید خان: اقتدار کے سائے اور رویوں کی بدلتی دنیا


دنیا میں جو لوگ اقتدار پہ قابض لوگ ہوتے ہیں ان کے قریبی ساتھی پہلے اقتدار کے مزے لیتے ہیں پھر ان کی یاد مین کتاب لکھ کر اپنے آپ کو اچھا اور ان کو ننگا کرتے ہیں، پاکستان مین بھی اور باہر بھی، بعض اوقات لوگ اقتدار کے اتنے قریب آ جاتے ہیں کہ وہ خود کو اقتدار سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر ان کا چلنا، بولنا، دیکھنا اور برتاؤ۔ سب کچھ بدل جاتا ہے۔ بات صرف کسی وزارت یا عہدے کی نہیں، بلکہ اس ”قربت“ کی ہے جو کسی طاقتور شخصیت کے ساتھ ہو۔ اور اگر یہ قربت غیر رسمی ہو، تو وہ مزید خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہے، کیونکہ پھر نہ وہ منتخب ہوتی ہے، نہ جواب دہ۔

یاد آتا ہے وہ دور جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی ہم راز اور با اعتماد رفیق ناہید خان، ہر وقت ان کے ساتھ ہوتی تھیں۔ حالانکہ وہ لوگوں سے لڑتی تھی، بدتمیزی کرتی تھی، مگر ہر کسی سے نہیں، اقتدار کے قریب ہونے کے باوجود ان کے انداز میں کبھی غرور نہ آیا۔ پارٹی کے وزیروں، مشیروں، کارکنوں اور حتیٰ کہ عام لوگوں سے بھی ان کا سلوک ایک جیسا اور شائستہ ہوتا۔ وہ جانتی تھیں کہ اقتدار کا سحر وقتی ہوتا ہے، مگر انسانیت اور عزت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ آج وہ ناہید خان کہیں سیاسی منظر سے غائب ہے۔ خاموش، سنجیدہ، اور غیر فعال۔ مگر ان کے نقش آج بھی پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ذہن میں ثبت ہیں۔

آج ایک نئی شخصیت کو پارٹی کے اندر ”جدید ناہید خان“ کہا جا رہا ہے۔ مگر افسوس کہ مشابہت صرف قربت میں ہے، سلوک میں نہیں۔ وہ ایک پاور فل میڈم کی سیکریٹری ہے، حالانکہ وہ اور اس کی ماں ماضی مین کمال کے اینٹی پی پی پی رہے ہیں یہاں تک کے بی بی کی شہادت پہ مٹھائیاں بانٹیں، آج وہ جدید ناہید، قیادت کے قریب ہونے کی بنیاد پر خود کو حاکم تصور کرتی ہے، وزیروں کو ڈانٹتی ہے، مشیروں پر حکم چلاتی ہے اور کارکنوں سے ایسے مخاطب ہوتی ہے جیسے وہ رعیت ہوں۔

یہ تبدیلی صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں۔ یہ ایک علامت ہے۔ اس رویے کی جو اب سیاسی جماعتوں کے اندر پنپ رہا ہے۔ قربت کے بل پر طاقت کا استعمال، اور عاجزی کے بجائے نخوت کا پرچار۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں پیپلز پارٹی کی پرانی روح کو یاد کرنا چاہیے۔ وہ روح جس میں بے نظیر جیسی قیادت تھی، ناہید جیسی قربت تھی، اور کارکنوں کے لیے عزت تھی۔

ہم نے ماضی میں جنید کو دیکھو۔ ایک فوٹوگرافر سے بلاول کا قریب ترین ساتھی بننے والا شخص۔ ہم جب جمیل سومرو کے لے چائے بسکٹ لے جاتے تھے اور علی قاضی کے گفٹ، مگر جنید بغیر تکبر کے آج بھی وہ ہی عزت کرتا ہے، آپ جمیل سومرو کو دیکھو۔ زرداری صاحب کا قریب ترین شخص جمیل سومرو، مگر ہر کسی سے عزت سے پیش آنے والا۔

تو پھر آج وہ کون سی تبدیلی ہے جو قربت کو غرور میں بدل دیتی ہے؟ کیا قیادت نے اس پہ آنکھیں بند کر رکھی ہیں؟ یا ہم سب کی عاجزی کو کمزوری سمجھ لیا ہے؟

اگر پیپلز پارٹی کو اپنے نظریے اور وراثت کو زندہ رکھنا ہے، تو اسے صرف بیانیے نہیں، رویے بھی ٹھیک کرنے ہوں گے۔

Facebook Comments HS