اونچی دکان پھیکا پکوان: پرائیویٹ مافیا کے تناظر میں
آج کل ہمارے تعلیمی ادارے ”دی ویژن“ میں ڈگری کلاسز کے علاوہ نویں اور دسویں جماعت کی کوچنگ بھی جاری ہے، موسم گرما کی تعطیلات میں کوشش کی جا رہی ہے کہ سائنسی مضامین کے ساتھ ساتھ انگریزی پر بھی خاص توجہ دی جائے، اس ضمن میں بچوں کو پارٹس آف گرائمر کے علاوہ ورڈ کلیکشن، سنٹینس میکنگ، ڈکشنری سے رہنمائی حاصل کرنے کا فہم اور انگریزی بول چال پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
اس بار ہمارے ہاں نویں دسویں میں جو بچے زیر تعلیم ہیں وہ انتہائی مہنگے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں، گزشتہ روز ان بچوں کا ٹیسٹ لیا گیا تو انتہائی مایوس کن کارکردگی دیکھنے کو ملی، ان بچوں کی انگریزی کو تو کچھ سمے کے لیے ایک طرف کر دیں ان کو اردو تک لکھنی نہیں آتی اور ہینڈ رائیٹنگ ایسی ہے کہ دیکھتے ہی حیرت ہوتی ہے کہ یہ واقعی مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ انگریزی کا یہ حال ہے کہ سٹوڈنٹ، ٹروتھ اور کمبینیشن کے اسپیلنگ تک لکھنا نہیں آتے اور لفظوں کی ادائیگی سن کر تو ایسا لگتا ہے کہ یہ اپنے والدین کا پیسہ برباد کر رہے ہیں۔
اگر مہنگے ترین پرائیویٹ اداروں میں پڑھنے کے باوجود بھی بچے ”فقرے کے تعارفی الفاظ، ہیلپنگ ورب کے درست استعمال سے ہی نابلد ہوں تو پھر ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے؟ پرائیویٹ تعلیمی چین کو تو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا نا! کیونکہ وہ تو سمے کے حساب سے اپنی دکان کی تڑک بھڑک اور زیب و زینت کے ساتھ“ کسٹمر بلڈنگ ”کرتے ہیں، یہاں تعلیم کسے چاہیے بھائی، شہرت اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی سہولیات کے عوض جو مرضی بیچ لیں یہاں سب بکتا ہے جناب۔
وقت کی اس چکا چوند میں ہمارے اذہان بونے بنتے جا رہے ہیں، یونیفارم تو خاصی چمکیلی ہے لیکن ذہن ماؤف ہو چکے ہیں، کلاس روم تو سہولیات سے آراستہ ہیں لیکن طالب علموں میں سیکھنے اور سمجھنے کا جذبہ مفقود ہو چکا ہے، پرائیویٹ تعلیمی ادارے مختلف تہوار، گالا ڈے، کلر ڈے حتی کہ اسٹیشنری تک کے نام پر بچوں اور والدین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔
ہمارے ایک استاد ہوا کرتے تھے، انہوں نے ایک روز ہجومی نفسیات کا فلسفہ کیا خوب سمجھایا جو آج بھی ذہن میں گڑا ہوا ہے، ان کا کوچنگ سینٹر بالکل سادہ سا ہوا کرتا تھا اور اسٹوڈنٹس کی تعداد بھی کچھ زیادہ نہیں تھی، ایک روز کہنے لگے کہ سب بچوں کو کوچنگ سینٹر سے 15 یوم کی چھٹی ہو گی۔ ہم بڑے حیران ہوئے کہ آخر کیا ماجرا ہے، اصرار پر بس اتنا بتایا کہ 15 یوم کے بعد تم سب جان لو گے، تعطیلات کے بعد جب ہم ٹیوشن سینٹر پہنچے وہاں کا تو نقشہ ہی بدلا ہوا تھا، خوبصورت کارپٹ، لش پش کرسیاں، انتہائی خوبصورت ٹیبل، ریشمی پردے اور کتابوں کے لیے شاندار ریک کے علاوہ دیواریں مختلف کیلیگرافی سے مزین تھیں۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، استاد آئے اور ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ کیسا لگا جھٹکا؟ انہوں نے کہا کہ بس چند روز انتظار کرو پھر اس ساری سرمایہ کاری کی کرامات دیکھنا، دیکھتے ہی دیکھتے اکیڈمی میں طلباء کی ریل پیل ہو گئی، ٹیوشن فیس دوگنی کرنے کے باوجود بھی کسی نے اف تک نہ کی۔ استاد صاحب نے سمجھانے والے انداز میں کہا کہ میرا اس میں کوئی کمال نہیں ہے، میں نے تو بس سرمایہ کاری کی ہے جس کا ریٹرن مجھے کئی گنا مل گیا ہے اور مزید بھی ملتا رہے گا۔
کمال صرف ”دکھاوے“ کا ہے، یہاں جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے، تعلیم و شعور سے یہاں کسی کو کیا سروکار میاں؟ دکھاوے کے بازار میں مہنگے ترین پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی اپنی دکانیں سجائے بیٹھے ہیں، والدین مطمئن ہیں کہ ہمارے بچے مہنگے اداروں میں پڑھتے ہیں، انہیں کیا خبر کہ پرائیویٹ مافیا تو اپنا شیئر والدین کی ہڈیوں سے نچوڑ رہا ہے لیکن بدلے میں جو ان کے بچوں کو مل رہا ہے وہ سب ”جنک“ ہے۔ ان کے ہاتھوں میں کتابیں تو مختلف برانڈز کی ہیں اور انگریزی زبان میں ہیں، بدقسمتی سے انگریزی میں تو وہ پہلے ہی فارغ ہوتے ہیں اب قومی زبان بھی بھولتے جا رہے ہیں۔
شعور کو تو رہنے دیجیے یہ جوہر نایاب ہم ایسوں کے حصے میں کہاں؟ جہاں سوال کی گنجائش نہ رہے وہاں اساطیری کہانیاں تراشی جانے لگتی ہیں، جو جتنا بڑا کہانی کار ہوتا ہے وہ اتنا ہی بڑا فنکار ہوتا ہے۔


