دراصل امن تشدد کا بیٹا ہے
ونڈو شاپنگ کی طرح کچھ اصطلاحات بھی بھلی لگتی ہیں۔ جیسے امن، شانتی، صلح جوئی وغیرہ وغیرہ۔ ہم میں سے اکثر سکول میں طرح طرح سے ہراساں ہوتے رہے ہیں۔ مگر اردگرد کے مہربان اور شفیق لوگ ہمیں شرافت کا پہاڑا بھولنے نہیں دیتے۔ کسی کے آگے ہم اونچا نہیں بول سکتے۔ بس دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں۔ اس احتیاط میں کہ والدین کو شکایت پہنچنے کی صورت میں قصور وار ہم ہی ٹھہرائے جائیں گے۔ امن کی خواہش اپنی جگہ، مگر یہ مسلسل خاموش رہنے سے کہاں نصیب ہوتی ہے۔
میں نے کبھی اسکول گیمز میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی ہاتھوں پیروں میں کبھی کسی سے پنگا لینے کی سکت محسوس کی۔ میں نے تو یہ دیکھا کہ آپ کی زندگی میں یہ نام نہاد امن تب تک نہیں آتا جب تک آپ طیش میں آ کر کسی دن اسکول کے سب سے شرارتی گینگ کے سرغنہ کی ناک نہیں پھوڑ دیتے۔ اگلے روز یہ ’کارنامہ‘ ایک ایک بچے اور ٹیچر کو ازبر ہوتا ہے کہ ایک کمزور سا لڑکا اس کو پیٹ گیا جو اسکول میں سب سے طاقتور ہونے کا ناٹک رچا رہا تھا۔ تشدد کے اس عمل کے بعد (جس کا کبھی آپ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے ) والدین تو آپ کو پیٹیں گے ہی مگر اسکول میں میٹرک تک آپ کی جو دھاک بیٹھے گی وہ ہے دراصل سُچی شانتی ڈاٹ کام۔
میں نہ تو تشدد کی وکالت کر رہی ہوں اور نہ ہی کسی طور اس کی قائل ہوں۔ پر مصیبت یہ ہے کہ اس دنیا میں عموماً امن کا راستہ بھی تشدد کی گلی سے ہی گزرتا ہے۔ گاندھی جی تک نے کہا: ”جب بزدلی اور تشدد میں سے کسی ایک کو چُننا پڑ جائے تو میں کہوں گا کہ تشدد کا انتخاب کرو۔“ شاید ایران نے بھی یہی کیا۔ وہاں لاکھ مذہبی فسطائیت سہی۔ مگر آزمائش کی گھڑی میں سب ایرانی خواہ سوشلسٹ ہوں، مارکسی ہوں، ملحد ہوں یا مذہبی، سب ایک ساتھ کھڑے رہے۔ جیسے شاہ کی فسطائیت کے خلاف کھڑے تھے۔ یوں لگتا ہے کہ تاریخی اعتبار سے ایرانیوں کو بزدلی کا طعنہ پسند نہیں۔ انہیں بخوبی احساس ہے کہ اس خطے میں طاقتور کے آگے آداب بجا نہ لانے والے وہ تنہا ہیں۔ وہ مرعوب نہیں ہوئے اور انہوں نے مزاحمت کی۔ مزاحمت طاقت یا شدت کے ترازو میں تولی نہیں جا سکتی۔ مزاحمت بس مزاحمت ہوتی ہے۔ وہ زنّاٹے دار تھپڑ جو کسی نام نہاد ناقابلِ تسخیر کے منہ پر پڑ جائے، بس وہی یاد رہتا ہے۔ ایک ہم ہیں جو کسی بھی لڑائی کو مذہبی رنگ دے کر اس کا حقیقی بیانیہ مسخ کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ بارہ جون سے پہلے ایران کے ایٹمی پروگرام کو تلف کرنے سے کم پہ بات نہیں ہوتی تھی اور آج یہ ہے کہ ایران سے امن مذاکرات کی کوشش ہو رہی ہے۔
میرے ابا گاؤں کے چودھری تھے۔ مگر نچلی ذات میں پسند کی شادی کرنے کی وجہ سے دادو نے ابا کو گھر سے نکال دیا اور وہ شہر میں آ کر بس تو گئے مگر یہاں جی نہ لگا۔ کہتے رہتے کہ گاؤں میں مسجد سے گھر جاتے تک آدمی دعا سلام کرتے کرتے تھک جاتا ہے مگر شہر میں ساتھ والے گھر کا بھی نہیں معلوم کہ کون ہے۔ کیا کرتا ہے۔ کہاں سے تعلق ہے۔ ذہین تو ابا تھے ہی۔ شہر میں بھی ہر بار کوئی نیا آئیڈیا، نیا کاروبار، نئے لوگ۔ مگر شہر میں تو دھوکہ دہی، فراڈ، نوسر بازی کی کرنسی ہی زیادہ چلتی ہے۔ گاؤں کی بدمعاشی تو بہت سیدھی سادی تھی۔ شہر میں دادا گیری کا اپنا ایک چلن ہوتا ہے۔ ابا چُپ چاپ یہ سب تماشا دیکھتے رہتے اور مسکرا دیتے۔ کیونکہ صرف کام کرنے کا، پنگا نہیں لینے کا۔
مگر ایک دن ابا کا میٹر گھوم گیا۔ لین دین کا کچھ معاملہ تھا۔ کسی نے زور آوری دکھاتے ہوئے ابا کو کوئی ننگی گالی دے ڈالی۔ بس پھر کیا تھا۔ ابا نے گیارہ مشٹنڈوں کو کپڑے دھونے والے ڈنڈے سے دھو ڈالا۔ ایک کا سر پھٹ گیا۔ اس وقت میں (یعنی چھ سالہ بچی) ہنگامے کی آواز سن کر گلی کی طرف دوڑی تو دیکھا کہ ایک بندے کے سر سے خون ٹپک رہا ہے۔ وہ نیم بے ہوش ہے اور کچھ لوگ اسے اٹھائے ہوئے سڑک کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ باقی ابا کے ہاتھوں پِٹتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پوری گلی اپنے اپنے دروازوں کے آگے کھڑی آنکھیں پھاڑے یہ منظر دیکھ رہی ہے۔ جب سب بھاگ گئے تو ابا نے میری طرف دیکھا، مسکرائے میرا بازو تھاما اور گھر آ گئے۔ ہُو کا عالم تھا۔ کس کی ہمت کہ ابا سے کچھ پوچھے۔ بس انہوں نے کپڑے بدلے اور تیار ہو کر بیٹھ گئے جیسے انہیں معلوم ہو کہ اب کیا ہونے والا ہے۔
کچھ ہی دیر میں کنڈی کی آواز آئی۔ میں دروازے کی طرف دوڑی تو ابا بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ باہر سادہ لباس میں دو پولیس والے کھڑے تھے۔ تھانے میں رپٹ لکھی جا چکی تھی۔ ابا دونوں سے بڑے پُرتپاک انداز سے ملے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔ اتفاقاً ایس ایچ او ہمارے گاؤں کے داماد نکلے۔ انہوں نے معاملہ دونوں طرف سے سنا، سمجھا اور پھر ابا کے پاس بیٹھ کر مسکراتے ہوئے کہنے لگے ”حافظ صاحب! یہ کیس تو آپ بھگت ہی لیں گے مگر اس کے بعد آپ کو کیا، آپ کے بال بچوں کو بھی کوئی یہاں گالی نہیں دے گا“ اور یہ بات اب تک سچ ثابت ہو رہی ہے۔ ابا تو کیس سے فراغت پا کر اٹلی چلے گئے مگر آج بھی اکیلے ابا کے ہاتھوں گیارہ ’ڈشکرے‘ پِٹنے کا قصہ علاقے میں ہر کسی کو ازبر ہے۔

