ہماری سچائیاں فرنگی زباں میں : بکر پرائز بانو مشتاق کی تخلیق ”دل کا چراغ“ کے نام
بُکر پرائز دنیا کا ایک انتہائی معتبر ادبی انعام ہے جو ہر سال فکشن کی صنف میں شاندار ادبی خدمات انجام دینے والے مصنفین کو دیا جاتا ہے۔ اس انعام کا مقصد اعلیٰ تخلیقی تحریر کو عالمی سطح پر تسلیم کرنا ہے، اور یہ انتخاب ان مصنفین کے لیے غیر معمولی شہرت، قارئین تک رسائی اور ادبی مقام کا تعین کرتا ہے۔ بُکر پرائز دو سطحوں پر دیا جاتا ہے۔ ایک بُکر پرائز جو انگریزی زبان میں اصل تحریر پر دیا جاتا ہے اور دوسرا انٹرنیشنل بُکر پرائز جو کسی بھی زبان میں لکھی گئی کتاب کے معیاری انگریزی ترجمے پر دیا جاتا ہے، جس میں مصنف اور مترجم دونوں کو مشترکہ انعام دیا جاتا ہے۔
اس انعام کے دائرہ کار میں پاکستانی مصنفین بھی کئی بار شامل ہوئے، اگرچہ اب تک کسی پاکستانی مصنف نے یہ انعام نہیں جیتا۔ محسن حامد کا ناول The Reluctant Fundamentalist بُکر کی طویل فہرست میں شامل ہوا اور عالمی سطح پر بہت پذیرائی حاصل کی۔ جس پر ڈائریکٹر میرا نائر فلم بھی بنا چکی ہیں۔ اسی طرح محمد حنیف کا طنزیہ ناول A Case of Exploding Mangoes بھی بُکر لانگ لسٹ میں جگہ بنا چکا ہے، جو پاکستانی سیاست، فوج اور اقتدار کی حقیقت پر گہری گرفت رکھتا ہے۔ کامُلہ شمسی کا ناول
Home Fire بُکر کی شارٹ لسٹ تک پہنچا اور مسلم شناخت، انتہا پسندی اور خاندانی وفاداری جیسے موضوعات پر ایک دلیرانہ تخلیق قرار پایا۔ ان مصنفین نے اپنے اپنے انداز میں پاکستان کی پیچیدہ حقیقتوں کو انگریزی ادب میں منتقل کر کے عالمی سطح پر پاکستان کی فکری نمائندگی کی۔
بھارتی مصنفین کا بُکر پرائز کے ساتھ تعلق نمایاں ہے۔ ارندھتی رائے نے 1997 میں اپنے ناول The God of Small Things سے بُکر پرائز جیتا اور اس کے بعد ان کا نام عالمی ادب کے منظر نامے میں مستقل طور پر شامل ہو گیا۔ اروند اڈیگا نے The White Tiger سے 2008 میں بُکر پرائز حاصل کیا، جو بھارت میں غربت، طبقاتی فرق اور طاقت کی سیاست پر ایک سخت تنقید ہے۔ ان کے علاوہ سلمان رشدی کا ناول Midnight ’s Children 1981 میں بُکر جیت چکا ہے، اور اسے بُکر آف بُکرز کا بھی اعزاز ملا، اگرچہ وہ برطانوی شہری ہیں لیکن ان کی شناخت بھارتی نژاد مصنف کے طور پر قائم ہے۔ اسی طرح گُذشتہ برسوں میں بھارتی علاقائی زبانوں کے مصنفین نے بھی انٹرنیشنل بُکر میں جگہ بنائی ہے۔ 2022 میں گیتانجلی شری کا ہندی ناول Ret Samadhi جس کا ترجمہ Tomb of Sand کے نام سے ہوا، انٹرنیشنل بُکر پرائز جیتنے والا پہلی ہندی کتاب بنا۔ اس کے بعد حال ہی میں 2025 میں بانو مشتاق کی کنڑا زبان میں مختصر کہانیوں کا مجموعہ دل کا چراغ Heart Lamp انٹرنیشنل بُکر پرائز کا فاتح ٹھہرا، جس نے جنوبی ہندوستان کی مسلم خواتین کی زندگیوں کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ اس ترجمے کی خاص بات یہ تھی کہ اس نے مقامی بولیوں، اردو، عربی اور ثقافتی لہجے کو برقرار رکھا۔
بانو مشتاق کی کتاب دل کا چراغ نہ صرف کنڑا زبان بلکہ پورے جنوبی ایشیائی ادبی منظرنامے کے لیے ایک غیرمعمولی سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔ یہ مختصر کہانیوں کا مجموعہ ہے جسے بانو مشتاق نے 1990 سے 2023 کے دوران اپنے لکھی گئی کہانیوں میں سے منتخب کر کے اس مجموعہ کو ترتیب دیا ہے۔
اس میں بارہ کہانیاں شامل ہیں جو مذہب، ذات پات، صنف اور سماجی نا انصافی جیسے موضوعات پر نہایت نرمی مگر جرات کے ساتھ روشنی ڈالتی ہیں۔ مصنفہ نے ان کہانیوں کو کئی دہائیوں کے تجربے، قانونی خدمات اور بطور ایک مسلم عورت اپنے ماحول میں محسوس کیے گئے تضادات سے کشید کیا ہے۔ کہانیاں بظاہر معمولی واقعات پر مبنی معلوم ہوتی ہیں لیکن ان میں چھپی ہوئی پرتیں، کرداروں کی خاموش مزاحمت اور ان کا داخلی سفر انتہائی پراثر ہے۔
بانو مشتاق کا تعلق انڈین ریاست کرناٹک سے ہے، وہ ایک وکیل، سماجی کارکن اور ادبی تحریک Bandaya Sahitya سے وابستہ ہیں، جو ادبی بغاوت اور سماجی انصاف پر زور دیتی ہے۔ ان کے تحریری سفر میں عورت کی خودمختاری، اقلیتوں کی شناخت، اور معاشرتی نظام کی طبقاتی درزیں بار بار موضوع بنتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں دادیوں، خالاؤں، نوجوان لڑکیوں اور پسماندہ طبقات کی وہ زبان ہے جو عام طور پر ادب کے مرکزی دھارے سے باہر رہ جاتی ہے۔
اس کتاب کا انگریزی ترجمہ دیپا بھاشتی نے کیا ہے، جس نے نہ صرف لفظی ترجمہ کیا بلکہ کنڑا، اردو، عربی اور مقامی لہجے کو شعوری طور پر برقرار رکھا۔ یہ ترجمہ صرف لغوی منتقلی نہیں بلکہ ثقافتی اظہار کی بھی خوب عکاسی کرتا ہے، جسے بُکر جیوری نے ”radical translation“ قرار دیا۔ اس ترجمے نے مغربی قارئین کے لیے ان نسوانی آوازوں کو ایک نئی وسعت دی، جنہیں عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔ دیبا بھاشتی بھی پہلی انڈین مترجم ہیں جنہیں اس انعام میں شریک کیا گیا ہے۔
بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بانو مشتاق نے بتایا کہ ان کے لیے لکھنا محض تخلیق نہیں بلکہ مزاحمت کا عمل ہے۔ ان کے الفاظ ہیں ”writing was an act of resistance“ ، وہ اپنے اطراف کی نا انصافیوں، خاموشیوں اور جبر کے خلاف کہانیوں میں لڑتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے کردار خود مختار ہیں، یہ کردار خود اپنی راہ اور ردعمل چنتے ہیں، اور اکثر مصنفہ سے بھی زیادہ جرات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ موجودہ ہندوستانی ماحول میں لکھنے والوں کو درپیش سینسرشپ، مذہبی دباؤ اور تہذیبی قدغنوں پر فکر کا اظہار کرتی ہیں، مگر ساتھ ہی اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ ادب میں سچ بولنے کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو۔
مجموعہ دل کا چراغ دراصل ایک ایسا آئینہ ہے جس میں جنوبی ہندوستان کی مسلم عورت کی زندگی، اس کے دکھ سکھ، اندرونی تضادات اور سماجی بندھن کی کٹھنایاں پوری شدت سے جھلکتی ہیں۔ اس کتاب نے یہ ثابت کر دیا کہ علاقائی زبانوں کا ادب بھی عالمی معیار پر اثر انداز ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں سچائی، جرات اور انسانیت کی صداقت شامل ہو۔
بانو مشتاق کی آواز اب صرف کنڑا بولنے والوں تک محدود نہیں، بلکہ ایک عالمی ادبی حقیقت بن چکی ہے۔ یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جنوبی ایشیائی ادب، خواہ وہ پاکستان سے ہو یا بھارت سے، اپنے منفرد سماجی و ثقافتی سیاق و سباق کے ساتھ عالمی ادب پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ ان ادیبوں کی تحریریں نہ صرف جمالیاتی لطف فراہم کرتی ہیں بلکہ عالمی قارئین کو ان معاشروں کی اندرونی ساخت، ٹوٹ پھوٹ، مزاحمت، اور امید سے روشناس کراتی ہیں۔ بُکر پرائز ان کے لیے محض ایک انعام نہیں بلکہ ایک عالمی اعتراف اور بین الثقافتی مکالمے کا ذریعہ بن چکا ہے۔


