پاکستان میں انٹرنیشنل ریلیشنز کی تدریس، تحقیق اور کانفرنسوں کا فکری بحران

پاکستان میں بین الاقوامی تعلقات (انٹرنیشنل ریلیشنز) کی تعلیم اور تحقیق کا منظرنامہ بظاہر علمی سرگرمیوں سے بھرپور دکھائی دیتا ہے۔ کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں۔ مقالے پیش کیے جاتے ہیں اور یونیورسٹیوں میں سیمینارز کا اہتمام ہوتا ہے۔ لیکن ذرا گہرائی میں جھانکیں تو یہ تمام سرگرمیاں علم کی تخلیق یا فکری آزادی کی بجائے مخصوص بیانیوں کی تصدیق اور حکومتی حلقوں کی خوشنودی کا ذریعہ معلوم ہوتی ہیں۔
یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان میں انٹرنیشنل ریلیشنز کی تعلیم واقعی علم کی تلاش کا سفر ہے یا پھر یہ ایک ایسی نمائشی علمی مشق یا بورنگ اکیڈمک سرگرمی بن چکی ہے جس کا مقصد صرف ریاستی اور بین الاقوامی طاقتوں کے بیانیے کی تکرار ہے؟ یہ بات حقیقت ہے کہ پاکستان میں منعقد ہونے والی بیشتر انٹرنیشنل ریلیشنز کی کانفرنسیں اور علمی سرگرمیاں ریاستی بیانیے کے گرد گھومتی ہیں۔
پاکستان میں انٹرنیشنل ریلیشنز کی بیشتر کانفرنسوں اور علمی سرگرمیوں کا عمومی رجحان ایک تنگ اور محفوظ فکری دائرے میں مقید ہے۔ مباحثے چند مخصوص اور ریاستی طور پر منظور شدہ موضوعات کے گرد گھومتے ہیں جن میں نمایاں طور پر سیکیورٹی اسٹیٹ کا دفاع شامل ہے۔ ہر بین الاقوامی تبدیلی، بحران یا واقعے کو ریاستی سلامتی کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں اٹھایا جاتا کہ سیکیورٹی ریاست کا ڈھانچہ خود داخلی جبر، سیاسی زوال اور سماجی ناہمواریوں کو کس طرح جنم دیتا ہے بلکہ مسلسل یہ تصور دہرایا جاتا ہے کہ ریاست ہر تنقید سے بالاتر ہے۔
اسی طرح مغرب کے ساتھ تعلقات کی ناگزیر اہمیت پر غیر تنقیدی زور دیا جاتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس جرمنی اور دیگر یورپی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو پاکستان کی بقا کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے مگر یہ بحث کہیں سننے کو نہیں ملتی کہ یہی طاقتیں عالمی سطح پر دیگر ممالک میں عسکری مداخلتوں، سامراجی استحصال اور مالیاتی جبر کی مرکزی قوتیں بھی ہیں۔ مغرب کے ساتھ ”مصالحانہ تعلقات“ کو بلا تنقید فروغ دینا ایک معمول بن چکا ہے اور فکری آزادی کو ان تعلقات کی قیمت پر قربان کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو بھی ان کانفرنسوں میں ایک مقدس ترقیاتی منصوبے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے ماحولیاتی، سماجی اور معاشی اثرات پر کوئی گہری یا بے باک تنقید سننے کو نہیں ملتی۔ یہ سوال نہیں اٹھایا جاتا کہ کیا سی پیک سے فائدہ اٹھانے والی سرمایہ دار یا سیاسی اشرافیہ عوام کی ضروریات کو پس پشت ڈال رہی ہے یا یہ کہ کس طرح کچھ مخصوص حلقے اس منصوبے سے غیر متناسب فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ بلکہ سی پیک کے معجزات اور کرامات اس طرح پیش کیے جاتے ہیں کہ جیسے ملک کی تقدیر بس بدلنے والی ہے حالانکہ اس کے اثرات پر سوال اٹھانے کی اجازت کم ہی دی جاتی ہے۔
اسی تسلسل میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو بھی مبالغہ آمیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ چاہے یہ کسی قرارداد میں معمولی ترمیم ہو یا کسی عالمی رہنما سے رسمی ملاقات ہر چیز کو ایک بڑی کامیابی بنا کر بیان کیا جاتا ہے مگر اس عمل میں اس بات پر غور نہیں کیا جاتا کہ اکثر ان ”کامیابیوں“ کی پشت پر داخلی کمزوری، عالمی تنہائی یا اصولی موقف کی قربانی شامل ہوتی ہے۔
ان کانفرنسوں میں عالمی سامراجی طاقتوں، نو آبادیاتی ڈھانچوں کے تسلسل، عالمی مالیاتی اداروں کے تسلط یا داخلی سیاسی جبر پر سنجیدہ اور بے باک تنقید شاذ و نادر ہی سننے کو ملتی ہے۔ اگر کبھی ایسے موضوعات کو چھوا بھی جائے تو ان پر گفتگو انتہائی رسمی، نرم اور مصلحت پسند انداز میں ہوتی ہے تاکہ طاقت کے بنیادی ڈھانچوں کو چیلنج نہ کیا جا سکے۔ زبان کو اس قدر محتاط بنا دیا جاتا ہے کہ نہ کوئی سوال مکمل اٹھتا ہے نہ کوئی اصل جواب تلاش کیا جاتا ہے۔
مثلاً جب آئی ایم ایف کے پروگراموں پر بات ہوتی ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو مذاکرات میں زیادہ مہارت دکھانی چاہیے تھی مگر یہ سوال نہیں اٹھایا جاتا کہ خود عالمی مالیاتی ادارے ترقی پذیر ممالک پر کس طرح سامراجی استحصالی معاشی پالیسیاں مسلط کرتے ہیں۔ کشمیر یا فلسطین پر ہونے والی کانفرنسوں میں بھی عموماً یہ زور دیا جاتا ہے کہ سفارتی کوششیں تیز کرنی چاہئیں مگر عالمی طاقتوں کی منافقت یا پاکستانی ریاست کے کمزور اور غیر اصولی موقف پر کوئی سخت تنقید سننے کو نہیں ملتی۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بھی یہی حال ہے سرمایہ کاری کے فوائد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے مگر یہ سوال دب جاتا ہے کہ کیا یہ سرمایہ کاری پاکستان کو نئی معاشی نو آبادی میں تبدیل کر رہی ہے۔
یوں پاکستان میں انٹرنیشنل ریلیشنز کی کانفرنسیں دراصل نمائشی فورمز میں بدل چکی ہیں جہاں محفوظ، قابل قبول اور منظور شدہ موضوعات پر رسمی گفتگو کی جاتی ہے۔ ان کانفرنسوں کا مقصد طاقتور اداروں کو خوش رکھنا اور عالمی بالادست ڈھانچوں کے ساتھ ہم آہنگ رہنا بن چکا ہے۔ یہ فکری ماحول نہ صرف علم کی تخلیق کو محدود کرتا ہے بلکہ علم کو طاقت کی توثیق کا آلہ بنا دیتا ہے۔ جبکہ اصل علم وہ ہے جو سوال اٹھانے، طاقت کو للکارنے اور مظلوموں کے حق میں مزاحمت کی راہ ہموار کرے۔ کانفرنسوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں انٹرنیشنل ریلیشنز کی تدریس عمومی طور پر ایک ایسے فکری جمود کا شکار ہے جہاں آزاد سوال اٹھانے کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔ سامراجی طاقتوں، نیو لبرل آرڈر اور نو آبادیاتی ورثے پر کی جانے والی تنقید یا تو مصلحت کا شکار ہوتی ہے یا اس حد تک نرم کر دی جاتی ہے کہ وہ بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ حتیٰ کہ ”تنقید“ بھی اکثر کنٹرولڈ حدود کے اندر ہوتی ہے یعنی ایک ایسی حد بندی جس میں اصل طاقت جبر اور ظلم کو براہِ راست چیلنج کرنے کی ہمت نہیں کی جاتی۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر اساتذہ اور ریسرچرز کے لیے کانفرنسوں میں شرکت کا مقصد علم کا پھیلاؤ یا سوالات کا ابھار نہیں بلکہ سی وی میں اضافے، ترقیاتی فوائد، اور ادارہ جاتی قبولیت کا حصول ہوتا ہے۔
کانفرنسوں میں شرکت کا مقصد علم کے حصول کے بجائے پروفیشنل مفادات، کیریئر کی مضبوطی، ادارہ جاتی قبولیت، سوشل سرکل اور سی وی میں اضافہ بن چکا ہے۔ اکثر اساتذہ اور ریسرچرز ان کانفرنسوں کو ایک سرمایہ کاری کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں علم کی تخلیق کے بجائے دیگر فوائد پر زور دیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کی تعلیمی کمیونٹی میں اس حد تک عام ہو چکی ہے کہ تحقیق کی نوعیت سطحی، محفوظ، اور بعض اوقات محض ”گھسے پٹے“ موضوعات پر مرکوز رہتی ہے۔ جن موضوعات پر سیمینارز یا کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے وہ محض ان موضوعات تک محدود ہوتے ہیں جو پہلے ہی ریاستی بیانیے اور عالمی معیار کے مطابق ”محفوظ“ سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی بھی عالمی تعلقات پر گفتگو کو ”ریاستی مفادات“ اور ”سیکیورٹی خطرات“ کے جال میں جکڑ لیا جاتا ہے۔ اس حقیقت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ کانفرنسوں میں کامیابی کی پیمائش علمی معیار یا تخلیقی تحقیق کی بنیاد پر نہیں کی جاتی بلکہ یہ محض اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ آپ کی ”پریزنٹیشن“ کتنی متاثر کن تھی یا آپ نے کتنے زیادہ لوگوں سے ”نیٹ ورکنگ“ کی۔ یہاں علمی گفتگو ایک ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے اور اس کی جگہ سجاوٹی پاور پوائنٹس، بے معنی گفتگو اور بورنگ تقاریر لے لیتی ہیں اور یہ سب کرتے وقت خوش گمانی یہ رہتی ہے کہ جیسے بہت بڑا علمی اور فکری کام کیا جا رہا ہے۔ اگر بالفرض آپ کسی نئی فکر یا تنقیدی نظریہ پر بات کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو فوراً ”ناراض“ یا ”غیر سنجیدہ“ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ فکری غلامی کا ایک ظالمانہ طریقہ ہے جس میں حقیقی تنقیدی شعور کی کوئی گنجائش نہیں۔ تحقیقی اسلوب وہی ہوتا ہے جو ریاست یا اس کے ادارے منظور کرتے ہیں۔ جو سوالات سے زیادہ ”جوابات“ پر مرکوز ہوتے ہیں۔ پاکستانی کانفرنسوں میں علم کی تخلیق یا غیر روایتی متبادل نقطہ نگاہ کے بجائے محض نمائش کا رجحان غالب ہے۔ یہ کانفرنسیں اکثر ایک ”پریزنٹیشن“ کا مقابلہ بن چکی ہیں جہاں نئی علمی و فکری جہت کے بجائے شرکاء اپنی شخصیت اور ادارے کی شبیہ بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی ریسرچر کی تحقیق کو اس کے خیالات کی گہرائی یا اس کے علم کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی پیشکش کی پذیرائی اور ”دلچسپ“ انداز کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ اسی طرح موضوعات اکثر ”مقبول“ یا ”منظور شدہ“ بیانیوں تک محدود ہوتے ہیں تاکہ کانفرنس کے منتظمین یا حاضرین کو خوش کیا جا سکے۔
مزید برآں جب کوئی محقق عالمی سامراجی نظام یا نو آبادیاتی اثرات پر بات کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خیالات کو نہ تو سنجیدگی سے سنا جاتا ہے اور نہ ہی اس پر گہری بحث ہوتی ہے کیونکہ ان موضوعات کو ایک طرف ”متنازعہ“ سمجھا جاتا ہے اور دوسری جانب ان موضوعات سے متعلق علمی شعور بھی بہت کم پایا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں مغربی سرمایہ داری کے نظام، ایٹمی ہتھیاروں اور سٹیٹس کوو کو برقرار رکھنے والے روایتی موضوعات پر پر پیش کی جانے والی سطحی تحقیقات کی زیادہ پذیرائی ہوتی ہے۔ اس ساری صورتحال میں علم کی آزادی اور سوال اٹھانے کی بجائے محض ”پرفارمنس“ کی اہمیت بڑھ گئی ہے جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ حقیقت، فکر کی آزادی اور تنقید کے بجائے کانفرنسیں اب ایک خود ستائشی مقابلہ بن چکی ہیں۔
پاکستان میں اگرچہ ایک تخلیقی اور تنقیدی اقلیت بھی موجود ہے۔ ایسے محققین اور طلبہ جو Post Colonial Theory، Critical Theory اور Decolonial Thought سے متاثر ہو کر سچے اور بے باک سوالات اٹھاتے ہیں مگر انہیں اکثر ریاستی دباؤ، ادارہ جاتی جبر اور علمی محفلوں میں حاشیہ نشینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی آوازیں یا تو دبائی جاتی ہیں یا ”باغی“ اور ”مشکوک“ قرار دے کر نظرانداز کر دی جاتی ہیں۔
پاکستان میں انٹرنیشنل ریلیشنز کی تعلیم، تحقیق اور کانفرنسوں کا رجحان مغربی نصابوں کی غیر تنقیدی نقالی گلوبل نارتھ اور یورو سینٹرک بیانیے کی توثیق کی طرف مائل ہے۔ پاکستانی تعلیمی اداروں میں انٹرنیشنل ریلیشنز کی تدریس میں بیشتر نصاب امریکی۔ یورپی مفروضوں پر مبنی ہوتے ہیں جنہیں بغیر کسی تنقید یا سوال کے اپنا لیا جاتا ہے۔ ان نصابوں میں پیش کیے جانے والے نظریات Liberalism، Realism، Constructivism، Neo liberalism، Neo Realism کو بغیر کسی پوسٹ کالونیل تجزیے کے پاکستانی تعلیمی ماحول میں پڑھایا جاتا ہے جس کی وجہ سے سامراجی رویوں اور مغربی طاقتوں کے اثرات کو چیلنج نہیں کیا جاتا۔ اس کے علاوہ گلوبل نارتھ کے بیانیے کو ایک اعلیٰ، حتمی، ابدی اور ازلی سچائی کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جس میں ترقی پذیر ممالک کی مشکلات اور نوآبادیاتی سامراجی اثرات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی تدریس اور تحقیق میں مغربی فکری ماڈلز اور بیانیوں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ فکری آزادی اور سامراج مخالف نظریات کو نظرانداز کیا جاتا ہے جس سے تعلیمی ادارے عالمی طاقتوں کے مفادات کو تقویت دینے والے ادارے بن کر رہ جاتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اصل علم وہ ہے جو نہ صرف موجودہ حقیقتوں کو بیان کرے بلکہ ان میں چھپے سوالات کو ابھارے۔ طاقت کے ڈھانچوں کو بے نقاب کرے۔ ظلم کی جڑوں کو ہلائے اور مظلوموں کو زبان دے۔ علم وہ ہوتا ہے جو فرد یا قوم کی حالتِ زار کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے جو سماج میں پائی جانے والی نا انصافیوں طبقاتی تفریق اور سیاسی جبر کو چیلنج کرتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں بیشتر کانفرنسیں اور علمی سرگرمیاں علم کو طاقت کے آلے کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
جب تک پاکستان میں تعلیمی آزادی کو حقیقی معنوں میں فروغ نہیں دیا جائے گا سامراجی اور نو آبادیاتی بیانیے کو کھل کر چیلنج نہیں کیا جائے گا اور بین الاقوامی تعلقات کو مظلوم اقوام کی نظر سے نہیں پڑھا جائے گا تب تک پاکستان میں انٹرنیشنل ریلیشنز صرف خوبصورت لفاظی، بے روح فقروں، سجاوٹی پاور پوائنٹس اور نمائشی تصویروں کا اجتماع بنی رہیں گی جو حقیقی علم، مزاحمت اور نجات کی تحریک سے عاری ہوں گی کیونکہ علم وہ نہیں جو زنجیریں پہنے تحقیق وہ نہیں جو جبر کی غلامی منظور کرے۔ علم تو وہ ہے جو سوال بنے اور تحقیق وہ ہے جو آزادی کی صدا بنے۔

