کوہ فاس: ایران کی نئی جوہری پناہ گاہ کا انکشاف


دنیا کی بڑی طاقتیں ہمیشہ اپنے تحفظ کے نام پر وہ فیصلے کرتی ہیں، جن کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ کبھی یہ فیصلے جمہوریت کے تحفظ کے نام پر ہوتے ہیں، کبھی عالمی امن کے لیے، اور کبھی خطرناک ریاستوں کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے۔ مگر سچ یہ ہے کہ ان تمام دعوؤں کے پیچھے اصل محرک طاقت کے توازن کا خوف اور غلبے کی ہوس ہوتی ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے حالیہ حملے اور اس کے جواب میں یورینیم کی گمشدگی، اس کھیل کا تازہ ترین باب ہے۔

ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان جیسی حساس جوہری تنصیبات پر امریکی بی۔ 2 اسٹیلتھ طیاروں کے ذریعے ہونے والے حملوں نے بظاہر ایران کے جوہری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا۔ مگر جو چیز ان حملوں کے بعد منظرعام پر آئی وہ امریکہ اور اسرائیل کے لئے مزید تشویشناک ہے۔ ایران نے حملوں سے ایک دن قبل ہی اپنے 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کسی خفیہ اور محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ سیٹلائٹ تصاویر اور خفیہ رپورٹس کے مطابق، یہ مقام ”کوہ فاس“ ہو سکتا ہے، جو نہ صرف زیادہ گہرا بلکہ زیادہ محفوظ اور جدید سہولیات سے آراستہ ہے۔

یہ بات نہایت غور طلب ہے کہ ایران نے اس خفیہ منتقلی کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا، جب دنیا کی توجہ ایران۔ اسرائیل جنگ پر مرکوز تھی۔ فردو تنصیب کے باہر ٹرکوں کی مشکوک نقل و حرکت، اور سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر جن میں پہاڑ کے اندر 6 سوراخ اور زمین پر واضح گڑھے دکھائی دیتے ہیں، یہ سب کچھ واضح کرتا ہے کہ ایران نے اس حملے کی پیشگی تیاری کر رکھی تھی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایران اپنے سب سے قیمتی جوہری اثاثے کو حملے سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو چکا ہے تو کیا امریکہ اور اسرائیل کا یہ حملہ صرف علامتی کارروائی تھی؟ یا پھر یہ خفیہ انٹیلی جنس ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے؟ ایران کے حوالے سے اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، مگر اس کا یہ دعویٰ بھی رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف توانائی اور طبی مقاصد کے لیے ہے۔ ان دونوں بیانیوں کے بیچ کہیں ایک سچ چھپا ہے، جو دنیا کو ایک نہایت حساس مقام پر لا کھڑا کرتا ہے۔

کوہ فاس کی مبینہ تنصیب پر نظر ڈالیں تو اس کی جسامت اور گہرائی فردو سے زیادہ ہے۔ زمین سے تقریباً 100 میٹر نیچے واقع یہ مقام نہ صرف زمینی بلکہ فضائی حملوں سے بھی بچاؤ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ داخلی و خارجی راستوں کی کثرت، زیر زمین سرنگوں کا جال، اور حفاظتی نظام کی جدید ترین سطح، یہ سب کچھ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری اثاثوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک نئی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو صرف دفاعی نوعیت کی نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ”ردعمل“ کے امکان کو بھی تقویت دیتی ہے۔

بین الاقوامی برادری، خاص طور پر مغرب، طویل عرصے سے ایران پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ تاہم، یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مغرب خود بھی متعدد مرتبہ ان معاہدوں سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہوا ہے، جیسا کہ 2018 میں امریکہ کا جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) سے نکلنا۔ اگر طاقتور ممالک خود عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کریں گے، تو دوسرے ملکوں سے قانون پسندی کی توقع کیوں؟

ایران کے 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر میں حالیہ اضافے نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) سمیت عالمی طاقتوں کو چونکا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2025 کے آغاز تک ایران کے پاس 133.8 کلوگرام افزودہ یورینیم موجود ہے ایک ایسی مقدار جو ایک ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔ اگر یہ ذخائر واقعی کوہ فاس میں موجود ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام نہ صرف برقرار ہے، بلکہ محفوظ تر ہو چکا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اگرچہ کہا ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیت اب ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں کم ہے، لیکن خود ان کا یہ اعتراف کہ مکمل بحالی ممکن ہے، اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ حملوں نے ایران کو برسوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ درحقیقت، اس صورتحال نے ایران کو جوہری صلاحیت کو اور بھی خفیہ، محفوظ اور پراسرار انداز میں آگے بڑھانے کا جواز فراہم کر دیا ہے۔

عالمی امن کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اگر یورینیم واقعی محفوظ مقام پر منتقل ہو چکا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایران نے نہ صرف اپنی ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کو بہتر بنایا ہے، بلکہ وہ اس پوزیشن میں بھی آ چکا ہے کہ آئندہ حملوں کی صورت میں جوابی حکمت عملی اختیار کر سکے۔ اب مسئلہ صرف ایران کا نہیں، بلکہ ایک بڑی جنگ کے امکانات کا ہے، جو مشرق وسطیٰ کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ قومی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی طاقت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ جب تک عالمی طاقتیں یک طرفہ فیصلے کرتی رہیں گی، تب تک ایران جیسے ممالک کے لیے جوہری صلاحیت ”دھمکی“ سے زیادہ ”بچاؤ“ کا ہتھیار بنے گی۔

دنیا کو آج اس موڑ پر کھڑا دیکھ کر، حکیم لقمان کا ایک قول یاد آتا ہے : ”ظلم کے مقابلے میں اگر طاقت نہ ہو، تو عدل بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔“ اگر عالمی طاقتیں واقعی جوہری پھیلاؤ کو روکنا چاہتی ہیں تو انھیں اپنی روش پر بھی نظرثانی کرنی ہو گی۔ دوہرا معیار، سیاسی مصلحتیں اور طاقت کا نشہ، دنیا کو ایسے مقام پر لا رہا ہے جہاں تباہی کی کوئی حد باقی نہیں رہے گی۔ ایران کا جوہری معاملہ صرف ایک ملک کی ضد یا انا کا نہیں، بلکہ عالمی نظام کی ناکامی کی علامت بن چکا ہے۔ وقت ہے کہ دنیا اپنی پالیسیوں میں انصاف، شفافیت اور برابری کا عنصر شامل کرے، ورنہ یہ افزودہ یورینیم کہیں صرف ٹیکنالوجی کا نشان نہ رہ جائے، بلکہ انسانیت کی بربادی کا سامان بن جائے۔

Facebook Comments HS

One thought on “کوہ فاس: ایران کی نئی جوہری پناہ گاہ کا انکشاف

  • 01/07/2025 at 2:47 شام
    Permalink

    میری معلومات کے مطابق ٹرمپ لاکھ کہہ رہا تھا کہ فردو پر حملہ ایک دو ہفتے بعد ہوگا مگر شاید پاکستان یا قطر کی معرفت ایران کو یہ باور کرادیا گیا تھا کہ کس تاریخ کو حملہ ممکن ہے اس حملے کا مقصد ایرانی پروگرام یا مقام کو تباہ کرنا نہیں تھا بلکہ جس طرح اسرائیل اس مصیبت میں پھنس گیا تھا ۔۔ یہ محض گونگلوں سے مٹی جھاڑنے والا حملہ تھا۔ تاکہ دونوں ملکوں بالخصوص اسرائیل کی طرف سے سیز فائر ہوسکے۔

    ایرا ن نے بھی امریکہ کا کاغذ پر حساب برابر کرنے کے لئے قطر کو آگاہ کردیا تھا کہ کب اس نے قطر میں امریکی اڈے پر حملہ کرنا ہے تاکہ قطر ناراض نہ ہو اور امریکی جہاز اور رڈار وغیرہ تباہ نہ ہوں۔

    یہی وجہ ہے کہ ایران سے فردو سے متعدد اہم مشینری چیزیں اور افزودہ یورینیم شفٹ کردیا تھا۔ لیکن یہ محض ایک ہوا میں کیا گیا بیان ہے وگرنہ یہ کہاں سے پتہ چلا کہ ایران کے پاس اتنے کلوگرام 60 فی صد افزودہ یورینیم موجود ہے اور وہ بھی فردو میں ۔۔۔یہ اب ایک فیک نیوز بھی ممکن ہیں۔

Comments are closed.