خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی اور خان کی عوامی مقبولیت
جب رعایا پہ نا اہل نالائق حاکم مسلط ہو جاتے ہیں تو ان ریاستوں میں المیوں کا وقوع پذیر ہونا ایک عام سی بات ہو جاتی ہے۔ ایک کے بعد ایک المیہ ریاستی کم بختی، نا اہلیت و نالائقیت پہ نوحہ کناں ہوتا ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب خلیفہ مقرر ہوئے تو وہ راتوں کو مدینہ منورہ میں گھوم پھر کر اپنی رعایا کی دیکھ بھال کرتے انہیں فکر ستاتی کہ دریا فرات کے کنارے اگر کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو روزِ محشر اللہ تعالیٰ انہیں ذمے دار ٹھہرائے گا اور ان سے باز پرس ہوگی۔ آپ کو صرف اپنی رعایا کی خوشحالی اور ترقی کی فکر ستاتی، وہ دن رات اسلام کی ترویج و ترقی اور اپنی رعایا کے سکھ چین کے لیے بے چین رہتے۔
پاکستان میں بھی ایک ایسا شخص برسرِ اقتدار آیا جو ریاست مدینہ کا نعرہ لگا کر، عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتا رہا۔ بدقسمتی سے عوام کو جھوٹ کا رس گھول کر پلانے والی اشرافیہ نے ایک ایسے ناسور کو اقتدار کے سنگھاسن پہ بٹھایا جس نے نبی کریم ﷺ کی ہدایات کے بالکل برخلاف اور خلفائے راشدین کی اقتداء کرنے کے بجائے ان سے اعراض کیا۔ ایک ایسا طرزِ حکمرانی اختیار کیا جس کی بنیاد صرف جھوٹ، نفرت، شرانگیزی اور منافقت کے پایوں پہ کھڑی کی۔
عمران خان صاحب کے اِیَّاکَ نَعْبُدُ و َ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پڑھ کر عوامی اجتماعات میں عوام کو گمراہ کرنے اور انہیں اپنے مایا جال میں پھنسانے کے ارشادات پہ کئی سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ مگر جب بات ان کی کارکردگی جانچنے کی ہو تو صرف خیبرپختونخوا میں ان کے مسلسل تین ادوارِ حکومت کو جانچنا ہی ان کی منافقانہ سیاست کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔
خیبرپختونخوا میں خان صاحب نے اپنے پہلے اقتدار میں پرویز خٹک کو وزیر اعلیٰ نامزد کیا، جو پیپلز پارٹی سے اپنی دہائیوں پہ مشتمل رفاقت توڑ کر انہیں پیارے ہوئے تھے، ان کے پانچ سالہ دور حکمرانی میں بی آر ٹی، مالم جبہ، اور بلین ٹری سونامی جیسے منصوبے میں اربوں کھربوں روپے کی کرپشن منظر عام پر آئی مگر خان صاحب مسلسل اِیَّاکَ نَعْبُدُ و َ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پڑھ کر اس کرپشن سے صرفِ نظر کرتے رہے۔ پھر 2018 میں انہیں محمود خان جیسا گوہرِ نایاب پختونوں پہ مسلط کرنے کے لیے ہاتھ لگا جن کا تعلق ضلع سوات کی تحصیل مٹہ سے تھا، کارکردگی کو اگر دیکھیں تو پرویز خٹک صاحب کا تسلسل نظر آئے اور اس پہ مزید جدت ان کی جہالت اور نا اہلیت کے تڑکے نے بھی لگایا۔ خیبرپختونخوا کی نہ قسمت بدلی نہ ہی حالات میں بہتری آئی بلکہ دن بدن انتظامی ابتری، کرپشن میں اضافہ، انفراسٹرکچر کی تباہی میں تیزی آتی گئی۔
پھر آیا 2024 جب ایسا محسوس ہوا کہ شاید پختون قوم کو اپنی حالت زار پہ خود ہی رحم آ جائے اور وہ اپنی روایات کے مطابق کارکردگی کی بنیاد پر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں اور اپنے لیے بہتر حکمرانوں کا انتخاب کریں، لیکن اس بار بھی پختونوں نے تحریک انصاف کی بدعنوان نا اہل اور نالائق جماعت پہ اعتماد کر کے اپنے متعلق یہ تاثر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا کہ پختون انتہائی با شعور اور کارکردگی کی بنیاد پر اپنے حکمران چننے والی قوم ہے۔ اس بار عمران خان صاحب نے اپنی جماعت کے سب سے بدترین اور متنازعہ شخص علی امین گنڈاپور کو پختونوں کی نمائندگی کے لیے چن کر پختونوں کو واضح پیغام دیا کہ آپ پہ حکمرانی کرنے کے لیے اس سے بہتر چوائس نہیں ہو سکتی۔
خیبرپختونخوا جو پچھلی دو دہائیوں سے ترقی، تبدیلی کے نام پہ مسلسل دھوکے کا شکار ہے اس وقت عملاً تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ دارالحکومت پشاور کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید اس شہر سے کوئی ذاتی دشمنی نکالی جا رہی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے ہزارہ ڈویژن، مالاکنڈ ڈویژن، چترال جنہیں اگر پاکستان میں سیاحت کی شہ رگ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا وہ بھی تباہی کا شکار ہو چکے ہیں۔ سوات جہاں سے حسین دریائے سوات بہتا ہے چکدرہ سے لے کر مدین بلکہ بحرین تک سنگ ریزوں کی کھدائی اور دریا سے بجری نکالنے کا عمل مسلسل پچھلے دس سالوں سے جاری ہے جس کی وجہ سے دریائے سوات میں ٹراؤٹ مچھلی ناپید ہوتی جا رہی ہے بلکہ ہجرت کر کے آنے والے آبی پرندوں کی آمد بھی تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے، کھدائی کی وجہ سے دریا میں پڑنے والے خطرناک کھڈوں میں اب مقامی لوگ بھی ڈوبنے لگے ہیں اوپر سے دریائے سوات، دریائے کنہار، دریائے چترال اور ان ملحقہ علاقوں میں سیاحوں کی حفاظت اور رہنمائی کے لیے بھی کوئی خاطر خواہ انتظامات نظر نہیں آتے۔
ہزارہ اور مالاکنڈ ڈویژن میں دس ہزار سے زائد چھوٹے بڑے ہوٹل ہیں جہاں ہر سال لاکھوں ملکی اور غیر ملکی سیاح قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے آتے ہیں مگر پچھلے کچھ سالوں سے ان علاقوں میں سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے حادثات پہلے سے کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ ان حادثات میں اضافے کے اسباب میں جہاں سیاحوں کی بے احتیاطی ایک سبب ہے وہیں خیبرپختونخوا حکومت کی بدانتظامی، احتیاطی سہولیات کا ناپید ہونا اور ناقص ریسکیو انتظامات سب سے بڑا سبب ہیں۔ کچھ روز قبل ناران کاغان میں سیاحوں کی گاڑیوں کو پیش آنے والے اندوہناک واقعات اور وادی سوات میں سیلاب اور جھیلوں اور دریاؤں پہ سیاحوں کے ڈوبنے کے واقعات نے خیبرپختونخوا حکومت کی چودہ سالہ بدترین حکمرانی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔
کے پی میں بدترین کارکردگی، کرپشن، بدانتظامی کے باوجود میں نے عوام میں عمران خان کی مقبولیت کو اب بھی دوسری سیاسی جماعتوں کی نسبت زیادہ پایا، اور جب یہ سوال میں نے سوات اور ناران میں چند مقامی لوگوں سے کیا تو ان کے پاس صرف ایک جواب تھا کہ قیدی نمبر 804 کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے اور وہ ایماندار ہے۔ یقین مانیں مجھے اندھ وشواس میں ڈوبے پختونوں کی ذہنی حالت پہ بہت افسوس ہوا۔ ایک ایماندار رہنما کی قیادت میں اتنی بدترین حکمرانی اس رہنما کی ایمانداری اور دیانتداری پہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اس وقت سوات میں اٹھارہ سیاحوں کے ڈوبنے کے المناک سانحے کی وجہ سے جہاں ملک بھر میں پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پہ شدید تنقید ہو رہی ہے وہیں میں اس وقت سوات میں اپنی آنکھوں سے عمران خان اور ان کی حکومت کے خلاف تیزی سے بڑھتے ہوئی عوامی نفرت اور احتجاج کو دیکھ رہا ہوں اور اندازہ لگا رہا ہوں کہ کیا تواتر سے وقوع پذیر ہونے والے انسانی المیوں اور انتہائی بری حکمرانی کے بعد بھی خان صاحب کی عوامی مقبولیت کم ہو گی یا نہیں، اگر یہ مقبولیت اپنی جگہ پہ قائم رہتی ہے تو پھر اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جائے گا کہ پاکستان کے تمام صوبوں کے عوام کے مقابلے میں کے پی کے کے عوام سیاسی شعور سے عاری ہیں اور اپنی تباہی بربادی کے خود ذمہ دار ہیں۔


