ن لیگ کے جدِ امجد کا فرمان


کہتے ہیں کہ جاتی عمرہ میں دنیا کی ہر نعمت موجود ہے سوائے کتاب کے۔ نون لیگ کے حامی نامور صحافی مجیب الرحمان شامی بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

کتاب سوچنا سکھاتی ہے۔ مرد و زن کے مادی وجود کو انسان کا اخلاقی وجود عطا کر دیتی ہے۔ معاشرے میں کتاب سے دوری اور فتوے سے قربت پیدا کرنے والے نون لیگ کے جد امجد ضیاءالحق فرماتے تھے کہ میں استادوں اور شاعروں سے بہت تنگ ہوں۔ یہ بہت ظالم طبقہ ہے جو سوچتا بھی ہے۔ کہتا بھی ہے۔ اور لکھتا بھی ہے۔ یہ سوچ نون لیگ کی گُھٹی میں شامل ہے اور آج بھی نون لیگ میں یہ خوف موجود ہے کہ کتاب اور علم و ادب کی روشنی پھیلنے سے ہماری سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ نون لیگ ایک ایسے خاندان کی ملکیت ہے جس میں کوئی عالم، محدث، فلسفی، مفکر، مصور، دانشور، صحافی، مصنف، شاعر، ادیب، بیوروکریٹ، انجینئر، ڈاکٹر، پروفیسر یا کوئی پڑھا لکھا کبھی پیدا نہیں ہوا۔

پاکستان میں لائبریری یا علمی، ادبی ادارے کبھی نون لیگ کی ترجیحات میں شامل نہیں رہے۔ کیونکہ ایسے ادارے شعور اور علم دیتے ہیں

ایک سروے کے مطابق پاکستان میں فی کس صرف 6 پیسے سالانہ کتاب کے لئے خرچ کیے جاتے ہیں۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے مرکزی چوک میں ملک کے ”اعلیٰ ترین اداروں کی تین بڑی عمارتیں لائبریری، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ موجود ہیں۔ گویا ترقی یافتہ قومیں آج بھی کتاب کو اہمیت دیتی ہیں۔

ایک پڑھے لکھے سیاست دان ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں اکادمی ادبیاتِ پاکستان، مقتدرہ قومی زبان، اقبال اکادمی، نیشنل بک فاؤنڈیشن جیسے کئی علمی اور ادبی ادارے قائم کیے گئے۔ چونکہ ان اداروں سے حکمرانوں کو کوئی مالی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس لئے نون لیگ کی حکومت ان کو ختم کرنا چاہ رہی ہے۔ ہو سکتا ہے میاں نواز شریف صاحب کی خواہش ہو کہ علمی اور ادبی اداروں کی بڑی بڑی عمارات کو فوڈ سٹریٹ میں تبدیل کر دیا جائے۔

بھٹو دور میں بڑے شہروں میں حکومت نے پاکستان نیشنل سنٹر کے نام سے لائبریریاں قائم کیں۔ جہاں پر کوئی بھی تنظیم علمی، ادبی، قومی پروگرام، مشاعرے، مباحث، مذاکرے کروا سکتی تھی۔ اس طرح ہر شہر میں لائبریری کے ساتھ ایک علمی اور ادبی مرکز قائم ہو گیا تھا۔

ن لیگ کے دورِ حکومت 1990۔ 1993 کے دوران ان علمی اور ادبی مراکز پاکستان نیشنل سنٹرز کو بند کر دیا گیا۔ کیونکہ تاجر حکمرانوں کا کتاب اور علم سے کوئی تعلق نہ تھا۔

1258 میں سقوط بغداد ہوا۔ جب ہلاکو خان نے قتلِ عام کیا اور اپنے وقت کی دنیا کی سب سے بڑی لائبریری ( ہاؤس آف وزڈم ) کو جس میں چار لاکھ سے زائد کتابیں تھیں۔ جلا کر راکھ کر دیا۔ تاریخ ہلاکو خان کو انسانیت کا دشمن اور علم دشمن قرار دیتی ہے۔ مگر پاکستان میں شعوری کوشش سے لوگوں کی شعوری سطح اس قدر پست کر دی گئی ہے۔ کہ لائبریریاں بند کرنے کا سانحہ برپا کرنے والوں کو کوئی کچھ بھی نہیں کہتا۔

محترمہ بینظیر بھٹو شہید سے ایک انٹرویو میں سوال کیا گیا کہ نواز شریف اور مشرف میں سے اگر ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو آپ کس کا انتخاب کریں گی تو محترمہ نے کہا کہ مشرف بہتر ہے کیونکہ نواز شریف نے جتنا ظلم ہم پر کیا۔ اتنا ظلم تو جانور بھی نہیں کرتے۔ مشرف بہرحال نواز شریف سے بہتر تھا کیونکہ اس کی ترجیحات میں تعلیم بھی شامل تھی اس نے بیرونی ممالک سے چن چن کر پاکستانی ماہرینِ تعلیم کو بہترین پیکیج کے ساتھ پاکستان بلایا مثلاً یونیورسٹی آف گجرات قائم کی تو امریکہ سے ایک پاکستانی ماہرِ تعلیم کو بلا کر وائس چانسلر مقرر کیا۔ اور یونیورسٹی کا نام مشرف نے نواز شریف کی طرح اپنے نام پر نہیں رکھا۔ بلکہ مشرف نے کسی بھی ادارے کو اپنے نام سے منسوب نہیں کیا۔

پنجاب میں پرویز الہٰی کے دور میں بھی تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی۔ سویڈن کی مدد سے ایشیاء کی سب سے بڑی انجینئرنگ یونیورسٹی سمبڑیال کے مقام پر منظور ہوئی۔ جس کے لئے زمین خرید کر دو رویہ سڑک بھی مکمل ہو گئی۔ پھر پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت آ گئی۔ اور دس سال تک یونیورسٹی پر کام نہیں ہونے دیا تو سویڈن کی حکومت نے منصوبہ ترک کر دیا۔ عمران خان کی حکومت نے اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع کر کے یونیورسٹی کی عمارت تعمیر کردی۔ مگر تعلیم کا آغاز ہونے سے پیشتر ہی بدقسمتی سے پھر نون لیگ کی حکومت آ گئی اور کام روک دیا گیا۔ خدانخواستہ اگر نون لیگ کی حکومت برقرار رہی تو شاید اس یونیورسٹی کی عمارت کو کھنڈر میں تبدیل ہونا پڑے۔ چونکہ یونیورسٹیاں علم پھیلاتی ہیں اس لئے نون لیگ کبھی بھی تعلیمی اداروں کی ترقی کے حق میں نہیں رہی۔ البتہ دکھاوے کے لئے کبھی کبھار کہیں کوئی کالج، یونیورسٹی یا ہسپتال سرکاری پیسے سے بنا کر نواز شریف کے نام منسوب کر دیتے ہیں حالانکہ نواز شریف کا ذاتی ایک روپیہ بھی ان منصوبوں میں خرچ نہیں ہوتا۔ جیسے نواز شریف کالج سرگودھا، نواز شریف یونیورسٹی ملتان، نواز شریف ہسپتال لاہور وغیرہ

لہو لگا کے شہیدوں میں ہو گئے داخل
ہوس تو نکلی مگر حوصلہ کہاں نکلا

Facebook Comments HS