غزوہِ ہند اور اکھنڈ بھارت کے خیالی خواب


انڈیا اور پاکستان میں پچھلے دو مہینوں سے چلنے والے فتح کے جشن اب چونکہ آہستہ آہستہ ٹھنڈے پڑتے جا رہے ہیں اس لئے یہ بہترین وقت ہے کہ جذبات سے دور رہ کر اس اٹھہتر سالہ دشمنی اور ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی شدید خواہش کا عقلی اور منطقی جائزہ لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ کیا حقیقت کی دنیا میں ایسا ممکن ہے بھی یا نہیں؟ یا پھر صرف اتنا کہ کیا فوجی طاقت سے کشمیر حاصل کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ سرحد کے دونوں اطراف سے زمینی حقائق سے عوام کو دور رکھ کر اپنے اقتدار کو طول دینے کی بھرپور کوششیں ہو رہی ہیں۔ اور انہی شدید کوششوں کا نتیجہ ہے کہ سرحد کے مشرقی جانب عوام کی ایک اکثریت اکھنڈ بھارت کو ایک خام خیالی کے بجائے ایک حقیقت سمجھنا شروع ہو گئی ہے جب کہ سرحد کے مغربی جانب غزوہِ ہند کی بشارتیں سنا کر عوام کے سامنے اس کو ایک حقیقت بنا دیا گیا ہے۔ اس مضمون میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ یہ دونوں نعرے کیوں صرف ایک دیوانے کے خواب کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں۔

اس میں سب سے پہلی بنیادی چیز پنجاب کی ریڈ کلف ایوارڈ کی حد بندی ہے۔ جس کے نتیجے میں گورداسپور جو کہ ایک مسلم اکثریتی علاقہ تھا اس کی انڈیا میں شمولیت ہو گئی۔ ایسا کسی منظم منصوبہ بندی سے ہوا یا کہ یہ ایک اتفاق تھا اس پر کوئی ابھی حتمی رائے موجود نہیں ہے۔ اس ایک علاقے کی انڈیا میں شمولیت کی اہمیت اس لیے بہت زیادہ ہے کی اس کی وجہ سے انڈیا کو ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ زمینی راستہ مل گیا۔ ریڈ کلف ایوارڈ کی دوسری اہم چیز اس پس منظر میں یہ ہے کہ انڈیا پاکستان کا پنجاب کا بارڈر لاہور اور سیالکوٹ جیسے اہم شہروں کے بالکل قریب لگا جس کی وجہ سے یہ اہم علاقے کسی بھی جنگی حالت میں دفاع کرنے کے لئے بہت ہی زیادہ مشکل ہو گئے۔ 1948 میں ہونے والی انڈیا پاکستان کی پہلی کشمیر میں کشمکش نے انڈین حکومت کو اس سوچ پر مجبور کیا کہ مستقبل میں پاکستان کسی بھی وقت حملہ کر کے انڈیا کا انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے زمینی رابطہ کاٹ سکتا ہے۔ اس امکان کے پیش نظر انڈین کابینہ نے 1949 میں ایک جنگی پلان تیار کیا جس کے مطابق پاکستان نے کبھی بھی اکھنور (انڈین پنجاب اور جموں کو ملانے والا علاقہ) پر قبضہ کی کوشش کی تو جواب میں لاہور اور سیالکوٹ پر حملہ کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد انڈین فوج لاہور سے راولپنڈی والی سمت میں اپنی پیش قدمی کرے گی جس سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں موجود انڈین فوج پر دباؤ کم کر کے اور پاکستان پر دباؤ ڈال کر اسے جنگ بندی پر مجبور کیا جائے گا۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان 1965 کی جنگ اسی جنگی حکمت عملی کا ایک عملی نمونہ تھی جب پاکستان نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک مسلح بغاوت کے تحت اسے چھیننے کی کوشش کی تو انڈیا نے لاہور اور سیالکوٹ کے محاذ کھول دیے۔ حالیہ جنگی تنازعہ کی طرح اس وقت بھی دونوں طرف سے فتح کے جشن منائے گئے۔ دونوں اطراف کو تھوڑی بہت کامیابیوں اور ناکامیوں کے ساتھ مجموعی طور پر سرحد پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی اور جو 1948 کا سٹیل میٹ (stale mate) تھا وہی برقرار رہا۔ 1971 کی جنگ میں اگرچہ پاکستان نے اپنا مشرقی حصہ گنوا دیا لیکن مغربی پاکستان میں مشرقی سرحد پر کوئی بھی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی اور اسی طرح یہ سٹیل میٹ موجود رہا۔ کارگل میں 1999 میں پاکستان کا مس ایڈونچر اور ابھی 2025 کا مسلح تنازعہ بھی اس سٹیل میٹ کو تبدیل نہیں کر سکا۔ خاص طور پر اب پچھلی تقریباً تین دہائیوں سے دونوں فریق ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں تو اس سٹیل میٹ کے ختم ہونے کے دور دور تک کوئی بھی امکانات نہیں ہیں۔ دفاعی لحاظ سے دونوں ملکوں کے اپنے اپنے کمزور اور مضبوط آپشنز ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی ایک ملک کا دوسرے ملک پہ یا اس کے کسی حصے پر قبضہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔

ان سب جغرافیائی اور زمینی حقائق کی روشنی میں ہمیں اس سٹیل میٹ کو ایک حقیقت کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے تا کہ سرحد کے دونوں طرف پروپیگنڈا کا شکار عوام ایک دوسرے کو غلام بنانے اور مٹانے کے خیالی قلعہ بنانے کے بجائے ایک حقیقت کی دنیا میں آ سکیں۔ وہ دنیا جس میں ان کا معیار زندگی جانوروں سے بھی بدتر ہے اور جس سے نکلنے کا واحد راستہ اشرافیہ کے دیے خوابوں سے نکل کر اپنے خواب دیکھنے اور پھر انہیں شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے سخت محنت اور اشرافیہ سے سوالات پر سوالات کرنے کی ضرورت ہے۔

نوٹ: مضمون میں موجود انڈین کابینہ کے جنگی پلان کا حوالہ ڈاکٹر اشتیاق احمد کی کتاب Pakistan، The Garrison State: Origins، Evolution، Consequences ( 1947۔ 2011 ) سے لیا گیا ہے۔

Facebook Comments HS