تاریخ کی تختی نہیں بدلتی

کہتے ہیں کہ تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے، لیکن درحقیقت تاریخ سب کچھ یاد رکھتی ہے۔ وہ نہ صرف نیکیوں کا حساب رکھتی ہے، بلکہ تختیوں کی چوری بھی درج کر لیتی ہے۔ جو لوگ دوسروں کے نام اور کام پر اپنی تختی لگاتے ہیں، وہ وقتی واہ واہ تو سمیٹ لیتے ہیں، مگر تاریخ ان کے لیے کبھی دعائیہ جملے نہیں لکھتی، صرف طنزیہ حاشیے چھوڑ جاتی ہے۔
ہمارے ملک میں سیاست کا ایک نیا فن رائج ہو چکا ہے : نام بدلنے کی سیاست۔
یہ سیاست وہ لوگ کرتے ہیں جن کے پاس اصل کام دکھانے کو کچھ نہیں ہوتا۔ جب عوام سے وعدے وفا نہ ہوں، تو فیتہ کاٹنے کے شوقین اپنی سیاست کا آکسیجن دوسروں کے کاموں سے حاصل کرنے لگتے ہیں۔
یہ ملک جس کا نام پاکستان ہے، جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت کا مرہونِ منت ہے، آج اُس ہی قائداعظم کے نام کو تختی سے ہٹا کر ایک زندہ سیاسی شخصیت کا نام دیا جا رہا ہے۔ وہ بھی ایسے ادارے سے جو دل کے امراض سے متعلق ہے، مگر شاید دلوں کی دھڑکن سننے والے یہ سیاست دان خود بے حس ہو چکے ہیں۔
پنجاب میں قائم جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈزیز کا نام تبدیل کر کے مریم نواز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈزیز رکھ دیا گیا ہے۔
سوچیں!
قائداعظم کے نام کی جگہ؟
کیا مریم نواز نے اس ادارے کی بنیاد رکھی؟ کیا ان کے والد یا دادا نے اسے مالی معاونت فراہم کی؟ کیا یہ اُن کے ذاتی اخراجات سے تعمیر ہوا؟ نہیں۔
یہ ادارہ سرکاری وسائل، عوام کے ٹیکس، اور ریاستی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ لیکن جب سیاست میں خود ستائشی کا کینسر پھیل جائے، تو پھر بانیانِ قوم کا نام چھوٹا لگنے لگتا ہے اور اپنے نام کا بورڈ بڑا۔
یہ تختی چوری صرف قائداعظم تک محدود نہیں۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو، جو دو بار اس ملک کی وزیراعظم رہیں، جنہوں نے اپنی جان ملک و قوم کی خاطر دی، اُن کے نام سے منسوب منصوبوں کو بھی تختی کے بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جسے عالمی سطح پر سراہا گیا، جو اقوامِ متحدہ کے اداروں میں سوشل پروٹیکشن ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا، اُسے مسلم لیگ نون کے دور میں پاکستان انکم سپورٹ پروگرام بنانے کی کوشش کی گئی۔ یہ کام مکمل نہ ہو سکا تو بعد میں عمران خان نے اُس پر ”احساس پروگرام“ کا لیبل لگا دیا۔ جیسے ریپر بدل کر پرانی چاکلیٹ نئی بنا دی گئی ہو۔
آپ کو اگر احساس تھا تو بینظیر کی قربانی کا بھی احساس ہونا چاہیے تھا۔
مگر یہاں احساس صرف تب ہوتا ہے جب کیمروں کے سامنے فیتہ کٹ رہا ہو۔
تختی کا مطلب کیا ہے؟
آپ کسی منصوبے کی تکمیل میں چاہے کتنا بھی کردار ادا کریں، آپ کا نام ریکارڈز میں تو آ سکتا ہے، مگر تاریخ میں وہی زندہ رہتا ہے جس نے بنیاد رکھی ہو، یا خلوص سے خدمت کی ہو۔
تختی لگوانا ایک نفسیاتی کمزوری ہے۔ ایک ایسا احساسِ محرومی جسے اپنی تصویر اور نام سے تسکین دی جاتی ہے۔
یعنی: ”کام کسی اور کا، فخر ہمارا!“
یہی تو سب سے سستی سیاست ہے، اور بدترین دھوکہ بھی۔ عوام کے ساتھ اور تاریخ کے ساتھ۔
کیا کسی ادارے یا منصوبے کا نام تبدیل کرنے سے اس کی روح بدل جائے گی؟ کیا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو احساس پروگرام کہنے سے شہید بینظیر بھٹو کا تصور ختم ہو گیا؟ کیا جناح انسٹیٹیوٹ کو مریم نواز انسٹیٹیوٹ کہنے سے قائداعظم کی عظمت ماند پڑ گئی؟ نہیں۔
مگر سیاست دانوں کو لگتا ہے کہ نام بدل دینے سے وہ تاریخ کو ری سیٹ کر سکتے ہیں۔
تاریخ تختی سے نہیں بنتی، قربانی سے بنتی ہے۔
یہ رویہ دراصل ایک تاریخی احساسِ کمتری کی علامت ہے۔ جو لوگ جانتے ہیں کہ ان کا اصل مقام محض اقتدار کا ایک وقتی تخت ہے، وہ خود کو دائمی بنانے کے لیے ہر اس ستون کو گرانا چاہتے ہیں جس پر قوم کی اجتماعی یادداشت ٹکی ہوئی ہے۔
ایسی یادداشتیں جیسے : قائداعظم، بینظیر بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو، اور دیگر تاریخ ساز شخصیات۔
ان یادداشتوں کو مٹانے کے لیے وہ پہلے اُن کے ناموں کو اداروں سے ہٹاتے ہیں، پھر اُن کی تصاویر دیواروں سے، اور پھر ان کے نظریات کو نصاب سے۔
یہی وجہ ہے کہ آج ہماری نئی نسل قائداعظم کے بارے میں کم، اور ”یوٹیوبر لیڈرز“ کے بارے میں زیادہ جانتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا سیاست کا معیار تختی پر نام ہونا چاہیے یا عوام کی خدمت؟
جن سیاست دانوں نے اسکول، اسپتال، سڑکیں، پُل اور منصوبے صرف اس لیے بنائے تاکہ اُن پر اپنے نام کی تختی لگا سکیں، وہ دراصل عوام کو نہیں، اپنے سیاسی بت کو پوجتے ہیں۔
ایک قوم کی ترقی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس کے لیڈر یہ کہنا سیکھ لیں :
”یہ منصوبہ میرے نام پر نہیں، میرے عوام کے نام پر ہے۔“
لیکن بدقسمتی سے ہمارے لیڈروں کے پاس اتنی عاجزی، اتنی خودداری اور اتنی تاریخ فہمی نہیں ہے۔
قومیں اُن لیڈروں کو یاد رکھتی ہیں جو نام کی نہیں، کام کی سیاست کرتے ہیں۔ تختیاں مٹی میں دفن ہو جاتی ہیں، لیکن اصل خدمت کی خوشبو نسلوں تک پھیلتی ہے۔

