کربلا اور آج کا سندھ


کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ایک ابدی سوال ہے۔ سچ کے ساتھ کون کھڑا ہے؟ امام حسینؑ کا انکار فقط اقتدار کے خلاف نہیں تھا، وہ ہر اس نظام کے خلاف تھا جو انسان کو غلام، حق کو جرم، اور ظلم کو قانون بناتا ہے۔ سندھ جیسے خطے، جو صوفیوں، شعرا اور مزاحمت کی زمین رہا ہے، کربلا کی بازگشت کو آج بھی محسوس کرتا ہے۔ لیکن آج کا سندھ۔ خاموش ہے۔

شاہ لطیف، سچل سرمست، شیخ ایاز اور حسن درس جیسے شعرا نے کربلا کو فقط مذہبی واقعہ نہیں بلکہ سچائی، انکار، اور حق پرستی کی علامت کے طور پر دیکھا۔ ان کے نزدیک امام حسینؑ ہر دور میں اُس سچ کا نمائندہ ہے جو یزید جیسے طاقتور، ظالم اور مکار حکمرانوں کے خلاف تنہا بھی کھڑا ہونے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

مگر آج کے سندھ میں۔

دریا سوکھ چکے ہیں۔ جو پانی بچا ہے، وہ تھر کے پیاسوں تک نہیں پہنچتا بلکہ پیپلز پارٹی کے طاقتور وڈیروں کے ہزاروں ایکڑ پر مشتمل فارم ہاؤسز کو سیراب کرتا ہے۔ عام کسان، ماہی گیر، ہاری اور شہری صرف پیاسے نہیں، وہ بے بس بھی ہیں۔

یہ وہی سندھ ہے جہاں کبھی جنگلات، ندی نالے، اور سرکاری زمینیں عوام کی امانت تھیں، مگر آج وہ سیاسی نمائندوں، با اثر خاندانوں، اور اُن کے کاروباری دوستوں کے درمیان بانٹ دی گئی ہیں۔
قانون صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے، اور طاقتور کے لیے سب کچھ معاف۔
حکومت کے ادارے آج کرپشن کے اڈے بن چکے ہیں۔
اقربا پروری نے میرٹ کو دفن کر دیا ہے،
نوکریاں بیچی جاتی ہیں، اسکول بند، اسپتال ویران، اور تھانے وڈیروں کے حکم پر چلتے ہیں۔
عام شہری کے لیے انصاف ایک خواب ہے، مگر طاقتور مجرم، اغوا کار، اور قاتل ریاستی چھتری تلے نعرے بھی لگا سکتے ہیں اور اسمبلی میں بیٹھ بھی سکتے ہیں۔

کشمور، کندھ کوٹ، گھوٹکی، دادو، شکارپور جیسے اضلاع میں روز کسی نہ کسی کا بیٹا اغوا ہوتا ہے، اور ماں کی فریاد، ایف آئی آر سے پہلے بندوق والوں کے قدموں میں گم ہو جاتی ہے۔
اساتذہ تنخواہوں، پنشن، اور مراعات کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر پُرامن احتجاج کرتے ہیں۔
بلوچ خواتین، ماں، بہنیں، اور نوجوان اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے تصاویر اٹھائے بیٹھتی ہیں۔

لیکن حکمران۔ وہ قیمتی سوٹ، کالا چشمہ، اور ”007“ جیسا انداز اپنائے پارٹی اجلاسوں میں مظلوموں کے نام پر سیاسی تقریریں کرتے ہیں، اور خاموشی سے ان کے حقوق کی زمین نیلام کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں، نیشنل پریس کلب کے سامنے جب کشمور اور کندھ کوٹ کے عوام ظلم کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، تو انہی مظالم کا مرکزی کردار بھی انہی نعروں میں شامل تھا۔
وہ بلند آواز میں کہہ رہا تھا: ”ظلم مردہ باد!“ پھر اس نے کہا: ”یہاں میرے خلاف جو چاہے کہو، مگر کشمور میں نہیں!“ یہ جملہ ریاستی تضاد کا جیتا جاگتا استعارہ ہے جہاں طاقتور ظالم، خود کو بے گناہ کہلوا کر قانون سے اوپر کھڑا ہوتا ہے۔

پیپلز پارٹی، جو ماضی میں نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کی تکلیفوں کی امین تھی،
آج انھی طبقات کے ساتھ کھڑی ہے جن کے ہاتھ میں بندوق، زمین، میڈیا، اور عدالتی خاموشی ہے۔
کربلا کا سوال زندہ ہے :
کیا ہم صرف تعزیے بنائیں گے؟
یا سچ کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟
سندھ کو اب یہ فیصلہ کرنا ہو گا۔
کہ وہ فقط حسینؑ کو روئے، یا حسینؑ کی طرح جیئے۔

Facebook Comments HS