مفلس رہنما اور غریب اقوام کے لیے نوبل ایوارڈز


یہ نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ خود نوبل انعام کی ساکھ کے لیے بھی انتہائی شرم کی بات ہے کہ پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ’رہنما‘ کو امن کے نوبل پیس ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کی۔ کیا یہ ایک جملہ ہماری اخلاقی گراوٹ اور دیوالیہ پن کا ثبوت نہیں؟ دراصل، یہ اس قوم کی اخلاقی پستی کو ظاہر کرتا ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ اس کی اقدار مذہب اور مشرقی شائستگی سے جنم لیتی ہیں۔

آخر ہم کب تک اپنے اخلاقی انحطاط کو بہانوں اور تاویلات کے پردے میں چھپاتے رہیں گے؟ ہمیں سچائی کو تسلیم کرنا ہو گا: ہم اس زمین پر بسنے والے ان بدقسمت ترین لوگوں میں سے ہیں جو نہ صرف معاشی طور پر مفلس ہیں بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی مکمل دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔

جب کوئی بڑی سیاسی طاقت یا رہنما قومی یا مذہبی نظریات کی آڑ میں ہزاروں انسانوں کو قتل کرتا ہے، یا کوئی عام شخص ذاتی دشمنی کی بنیاد پر قتل کرتا ہے تو دونوں اطراف صرف قاتل ہوتے ہیں اور انسانوں کا قتل دنیا کے سب سے مکروہ جرائم میں سے ایک ہے اور یہ شخص ڈونالڈ ٹرمپ تو ببانگ دہل اپنے دشمنوں کو قتل کرنے کے ارادوں کا ذکر بھی کرتا ہے اور ساری دنیا دلچسپ انداز میں اسے دیکھتی اور سنتی ہے اور بے غیرتی سے مسکراتی بھی ہے بالکل اسی طرح اس کے ایرانی دشمن آیت اللہ بھی آج کل بے دریغ قومی سلامتی پر غداری کے نام پر سیکڑوں انسانوں کو پھانسی دینے اور قتل و غارت گری کرنے میں مشغول ہیں۔ یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ ہمارے سیاسی و مذہبی ’ہیروز‘ نے ساری انسانی تاریخ کو اسی طرح ہمیشہ سے انسانی خون سے رنگا ہے اور ہم انسانوں نے ان الہامی صحیفوں اور تاریخ کے ان کرداروں کو صدیوں سے مقدس جان کر اپنے دل و دماغ کو بیمار ترین کر لیا ہے۔ ہم نے کبھی بھی ان کے خلاف ایک لفظ بھی احتجاج کا نہیں نکالا۔ ہم نے سچائی سے اپنے دل کی کبھی نہ سنی، ہم نے ہمیشہ اپنے ضمیر کو چند سطحی لادے ہوئے قومی و مذہبی نظریات کی ضربوں سے ہانک دیا اور آج بھی ہم یہی سب کچھ کر رہے ہیں۔ شاید ہم اسی بے رحمانہ سلوک اور اسی گری ہوئی حیوانی تہذیب کے لائق ہیں۔

آپ کو یاد ہی ہو گا نطشے کے ”ول ٹو پاور“ کے تصور کی آڑ میں ایڈولف ہٹلر نے بھی لاکھوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا اور فیدر دوستوسکی کے ناول ’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘ کا مرکزی کردار راسکولنکوف جب ایک پان بروکر، ایلاونا ایونوا کا قتل یہ سوچ کر کرتا ہے کہ سماج کے کسی بھی دشمن کردار کا قتل بھی وہی ’عظمت‘ رکھتا ہے جو نپولین بوناپارٹ جیسے سپہ سالاروں کے حصے میں آتی ہے تو یہ احتیاطی سوچ اس وقت دم توڑ دیتی ہے جب کبھی میں سڑک پر مذہب اور قومیت کے نام پر عام انسانوں کو بھی ایک دوسرے کا قتل کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ ایسے وقتوں میں میرے لیے عوام اور خواص صرف ایسے حیوان بن جاتے ہیں جن کے جبڑوں سے خون ٹپک رہا ہوتا ہے اور ایسے قاتل صرف قاتل ہی کہلائے جانے کے لائق ہیں نہ کہ کسی عزت و منصب یا انعام و اکرام دیے جانے کے قابل۔

مذہبی اور سیاسی مفادات رکھنے والے طاقت اور غالب آنے کی خواہش رکھنے والے کم ظرف ’رہنما‘ اکثر و بیشتر اعلیٰ فکری نظریات کو توڑ مروڑ کر اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اپنی مختصر ستر یا اسی سالہ زندگی کو ایسی نام نہاد کامیابیوں سے سجاتے ہیں جو انسانی خون سے لت پت اور انسانی دکھوں کی بدبو سے آلودہ ہوتی ہیں۔

ایسی ”کامیابیاں“ اور ”عظمتیں“ اُن لوگوں کے لیے ہیں جو بدقسمتی سے انسان کے روپ میں پیدا تو ہو گئے ہیں مگر انسانیت کے اصل مفہوم کو اپنی اس مختصر یا ’طویل‘ زندگی میں کبھی بھی سمجھ نہ سکے۔ زندگی بلاشبہ ایک پر اسرار مظہر ہو سکتی ہے مگر جبر، ظلم، قتل و غارت کا انسانی دکھ، درد اور رنج سے براہ راست تعلق ہوتا ہے اور اس احساس سے تو ایک معمولی ترین درجے کا انسان بلکہ جانور بھی واقف ہو جاتا ہے۔

نطشے کے فلسفے کو ایک وحشی اور پست ذہن کے ساتھ سمجھنے کے بجائے اس کی اصل روح کو اپنے دل سے محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ نطشے کے نزدیک مثالی انسان ”اوور مین“ ہے، ایک ایسا فرد جو اپنے پست جذبات پر قابو پاتا ہے اور اپنی اقدار خود تخلیق کرتا ہے۔ اس میں خود شناسی، قوتِ ارادی اور زندگی کے چیلنجز کو قبول کرنے کا حوصلہ شامل ہے نہ کہ لازماً تشدد یا غلبے کی خواہش رکھتا ہو، بدقسمتی سے نطشے کے اس نظریے کو اکثر غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے، خاص طور پر ان لوگوں نے جو اپنی جارحیت یا تشدد کے لیے جواز تلاش کرنا چاہتے ہیں۔

حقیقت یہی ہے کہ آدرش خود پر قابو پانے اور تخلیق کرنے کا نام ہے اور یہ جو اگر ہاتھ سے نکل جائے تو قومیں اور رہنما اخلاقی طور پر قلاش ہو جاتے ہیں اور بدقسمتی سے ہم اسی قسم کے مفلس رہنماؤں اور غریب اقوام کے دور میں جی رہے ہیں۔

Facebook Comments HS