پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز: دور جدید کے غلام


پچھلے دنوں کسی کام سے گزرتے ہوئے ایک مسجد کے دروازہ پر ایک افسوس ناک منظر دیکھا کہ کمپنی کی نیلی وردی میں ملبوس ایک پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ مالی امداد کی اپیل کا کتبہ اٹھائے اپنے اہل خانہ کے لئے لوگوں سے بھیک مانگ رہا ہے۔ ہمیں تجسس ہوا تو اس سے بات چیت کر کے حالات دریافت کیے کہ آخر یہ نوبت کیسے پہنچی۔ اس نے بتایا کہ وہ کراچی کے ایک صنعتی علاقہ میں واقع فیکٹری میں ڈیوٹی کرتا ہے لیکن 12 گھنٹے کی سخت ڈیوٹی کے عوض صرف 25 ہزار روپے ماہانہ کی قلیل اجرت ملتی ہے اور کمپنی کی طرف سے کوئی اور سہولت میسر نہیں۔ اس نے مزید بتایا کہ معمولی تنخواہ سے میرا گزارہ نہیں ہوتا۔ مجھ پر بوڑھی اور علیل ماں سمیت ایک بڑے کنبہ کی کفالت کی ذمہ داری ہے، میری ماں شدید بیمار ہے لیکن میں ان کا علاج معالجہ کرانے سے قاصر ہوں، کرائے کا مکان ہے کنبہ کی کفالت کے بھاری اخراجات میری بساط سے باہر ہیں، لہذا اس صورت حال میں مجھے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہونا پڑا۔

لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کون ہیں اور انہیں کس نے یہ لامحدود اختیارات دیے ہیں، ان کے حالات کار کیا ہیں اور یومیہ 12 گھنٹے سخت ڈیوٹی کے باوجود اس کے صلے میں انہیں کس قدر حقیر معاوضے ادا کیے جاتے ہیں اور وہ مروجہ مزدور قوانین کے تحت بنیادی سہولیات سے کیوں محروم ہیں؟

گزشتہ کئی عشروں سے ملک میں امن وامان کی مخدوش صورت حال کے نتیجہ میں چوری چکاری، لوٹ مار، غبن، ڈکیتی، اغواء، قتل و غارت گری اور دہشت گردی کے سنگین جرائم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ بڑھتے ہوئے مسلح جرائم کی روک تھام اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی میں محکمہ پولیس اپنے تمام تر دعووں کے باوجود بری طرح ناکام ثابت ہوا ہے۔ اس صورت حال کے باعث معاشرہ میں طاقت ور اور منظم جرائم پیشہ عناصر سے اپنے قیمتی جان و مال، ساز و سامان، کاروبار اور املاک کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے پرائیویٹ مسلح سیکیورٹی گارڈز کی طلب میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔

اس صورت حال کے نتیجہ میں ملک کے طول و عرض میں رہائشی علاقوں سمیت کاروباری و تجارتی مراکز، سرکاری و نجی دفاتر و تنصیبات، بڑے ہوٹلوں و ریسٹورنٹس، تجارتی بینکوں، مالیاتی اداروں، میڈیا ہاؤسز، تعلیمی اداروں، اسپتالوں حتیٰ کہ خیراتی اداروں کی عمارتوں اور املاک کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لئے ان کے داخلی دروازوں پر مسلح سیکیوریٹی گارڈز تعینات نظر آتے ہیں۔ آپ کسی بھی رہائشی عمارت یا سرکاری و نجی ادارہ میں چلے جائیں وہاں داخلہ کے وقت مسلح سیکیوریٹی گارڈز سے آپ کا سب سے پہلے واسطہ پڑتا ہے جو دروازہ پر آپ کی آمد کے مقصد آپ کی شناخت دریافت کرنے کے بعد آپ کے قومی شناختی کارڈ کے نمبر کا ایک رجسٹر میں اندراج کر کے آپ کو عمارت میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں، گویا اس صورت حال کے نتیجہ میں ملک کی ہر عمارت اور ہر ادارہ ایک قسم کی چھاؤنی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ پاکستان شاید دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں تجارتی بینکوں کے دروازوں پر مسلح سیکیورٹی گارڈز تعینات کیے گئے ہیں جو بینک آنے والے معزز گاہکوں کی میٹل ڈیٹیکٹر کے ذریعہ جانچ پڑتال کر کے اندر جانے کی اجازت دیتے ہیں جو سراسر غیر پیشہ ورانہ کاروباری عمل ہے اور بینک کے معزز گاہکوں کی عزت نفس مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں حکومت پاکستان کی وزارت داخلہ کے 1988 میں جاری کردہ ایک انتظامی حکم نامہ کے تحت کام کر رہی ہیں۔ قانون کے مطابق تمام پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کمپنیوں کی کاروباری حیثیت کے پیش نظر ان کی سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) میں رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کمپنیوں کو چاروں صوبوں کے محکمہ ہائے داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آباد کے تحت رجسٹر کرانا بھی لازمی ہے۔ ملک کے طول عرض میں قائم بیشتر پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز فراہم کرنے والی کمپنیاں ریٹائرڈ فوجی افسران کی ملکیت بتائی جاتی ہیں۔ جبکہ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کے لئے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ مسلح افواج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشابہہ وردی نہیں پہنیں گے۔ پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کو اپنی پیشہ ورانہ خدمات کے لحاظ سے مناسب تربیت اور ضروری حفاظتی اسلحہ سے لیس ہونا بھی ضروری ہے۔ چاروں صوبوں کے محکمہ ہائے داخلہ کی جانب سے پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کو حفاظتی امور کی انجام دہی کے لئے لائسنس یافتہ غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ جات شاٹ گن، رائفل، ریوالور اور پستول رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن وزارت داخلہ کے احکامات کی رو سے پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ اپنے ڈیوٹی کے مقام یا عمارت سے باہر اسلحہ کی کسی طور نمائش نہیں کر سکتے۔ لیکن عملی طور پر صورت حال اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ جبکہ قانون کے مطابق پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کو اپنے دفاع میں گولی چلانے کا حق بھی حاصل ہے۔

پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی (PACRA) کی جاری کردہ ایک جائزہ رپورٹ ”سیکیورٹی انڈسٹری ان پاکستان“ کے مطابق ملک میں پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی فراہمی ایک بکھری ہوئی صنعت ہے۔ جہاں تقریباً 6 بڑی پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہے جبکہ ملک بھر میں 2 ہزار پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی نفری پر مشتمل تقریباً 400 سے زائد سیکیورٹی گارڈز کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کمپنیاں ملک کی معیشت میں 50 ارب روپے سالانہ کی صنعت کا درجہ رکھتی ہے۔ جہاں 2 لاکھ سے زائد پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لیکن 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی تعداد 250,000 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے صرف 150,000 گارڈز صوبہ سندھ میں تعینات ہیں۔ لیکن درحقیقت ملک بھر میں پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی تعداد 5 لاکھ تک ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 8,800 سے زائد چینی ماہرین ملک کے مختلف حصوں میں پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ جن کی حفاظت کے لئے تقریباً 16,000 کی تعداد میں خصوصی سیکیورٹی عملہ اور 2,000 سے زائد پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز تعینات کیے گئے ہیں۔ امید ہے کہ آئندہ چند برسوں میں پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت ہائی ویز، ریلویز اور پائپ لائنز پر مشتمل 3 ہزار کلو میٹر طویل روٹ کی تکمیل کے بعد پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لئے کاروبار کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔

امن و امان کی ابتر حالت کے پیش نظر متمول، اہم کاروباری افراد اور معروف شخصیات کی حفاظت، سرکاری و نجی املاک و تنصیبات کی پہرہ داری، دیکھ بھال اور حفاظت کے لئے پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کا شعبہ دن بدن پھولتے پھولتے کاروبار کا درجہ اختیار کر گیا ہے۔ لہذاء سیکیورٹی گارڈز کمپنیوں کے کاروبار کے فروغ اور ان کے مفادات کے تحفظ کے لئے 6 اکتوبر 1992 کو آل پاکستان سیکیورٹی ایجنسیز ایسوسی ایشن (APSSA) کا قیام عمل میں آیا تھا جس کا صدر دفتر کراچی میں واقع ہے۔ ایسوسی ایشن میں رجسٹرڈ پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کمپنیوں کی تعداد 364 سے زائد ہے اور ان کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والے تربیت یافتہ پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی تعداد 40,344 سے زائد بتائی جاتی ہے۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے اپنی رکن سیکیورٹی کمپنیوں کو سیکیورٹی کے شعبہ میں مختلف نوعیت کی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کے سیکیورٹی گارڈز کو سیکیورٹی اور سیفٹی کے نظم و ضبط کی تربیت فراہم کرنے کے لئے پہلا تربیتی اسکول 1999 میں کراچی میں اور دوسرا تربیتی اسکول 2012 میں لاہور میں قائم کیا گیا تھا۔ قواعد و ضوابط کے مطابق پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کے لئے لازم ہے کہ وہ دوران ڈیوٹی پولیسٹر سے بنی ہوئی منظور شدہ نیلے رنگ کی وردی زیب تن کریں گے جس کے دائیں کاندھے پر سیکیورٹی گارڈ کا بیج اور بائیں کاندھے پر کمپنی کے نام کا شناختی بیج لگانا لازمی ہے۔ ایسوسی ایشن نے پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کمپنیوں کے خلاف شکایات کے ازالہ کے لئے ایک شکایت سیل بھی قائم کیا ہوا ہے۔ جس کے ذریعہ متاثرہ شہری اور ادارے ان نمبروں 021۔ 99213410۔ 20 021 پر اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔

سینکڑوں پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کمپنیاں انفرادی طور پر اور مختلف سرکاری و نجی اداروں، صنعتی، کاروباری اور تجارتی اداروں کو اپنی کمپنی کے ذریعہ تربیت یافتہ مسلح سیکیورٹی گارڈ فراہم کرتی ہیں۔ یہ مسلح سیکیورٹی گارڈز شہریوں کی جان و مال اور سرکاری و نجی اداروں کی مالیات اور املاک و تنصیبات کی دیکھ بھال، پہرہ داری اور حفاظت کرنے کے علاوہ سرکاری و تجارتی بینکوں اور مالیاتی اداروں کی بھاری رقوم کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی اور سرکاری و نجی دفاتر کی عمارات کی الیکٹرانک نگہبانی اور نگرانی کی خدمات بھی فراہم کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ملک میں کئی اقسام کے پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی خدمات ہمہ وقت دستیاب ہیں۔ جن میں غیر مسلح سیکیورٹی گارڈ، مسلح سیکیورٹی گارڈز، لیڈی سرچرز، ذاتی باڈی گارڈز، کمانڈوز (پاک فوج کے اسپیشل سروسز گروپ (SSG) کے سابق ارکان) پر مشتمل وی آئی پی سیکیورٹی ٹیم، ایونٹ سیکیورٹی ٹیم، بلٹ پروف گاڑیاں، موبائل ایسکارٹ سروسز اور کلوز پروٹیکشن ٹیم جیسی سہولیات شامل ہیں۔ جبکہ ملک میں قائم چھ بڑی سیکیورٹی گارڈز کمپنیوں کے انتہائی پیشہ ورانہ تربیت یافتہ، جدید اسلحہ اور ضروری آلات سے لیس مسلح سیکیورٹی گارڈز ملک کے اہم شہروں میں اہمیت کی حامل سرکاری و نجی عمارتوں، تنصیبات، سرکاری، کاروباری اور شو بز کے شعبہ سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات، غیر ملکیوں اور سفارت کاروں کی نقل و حرکت کی دیکھ بھال اور ممکنہ حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کی رہائش گاہوں، قونصل خانوں اور سفارت خانوں کی عمارتوں کی شب و روز دیکھ بھال اور حفاظت پر مامور ہیں۔ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لحاظ سے سیکیورٹی گارڈز کی بنیادی ذمہ داریوں میں حفاظت کی غرض سے سپرد کیے گئے افراد کی ممکنہ حفاظت، نقل و حرکت اور ان کی آمد و رفت کو محفوظ بنانے، ہر ممکن حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے معیاری پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنا ہے۔ جبکہ سیکیورٹی گارڈز کی دیگر ذمہ داریوں میں مختلف سرکاری و نجی عمارتوں، تجارتی جائیدادوں اور رہائشی کمپلیکس میں غیر مجاز افراد کی غیر قانونی سرگرمیوں، دراندازی کی روک تھام، انہیں چوری اور لوٹ مار تک رسائی سے باز رکھنا اور مکینوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے دیگر ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔

ملک میں تیزی سے امن و امان کی ابتر صورت حال کے باعث سیکیورٹی گارڈز ایک متوازی حفاظتی فورس (Parallel Security Force) کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ غلام نبی میمن نے 8 جون 2024 کو اپنے ایک بیان میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا تھا کہ کراچی میں پولیس اہلکاروں کے مقابلہ میں پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی تعداد تجاوز کر گئی ہے جس کے مطابق شہر میں پولیس اہلکاروں کی تعداد 44,436 اور پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

لیکن ان تمام تر اختیارات کے باوجود پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کا شمار ملک کے مظلوم اور بے زبان طبقہ میں کیا جاتا ہے۔ ان کے 12 گھنٹے دورانیہ کے سخت حالات کار اور جانفشانی کے عوض معمولی اجرتیں اور ناپید بنیادی سہولیات دیکھ کر دور غلامی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ سیکیورٹی گارڈز سخت گرم مرطوب موسم میں پولی ایسٹر سے بنی دبیز وردی، بھاری فوجی جوتے پہنے اور وزنی بندوق اٹھائے تپتی دھوپ میں کھلے آسمان تلے اور ہر قسم کے موسمی حالات کی پرواہ کیے بغیر اپنے آقاؤں کی دہلیز پر مستعد کھڑے نظر آتے ہیں جبکہ ان کے بے رحم آقا ہر قسم کے موسم کی سختیوں سے بے نیاز پرسکون آرام دہ یا ائر کنڈیشنڈ کمروں میں زندگی کا لطف لے رہے ہوتے ہیں۔

سیکیورٹی گارڈز کو ہر روز دوران ڈیوٹی جرائم کے نت نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس طرح پاک فوج شب و روز ملک کی سرحدوں کی نگہبانی اور حفاظت کے فرائض انجام دیتی ہے اور نیم فوجی تنظیموں پاکستان رینجرز، فرنٹیئر کانسٹبلری، لیویز اور پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اسی طرح ملک کے طول و عرض میں لاکھوں پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز بھی شہریوں کی قیمتی جان و مال اور اداروں کی املاک کی حفاظت کے لئے مستعدی سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کے سروں پر ہمہ وقت جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے مسلح حملوں کا خدشہ لگا رہتا ہے۔ کیونکہ سفاک جرائم پیشہ افراد کی کسی بھی مقام پر واردات کے دوران ان کا پہلا نشانہ وہاں تعینات سیکیورٹی گارڈز ہوتے ہیں۔ ملک بھر میں اب تک نہ جانے کتنے مظلوم سیکیورٹی گارڈز اپنے فرائض کی بجا آوری کے دوران سفاک مجرموں کے ہاتھوں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ لیکن ان فرض شناس جانبازوں کی قربانیوں کو کبھی سراہا نہیں گیا۔

لیکن افسوس انتہائی قیمتی انسانی جان و مال اور املاک کی شب و روز دیکھ بھال اور حفاظت پر معمور اور ہمہ وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جان لیوا خطرات کا سامنا کرنے والے لاکھوں پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز سے مروجہ مزدور قوانین کے تحت مقررہ آٹھ گھنٹے کے اوقات کار (ایک گھنٹہ آرام کا وقفہ) کی ڈیوٹی کے بجائے غیر قانونی طور پر 12 گھنٹے سے زائد کام لیا جاتا ہے اور انہیں چار گھنٹے اضافی کام کا دگنا معاوضہ (Over time) بھی ادا نہیں کیا جاتا جو مزدور قوانین کی کھلم کھلا سنگین خلاف ورزی ہے اور قانون کے مطابق مستوجب جرمانہ و سزا ہے۔ اسی طرح پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز اپنی سخت ترین خدمات کے لحاظ سے منصفانہ اجرتوں، ہفتہ وار تعطیل، سرکاری تہواری تعطیلات، ای او بی آئی پنشن، ادارہ ہائے سماجی تحفظ برائے ملازمین سے اپنے اور اہل خانہ کے لئے مفت علاج و معالجہ کی سہولیات اور نقد مالی امداد، لازمی گروپ انشورنس، گریجویٹی جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ اس لحاظ سے پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز کے طبقہ کو دور جدید کے غلام کہا جا سکتا ہے۔ بعض پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز انتہائی قلیل اجرتوں کے باعث اپنی عزت نفس مجروح کرتے ہوئے شہروں میں فلاحی تنظیموں کے تحت چلنے والے خیراتی دسترخوانوں پر اپنے پیٹ کی آگ بجھانے پر مجبور ہیں اور ”ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات“ کی عملی تفسیر بنے ہوئے ہیں۔

امن و امان کی روز افزوں بگڑتی ہوئی صورت حال اور جرائم کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ کے باعث سیکیورٹی گارڈز کمپنیاں ملک میں مجبور اور بے روزگاروں کے لئے روزگار کی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہیں۔ غالباً پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز ملک میں وہ واحد شعبہ ہے جہاں بے روزگار اور ضرورت مند افراد کو سیکیورٹی گارڈز کی نوکری فراہم کرنے کے لئے دن رات 24 گھنٹے بھرتی جاری رہتی ہے۔ جس کے نتیجہ میں بیروزگاری کے ستائے ہوئے، اپنے معاشی حالات سے مجبور اور جرائم کی ذہنیت کے حامل افراد سیکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے بھرتی ہو جاتے ہیں۔ جبکہ بعض پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز مطلوبہ معیار پر پورے نہیں اترتے اور وہ اپنی وضع قطع سے جسمانی طور پر ان فٹ، مختلف امراض میں مبتلا اور آتشیں اسلحہ چلانے کے تربیت سے نابلد نظر آتے ہیں۔ جبکہ مجرمانہ ذہنیت کے حامل سیکیورٹی گارڈز قیمتی سامان اور نقدی کی چوری، مسلح ڈکیتی اور جرائم کی دیگر وارداتوں میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔

شدید احساس محرومی، نامساعد حالات، کسی آرام کے وقفہ بغیر طویل ترین اوقات کار اور انسانی بساط سے زائد مشقت لئے جانے اور اپنے اہل خانہ سے دوری کے سبب اکثر سیکیورٹی گارڈز سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں ان میں نشہ آور ادویات کا استعمال، نفسیاتی امراض، خرابی صحت، چڑچڑا پن اور مزاج میں جارحانہ پن پیدا ہو جاتا ہے جس کے شاخسانہ کے طور پر اکثر اوقات سیکیورٹی گارڈز کی شہریوں سے بلاجواز تلخ کلامی اور غیظ و غضب کے مظاہرے دیکھنے میں آتے ہیں۔ بعض سیکیورٹی گارڈز کی جانب سے طیش کی کیفیت میں نہتے بے گناہ شہریوں، اپنے ساتھیوں پر بلاجواز گولی چلا دینے اور خود کو گولی مارکر اپنی جان کا خاتمہ کرنے جیسے دل سوز واقعات اکثر و بیشتر سامنے آتے رہتے ہیں۔

سیکیورٹی گارڈز چونکہ انتہائی سخت اور خطرناک ماحول میں اور قدم قدم پر سفاک مجرموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ لہذاء انہیں کسی بھی ناگہانی کی صورت میں مالی تحفظ فراہم کرنے کے لئے ”لائف انشورنس“ کی سہولت فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران سنگدل مجرموں کے ہاتھوں بیدردی سے شدید زخمی یا قتل ہو جانے کی صورت میں سیکیورٹی گارڈز کے اہل خانہ بے آسرا ہو جاتے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ اس گمبھیر صورت حال میں سیکیورٹی گارڈز کی بے بسی اور ان کے زبردست جسمانی و مالی استحصال کے باعث اس مظلوم طبقہ کا شمار دور جدید کے غلاموں میں کیا جاسکتا ہے۔ معاشرہ کے طاقتور اور بھاری اثر و رسوخ کے حامل کاروباری اداروں کی جانب سے مظلوم اور بے بس انسانوں کی مجبوریوں سے بھر فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں 24 گھنٹے ڈیوٹی کے لئے پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز بھرتی کرنے کا عمل بدترین انسانی خرید و فروخت (Human Trading) کے زمرہ میں آتا ہے جو انسانی غلامی کے مترادف ہے۔ سیکیورٹی گارڈز متنازعہ بدترین تھرڈ پارٹی نظام کے تحت کام کرتے ہیں لہذا ان کی کمپنیوں اور تعینات اداروں کی جانب سے مختلف بہانوں سے ان کی ماہانہ قلیل اجرتوں کی چوری (Wage theft) بھی عام ہے۔ اگرچہ سیکیورٹی گارڈز دیگر نیم فوجی تنظیموں کے اہلکاروں کی طرز پر اپنی غیر معمولی خدمات کے لحاظ سے لازمی سروس (Essential Service) کے زمرہ میں آتے ہیں۔ نیم فوجی تنظیموں کے عملہ کو لازمی سروس کے مطابق موزوں تنخواہیں، رخصت، علاج و معالجہ، معذوری اور ریٹائرمنٹ کی صورت میں پنشن کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ لیکن انہی کی طرز پر حفاظتی خدمات انجام دینے والے سیکیورٹی گارڈز کا طبقہ ان کے مقابلہ میں جملہ فوائد اور سہولیات سے محروم ہے۔ لہذا وفاقی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ لاکھوں پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی انسانی جان و مال اور املاک کی حفاظت کی شب و روز غیر معمولی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے بنیادی حقوق کی حفاظت کے لئے ضروری قانون سازی کرے اور سیکیورٹی گارڈز کی ملازمت کو ”لازمی سروس“ کا درجہ دیتے ہوئے ان کے حالات کار کو باضابطہ بنانے کے ساتھ تنخواہوں اور سہولیات کا ایک خصوصی ڈھانچہ تشکیل دے۔ تاکہ پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کا مظلوم اور بے زبان طبقہ بھی معاشرہ میں باعزت زندگی بسر کرسکے۔

Facebook Comments HS