ایران سے دوستی اور انڈیا کے دو فتور


حالیہ ایران اسرائیل جنگ کے اثرات سے مدتوں واسطہ پڑتا رہے گا۔ کچھ ایام قبل اسلام آباد جانا ہوا تو ایران کے سفیر رضا امیری مقدم سے ملاقات کی۔ ایران کی جانب سے اپنے کامیاب دفاع پر ایرانی سفیر کو مبارک باد پیش کی۔ ایران کو اس جارحیت سے جو سب سے بڑا خطرہ لاحق ہو گیا تھا وہ یہ تھا کہ ایران میں نظم حکومت طاقت کے زور پر ختم کر دیا جائے گا اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ لیبیا سے لے کر عراق شام تک ایسے ”تجربات“ نے کوئی پائیدار نظام حکومت دینے کی بجائے صرف زمین کو لہو رنگ ہی کیا اور اگر اسرائیل ایران میں بھی حکومت کو طاقت کے زور پر تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو ایران کے حالات بھی سوائے تباہی کے اور کسی سانچے میں نہ ڈھلتے اور ہمسایہ ملک ہونے کے سبب سے پاکستان بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا تھا جیسے کہ ہم آج تک افغانستان کے حالات کے اثرات سے اپنی جان نہیں چھڑا سکے ہیں۔

اس ایران اسرائیل جنگ کے اثرات فوری طور پر ایران کی خارجہ پالیسی پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ میری تہران میں ایرانیوں سے بات ہوئی تو ان کی گفتگو میں یہ واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا کہ وہ اس بات پر بہت کبیدہ خاطر ہیں کہ انڈیا نے نہ صرف کہ آئی اے ای اے میں ایران کی مخالفت کی، ایس سی او کے اعلامیہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا بلکہ مودی نے اس دوران نیتن یاہو سے بھی گفتگو کی اور انڈیا ایران کے حق میں تو کیا کوئی بیان جاری کرتا، وہ تو توازن بھی برقرار نہیں رکھ سکا۔

اور اس ہی وجہ سے جب پاکستان کی بات ہوئی تو ایران کی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کے نعرے لگائے گئے، ایران نے صدر، وزیر اعظم، نائب وزیر اعظم، وزیر دفاع چیف آف آرمی اسٹاف، وزارت خارجہ و دفاع و میڈیا کا پاکستان میں شکریہ ادا کیا جبکہ انڈیا میں جاری بیان میں انڈیا کے کسی ریاستی عہدے دار یا ادارے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ شکریہ تو دور کی بات ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ انڈیا میں جن مسلمانوں نے ایران کی حمایت کی ہیں ان کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

ان دونوں رویوں سے اس بات کا برملا اظہار ہوتا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات اور علاقائی صورتحال کو سمجھنے کے حوالے سے بھی ایران میں ایک نیا نقطہ نظر دیکھنے کو ملے گا۔ پاکستان کو اس حوالے سے مکمل طور پر تیاری کرنی چاہیے کہ ایران اسرائیل جنگ کے جو اثرات خطے پر پڑیں گے ان پر انڈیا کس نوعیت کی حکمت عملی کے ساتھ سامنے آتا ہے اور پاکستان کہاں کہاں پر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے۔

مثال کے طور پر انڈونیشیا بڑا مسلمان ملک ہے، اس کے وزیر دفاع کا عنقریب دورہ پاکستان متوقع ہے، ہماری باہمی تجارت سے لے کر انڈونیشیا نے ہمیں پام آئل لگا کر دیا تھا جو کہ ہم کامیابی سے چلا نہیں سکے، اب ایسے ممالک سے پاکستان کو عسکری، تزویراتی تعلقات کو بھی بڑھانا چاہیے اور اپنا دفاع مزید مضبوط کرنا چاہیے کیوں کہ پاکستان انڈیا حالیہ تصادم کی وجہ سے اس بات کی بہت توقع کی جا رہی ہے کہ انڈیا اپنی ہزیمت کی خفت مٹانے، اور مودی داخلی سطح پر اپنی گرتی سیاست کو استحکام یا سہارا دینے کی غرض سے، دوبارہ کوئی بیوقوفی کر سکتے ہیں مگر میں اس کا قائل ہوں کہ پاکستان اور انڈیا کے بیچ اگر امن قائم کرنے کے لئے کوئی کچے دھاگے کی ڈور بھی موجود ہو تو اس کو تھام لینا چاہیے، تصادم صرف دونوں ممالک کی عوام کے لئے مزید مسائل کا ہی باعث بنے گا۔

حالیہ پاکستان انڈیا تصادم کے بعد کچھ انڈینز سے بھی ملاقات ہوئی، ملاقاتیں تو دنیا بھر کے سفارت کاروں، دانشوروں سے ہوتی ہی رہتی ہیں اور اس میں انڈینز سے استثنا نہیں۔ مگر اس ملاقات کا تذکرہ اس لئے زیادہ اہمیت کا حامل ہیں کہ سمجھا جائے کہ انڈین حکومت کی اس جارحیت اور پھر اس جارحیت کا جو انجام ہوا اس کے بعد وہاں پر معاملات کو کس نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بات تو پتھر پر لکیر کی مانند ہے کہ انڈیا پاکستان کی جانب سے اتنے بھرپور جواب کی قطعی طور پر توقع نہیں کر رہا تھا اور جو کچھ بھی ہوا وہ اس کی توقعات کے بالکل برعکس تھا۔ میں نے انڈینز سے کہا کہ آپ اس خوش فہمی سے باہر نکل آئیں کہ کشمیر کو چھوڑ کر امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کیا جاتا اس وقت تک بر صغیر کے عوام ایک دوسرے کی بندوقوں کے خوف میں ہی زندگی بسر کریں گے۔

دو معاملات جب تک انڈیا کے فیصلہ سازوں کے ذہن سے نہیں ختم ہوتے اس وقت تک امن کی خواہش عبث ہے اور وہ امور یہ ہیں کہ انڈیا فوری طور پر خطے میں تھانے دار بننے کا فتور ذہن سے نکال دے اور دوسرا یہ کہ ہند پر بر سر اقتدار مسلمان بادشاہوں سے دشمنی کی بنیاد پر آج بدلہ لینے کی جانب نہ بڑھے۔ اورنگ زیب کا کس سے کیا معاملہ درپیش رہا اس کی بنیاد پر آج نفرت انگیزی مت کی جائے اور جب تک انڈیا ان دو فتوروں سے نہیں نکلے گا، کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں رہنے دے گا تو امن بھی قائم نہیں ہو گا۔

Facebook Comments HS