ہان کانگ اور انسانی اعمال
2024 ء میں اپنے ناول ”دی ویجیٹیرین“ کے سبب بلا شرکتِ غیرے ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے والی پہلی ایشیائی خاتون اور جنوبی کوریا کی معروف مصنفہ ہان کانگ کو ان کے منفرد اندازِ تحریر، انوکھے موضوعات، انسانی نفسیات کی داخلی پیچیدگیوں، شاعرانہ اسلوب اور انسانی درد و کرب کو حساس کو لفظوں میں سمو لینے کی حیرت انگیز صلاحیت کے سبب ایک خاص عالمی شہرت حاصل ہے۔
ان کے لکھنے کی ابتداء کہانی ’اسکارلٹ اینکر‘ ( 1993 ء ) سے ہوئی، جو نئے سال کے مقابلہ جات کا انعقاد کرانے والے رسالے سیول سن من میں 1994 ء میں اول نمبر پر آئی تھی۔ اس کے بعد جلد ہی ان کا ناول ’ریڈ اینکر‘ 1994 ء میں سامنے آیا۔ تاہم ہان کانگ کو اصل شہرت اس کے کئی سال بعد منظرِ عام پر آنے والے ان کے ناول ’دی ویجیٹیرین‘ سے ملی، جو 2007 ء میں شائع ہوا۔ اس ناول کو 2016 کے مین بکر پرائز سے نوازا گیا تھا۔ یہ انعام اس ناول کے اصل کورین متن اور انگریزی ترجمے، جسے ڈیبورا سمتھ نے سرانجام دیا تھا، ان دونوں کو ہی بیک وقت دیا گیا تھا۔
اپنے ناول ”دی ویجیٹیرین“ میں وہ ایک ایسی عورت ینگ ہی کی کہانی سناتی ہیں جو اپنے ایک ہراساں کر دینے والے خواب کے سبب گوشت خوری سے کنارہ کشی اختیار کر لیتی ہے، یہی نہیں اس کی آخری حیرت انگیز خواہش پودا بن کر امر ہو جانا ہے، جو اس ناول میں پوری بھی ہو جاتی ہے۔
ہان کانگ کی تحریروں میں انسانی نفسیات کی ایک خاص گہرائی دیکھنے کو ملتی ہے، اس حوالے سے ان کی ایک اور تخلیق ”دی وائٹ بک“ خاص طور سے قابلِ ذکر ہے۔ یہ ایسا سوانحی ناول ہے جسے انھوں نے اپنی بڑی بہن کی پیدائش کے دو گھنٹے بعد ہی وفات سے مضطرب ہو کر تحریر کیا۔ اس ناول میں زندگی و موت کا باہمی سنگم ایک حیرت انگیز پیرائے میں سامنے آتا ہے جو قاری کے سامنے موت کے فلسفے اور زندگی کی المناک جہات کو حساس انداز میں پیش کرتا ہے۔
ہان کانگ انسانی بیگانگی، اجنبیت، ماحولیاتی جبر، صدمے، حیاتِ انسانی کی بقاء اور وجودیت کو اکثر اپنی تخلیقات کا موضوع بناتی ہیں۔ ان کے ناولوں میں تشدد، سماجی دباؤ، آمرانہ نظام، فرسودہ فکر اور مطلق العنان حکمرانوں کی سختی اور سماجی تلخی بھی اپنی بھرپور گہرائی سے ملتی ہے۔ ہان کانگ 1970 میں گوانگجو میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد، جو خود ایک معروف تخلیق کار ہیں، انھوں نے 1980 کی گوانگجو بغاوت سے محض چار ماہ قبل، وہاں کی سیاسی و سماجی صورتحال کی ابتری کے سبب سیول کی جانب ہجرت کی تھی۔ لیکن اس واقعے کے پر تشدد سیاسی جبر نے اس خاندان پر گہرے اثرات چھوڑے۔
یہی وجہ ہے کہ ہان کانگ نے بہت کم عمری میں ہی گوانگجو کے اس ہولناک سیاسی سانحے کی بازگشت اپنے گھر اور گرد و پیش میں سنی اور وقت کے اس ہولناک جبر اور خوف کو اپنی ذات کی گہرائیوں میں محسوس کیا۔ یہی وہ چیز تھی جس نے ان کی تخلیق میں دکھ، درد، صدمے اور کرب کی فضا تخلیق کی اور انسانی آزادی و بقاء کی جنگ کو مزید تقویت بخشی۔ جنوری 2016 میں ان کا منظرِ عام پر آنے والا ناول ”انسانی اعمال“ جسے حال ہی میں قربان چنا صاحب نے اردو زبان و ادب میں منقلب کیا ہے، گوانگجو بغاوت کے جبر و استحصال کی اسی بدترین تاریخ اور سیاسی و سماجی صورتحال کا احاطہ کرتا ہے۔
یہ ناول کئی جہات سے جنوبی کوریا کی تاریخ کے اس پر تشدد واقعے کی نہ صرف مذمت کرتا ہے بلکہ پسماندگان کے گہرے غم، ہولناکی اور مطلق العنان آمروں کے اس سیاسی جبر پر بھی اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے، جنھوں نے ایک ہنستے بستے شہر میں موت کا ایسا بھیانک اور سفاک کھیل کھیلا کہ لاشوں کے انبار لگا ڈالے۔ اس ناول میں ہان کانگ نے بڑی مہارت سے اس صورتحال کا جائزہ لیا ہے کہ کس طرح انفرادی صدمات اجتماعی کرب میں تحلیل ہو کر ایک معاشرے کی نفسیات و یاداشت پر اپنا گہرا اثر چھوڑتے ہوئے جبر کی ایک ایسی تاریخ رقم کر جاتے ہیں، جنھیں وہ قومیں چاہ کر بھی اپنے ماضی سے مٹا نہیں پاتیں۔
ناول ”انسانی اعمال“ کی یہ کہانی ایک پندرہ سالہ لڑکے ڈونگ ہو کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے دوست جیونگ ڈے اور اس کی بہن جیونگ می کو 1980 کی گوانگجو بغاوت کے پرتشدد دنوں میں کھو بیٹھتا ہے۔ پہلے جیونگ ڈے کی بہن غائب ہوتی ہے، جسے گوانگجو بغاوت کے ابتدائی دنوں میں ہی ریاستی تشدد کے ابتدائی دور میں بڑی بے دردی سے مار ڈالا جاتا ہے۔ تب چھوٹا بھائی جیونگ ڈے اپنے دوست ڈونگ ہو کے ساتھ اپنی بہن کی تلاش کو نکلتا ہے اور خود ریاستی جبر کا شکار ہو کر مارا جاتا ہے، اس کی لاش کو کچرے کے ٹرک میں اور بہت سے مظاہرین کی لاشوں کے ساتھ لاد کر اجتماعی قبر میں بڑی بے دردی کے ساتھ پھینک کر دفن کر دیا جاتا ہے۔
دوسری طرف ڈونگ ہو ہے، جو اپنے دوست کی لاش کو ڈھونڈتے ہوئے ہر اس مردہ خانے پر جاتا ہے جہاں نئی پرانی لاشیں لائی جاتی ہیں۔ اس دوران وہ ایسے کئی لوگوں سے ملتا ہے جو مسخ ہوتی لاشوں کو سنبھالتے ہیں، ان کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کے لواحقین کو ان تک پہنچنے اور شناخت کے اذیت ناک مراحل سے گزرنے میں مدد دیتے ہوئے ان کے کفن دفن کا بندوبست کرتے ہیں۔ جابر ریاست کے اس اجتماعی تشدد، ظلم اور بربریت کے مظاہروں پر انسانیت خون کے آنسو روتی ہے۔
اور پھر وہ وقت آتا ہے جب لاشوں کو سنبھالنے اور ان کی حفاظت کرنے والا یہ لڑکا، ڈونگ ہو اپنے چند مسلح ساتھیوں کے ہمراہ عمارت میں موجود بچوں کی جان بچانے کی غرض سے ہتھیار ڈال کر خود کو فوجیوں کے حوالے کر دیتے ہیں، محض اپنی معصوم سوچ اور کھرے دلوں کی بناء پر وہ یقین رکھتے ہیں کہ یوں ہتھیار ڈال دینے سے وہ کئی معصوم زندگیاں بچا پائیں گے مگر افسوس کہ ریاستی پر تشدد عناصر وہیں ان سب کو بے دردی سے مار ڈالتے ہیں۔
ہان کانگ نے تشدد اور جبر کی اس داستان کو بڑے حساس انداز میں قلم بند کیا ہے۔ انھوں نے اس ناول کی تخلیق سے قبل گوانگجو کے اس تاریخی سانحے اور ڈونگ ہو کی ذاتی زندگی کے بارے میں مفصل معلومات جمع کیں، پھر جب انھوں نے ڈونگ ہوکے بھائی سے یہ سب لکھنے کی اجازت مانگی تو اس نے فقط اتنا کہا کہ: ”آپ کو یہ سب لکھنے کی اجازت ہے مگر شرط یہ ہے کہ آپ اسے درست طور پر لکھیں۔ براہِ کرم اپنی کہانی یوں لکھیں کہ کوئی میرے بھائی کی یاد کو دوبارہ پامال نہ کر سکے۔“
ناول پڑھتے ہوئے بار ہا یہی محسوس ہوتا ہے جیسے ہان کانگ نے ڈونگ ہو پر ہونے والے جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی جبر کو اپنے دل پر محسوس کرتے ہوئے اس ناول میں رقم کیا۔ یوں جیسے اپنی کہانی ڈونگ ہو نے ہان کانگ کا ہاتھ پکڑ کر خود لکھوائی ہو۔ وہ ناول کے اختتام میں اس کی قبر دیکھ کر محسوس کرتی ہیں جیسے :
”پتلے سے گلے والا لڑکا، ہلکے گرم کپڑوں میں، برف سے ڈھکی اس پگڈنڈی پر چل رہا ہے، جو قبروں کے درمیان سے گزرتی ہے اور میں اس کے پیچھے پیچھے چل رہی ہوں۔ شہر کے وسط میں برف پگھل چکی ہے، لیکن یہاں ابھی بھی موجود ہے۔ لڑکا ایک جمے ہوئے برف کے ٹیلے پر قدم رکھتا ہے، جس سے اس کے ٹریک سوٹ کے پائنچے بھیگ جاتے ہیں۔ سردی سے چونکتے ہوئے وہ میری طرف پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے۔ مسکراتا ہے اور اس کی مسکراہٹ اس کی آنکھوں تک پھیل جاتی ہے۔“
اس ناول میں گوانگجو کی تاریخ کے وہ حصے نہایت دلگداز ہیں جہاں ڈونگ ہو کے دوست جیونگ ڈے کی روح جب خود کو مردہ لوگوں کے انبار میں دبا پاتی ہے تو اپنی مسخ شدہ لاش پر تڑپ اٹھتی ہے۔ وہ اپنے جسم سے جدا ہو کر بھی اس کے ساتھ جڑی رہتی ہے اور اس تمام اذیت کو خود پر محسوس کرتی ہے۔ احساس کی اذیت میں وہ اکیلی نہیں بلکہ وہ تمام مضطرب و بے چین روحیں بھی اس کے ساتھ شامل ہیں، جنھیں بے دردی سے زندگی سے محروم کر دیا گیا تھا۔ ذرا اس ننھے لڑکے جیونگ ڈے کی روح کی نظر اس ہولناک منظر کو ملاحظہ کیجیے :
”ہر بار جب وہ آتے بھوسے کی بوری سے ڈھکے ہوئے جسموں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا۔ وہ جسم جن کی کھوپڑیاں کچلی ہوئی ہوتیں اور کندھے اکھڑے ہوئے ہوتے، جیسے انھیں گولی سے نہیں بلکہ کسی بھاری چیز سے مارا گیا ہو، اور کبھی کبھار ایسے جسم بھی نظر آتے جو نسبتاً سلامت تھے، صاف ستھرے، اسپتال کے لباس میں ملبوس، جن پر مرہم پٹی بندھی ہوئی ہوتی۔“
ناول میں جیونگ ڈے کی روح کی خود کلامی جہاں ناول کے کئی حصوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرتی ہے، وہیں درد کے اس پیرائے کو کھول کر قاری کے سامنے رکھ دیتی ہے جہاں اپنے وطن کے محافظ جب اپنی عوام کی جان کنی پر اتر آئیں تو قتل و غارت کا ایسا بازار گرم کرتے ہیں کہ قیامت بھی پناہ مانگتی ہے۔ ناول کے اس حصے میں کہیں روح کی خود کلامی تو کہیں اپنے دوست ڈونگ ہو کی یاد میں گزرے ماضی کے تلخ لمحوں کی بازگشت قاری کے دل پر ایک بوجھ کی صورت محسوس ہوتی ہے۔ ذرا یہ حصہ دیکھیے :
”اُن دو آدمیوں کی لاش کا کیا ہوا، جنھیں اسٹیشن کے سامنے گولی ماری گئی۔ جنھیں کچھ مظاہرین ریڑھی میں ڈال کر جلوس میں آگے دھکیل رہے تھے؟ ان دو ننگے پاؤوں کا کیا ہوا جو ہوا میں جھول رہے تھے، جن کی بے لباسی بے ہودہ لگ رہی تھی؟ میں نے دیکھا جب تمہاری نظر ان پر پڑی تو تمہارے جسم میں لرزش سی دوڑ گئی۔ میں نے تمہارا ہاتھ تھاما اور تمہیں آگے کھینچا، جلوس کے آگے کی طرف، جب کہ تم بے زاری سے بڑ بڑا رہے تھے :
”ہمارے سپاہی گولی چلا رہے ہیں، وہ ہم پر گولی چلا رہے ہیں۔ میں نے پوری طاقت سے تمہیں اپنی طرف کھینچا اور قومی ترانہ گانا شروع کر دیا۔ تمہاری آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔ میں نے قومی ترانہ گاتے ہوئے اپنی پوری جان کا زور لگا دیا۔ مجھے یوں لگا جیسے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا، اس سے پہلے ہی وہ انگاروں کی طرح دہکتی ہوئی گولی میرے پہلو میں پیوست کر دی گئی۔“
یہ ناول 1980 کے گوانگجو کی بغاوت پر مبنی ریاستی تشدد اور انسانی درد و کرب کی ایسی سفاک داستان ہے جسے پڑھتے ہوئے روح بار ہا کانپ اٹھتی ہے۔ ہان کانگ اس ناول میں بار بار مصائب اور بقاء کے مابین موجود اس نازک توازن کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہیں، جسے آمروں کے مطلق العنان ہاتھوں میں کہیں اعتدال حاصل نہیں رہا۔ ناول میں رضا کار کی حیثیت سے لاشیں سنبھالنے والی ایک لڑکی اون سوک جو ابھی ہائی سکول کی طالبہ ہے، اسے ماضی میں ایک بزدل ناشر کے ساتھ اشاعتی گھر میں کام کرنے کے دوران ایک متنازع مترجم کی تحاریر کی اشاعت کی پاداش میں بے دردی سے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے ایک ہی گال پر سات زور دار تھپڑ مارے جاتے ہیں۔
ہان کانگ دکھاتی ہیں کہ ظلم، جبر اور تشدد کے یہ زخم صرف جسم پر نہیں پڑتے بلکہ یہ گھاؤ انسانی روح میں بھی کسی تذلیل کی مانند اتر جاتے ہیں۔ جسم کا زخم تو کبھی نہ کبھی بھر جاتا ہے مگر روح کے گھاؤ ایسی آسانی سے کہاں جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ زخم ان ناسوروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جو کسی دیمک کی مانند انسانی روح کو چاٹ جاتے ہیں۔ آپ اس کیفیت کا اندازہ اون سوک کی اس کیفیت سے لگا سکتے ہیں :
”اون سوک کو اس کے دائیں گال پر سات تھپڑ پڑے۔ اسے بہت زور سے مارا گیا۔ بار بار ایک ہی جگہ، کہ اس کے دائیں گال کی ہڈی کے اوپر موجود شریانیں پھٹ گئیں اور خون اس کی پھٹی ہوئی جلد سے باہر رسنے لگا۔ وہ اپنے دائیں کان سے بہری ہو گئی۔ ایک اور تھپڑ اس کے کان کا پردہ پھاڑ سکتا تھا۔“
یہاں ناول میں ایک علامتی فوارہ جو ملکی نظام کے بظاہر امن و امان کی علامتی صورت ہر وقت چلتا رہتا ہے، جسے چلتا دیکھ کر کڑھتے ہوئے اون سوک صوبائی دفتر کے عوامی شکایات کے محکمے کو فون کرتی ہے اور ان کی منت کرتی ہے : ”یہ فوارہ نہیں چلنا چاہیے، خدا کے واسطے اسے بند کروا دو۔ فون کا ریسیور اس کے پسینے سے چپچپا ہو جاتا۔ شعبے کا عملہ صبر کے ساتھ یقین دہانی کراتے ہوئے جواب دیتا کہ اس معاملے پر اوپر بات کی جائے گی۔ ایک بار ایک درمیانی عمر کی عورت نے اس کی کال کا جواب دیا، جو بڑی ہمدرد ہونے کے ساتھ مایوس بھی تھی: مجھے افسوس ہے لیکن آپ کو کال کرنا بند کرنا ہو گی۔ ہم فوارے کے حوالے سے کچھ نہیں کر سکتے۔“
ظلم کی یہ تاریخ سنانے اور دکھانے کے لیے ناول کا ہر کردار ہان کانگ اس مہارت سے تخلیق کرتی ہیں کہ وہ اس دور کی مکمل سیاسی و سماجی صورتحال ہمارے سامنے پیش کرتا چلا جاتا ہے، جہاں بغاوت کی وجہ عوام کا وہ ضمیر تھا، جو انھیں کسی طور آمریت کی غلامی کرنے کی اجازت نہ دیتا تھا۔ یہاں 1990 کا ایک قیدی، اس دن کے حوالے سے اپنے احساسات کچھ یوں بیان کرتا ہے :
”جب سے بغاوت شروع ہوئی مجھے اپنے اندر ایک چیز محسوس ہو رہی تھی جو کسی بھی فوج سے زیادہ غالب تھی۔ ضمیر!
ضمیر جو دنیا کی سب سے خوفناک شے ہے۔ جس دن میں نے اپنے ساتھی شہریوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر سپاہیوں کی بندوقوں کا سامنا کیا، جس دن پہلی دو لاشوں کو ریڑھی میں رکھ کر جلوس کی قیادت میں آگے دھکیلا گیا، میں نے اپنے اندر ایک چیز کی عدم موجودگی محسوس کی۔ خوف کی عدم موجودگی۔ مجھے یاد ہے میں نے محسوس کیا کہ مر جانا ٹھیک ہے، میں نے لاکھوں دلوں کا خون ایک بڑی سی شریان میں دوڑتے محسوس کیا، جو تازہ اور صاف تھا۔ ”
یہ قیدی نوجوانوں کے لیڈر جن سو کے بارے میں بتاتا ہے، جس نے لڑکپن میں قدم رکھتے ان بچوں کو سمجھا دیا تھا کہ حملے کے وقت وہ الماریوں میں چھپ جائیں اور جیسے ہی گولیوں کی آوازیں تھم جائیں تو ہاتھ اوپر کھڑے کرتے ہوئے باہر نکل کر خود کو فوج کے حوالے کر دیں کہ یہ سب ان کے زندہ رہنے کے لیے ہو گا۔ مگر افسوس کہ اس تمام منصوبہ بندی کے باوجود جب تمام بچے جن سو کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ہتھیار ڈال کر ہاتھ اٹھائے باہر نکلے تو انھیں بھی باقی لوگوں کی مانند گولیوں سے بھون دیا گیا۔ بقول 1990 کے قیدی کے :
”نہیں! ہم میں سے کسی نے اپنی بندوق نہیں چلائی۔ ہم میں سے کسی نے قتل نہیں کیا۔ جب سپاہی سیڑھیاں چڑھ کر تاریکی سے ہمارے سامنے آئے تب بھی ہم میں سے کسی نے اپنی بندوق نہیں چلائی۔“
محض اس لیے کہ انھیں علم تھا کہ انھوں نے بغاوت کا اسلحہ جن معصوم بچوں کے ہاتھوں میں پکڑا دیا تھا وہ ابھی اسے سنبھالنے یا چلانے سے قاصر تھے۔ صرف اسی خیال سے کہ اس صورت میں وہ ڈرے سہمے چھپے ہوئے بچے بھی مارے جائیں گے، انھوں نے ہتھیار ڈل دیے، ناول میں اس کے بعد کا ہولناک منظر تب ہمارے سامنے تب آتا ہے جب سپاہی ان کی خود سپردگی کو برائے خاطر نہ لاتے ہوئے، بڑے بے رحمانہ انداز میں ان معصوم بچوں کے جسموں میں بھی گولیاں اتار دیتے ہیں۔ وہ مزید بتاتا ہے کہ:
”بعد میں مجھے پتہ چلا کہ اس دن فوج کو آٹھ لاکھ گولیاں دی گئی تھیں۔ اس وقت شہر کی آبادی چار لاکھ تھی۔ یعنی ان کے پاس اتنی گولیاں تھیں کہ وہ شہر کے ہر باشندے کے سینے میں دو گولیاں اتار سکتے تھے۔ جب بھی میں اس رات کے ابتدائی لمحات میں بہنے والے خون کو یاد کرتا ہوں، جو سیڑھیوں پر اندھیرے میں امڈ آیا تھا تو مجھے لگتا ہے کہ وہ اموات صرف ان ہی لوگوں کی نہیں ہوئی تھیں جو مر گئے تھے بلکہ وہ دوسرے لوگوں کی موت کا متبادل بھی تھیں۔ ہزاروں لوگوں کی موت، ہزاروں دلوں کا خون۔“
وہ دکھ، درد اور مایوسی سے مزید بتاتا ہے کہ: ”میرے دائیں بائیں وہ لوگ تھے، جن سے میں چند لمحے پہلے بات کر رہا تھا۔ اب خاموشی سے ان کے جسموں سے خون بہہ رہا تھا، یہ بتانا ممکن نہ تھا کہ کون مر گیا اور کون زندہ تھا۔ میں راہداری میں اوندھا پڑا تھا، میرا چہرہ فرش میں دھنس گیا تھا۔ میری پیٹھ پر کسی نے مارکر سے لکھ دیا تھا“ پرتشدد عنصر۔ اسلحہ رکھنے والا۔ ”
جب اذیت دینے والے سلسلے نئے مراحل میں داخل ہوئے تو وہ موت سے بد تر تھے، اس قیدی کے بقول:
”اس بار ظالموں نے بے رحمی سے مار پیٹ کی بجائے ایسی پیچیدہ اذیتیں دینی شروع کیں جو فقط جسمانی طور پر تھکا دینے والی نہیں تھیں۔ “ ہیئر پن ٹارچر ”جس میں ہمارے دونوں بازو پیچھے سے باندھ کر کلائیوں کے درمیان ایک بڑی لکڑی کا ٹکڑا ڈال دیا جاتا، جس کے بعد ہمیں پانی میں ڈبو کر بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے اور“ روسٹ چکن ”نامی اذیت دی جاتی، جس میں ہمیں رسیوں سے باندھ کر چھت سے لٹکا دیا جاتا اور ڈنڈوں سے پیٹا جاتا۔ اب وہ صرف جھوٹے اعترافات چاہتے تھے تاکہ ہمارے نام ان کے بنائے ہوئے اسکرپٹ میں فٹ ہو سکیں۔ “
یہاں طاقت اور اختیار کی نفسیات کے اس امتزاج کو ملاحظہ کیجیے جسے ہان کانگ بڑی مہارت سے اپنے ناول میں پیش کرتی ہیں، جہاں انسان حاکمیت اور اختیار کے نشے میں اپنے جیسے دیگر انسانوں کو چیونٹی سے بھی کمتر اور حقیر مخلوق جانتا ہے۔ جیسے ناول میں ایک چھاتہ دار سپاہی اس قیدی کو بعد از رہائی بتاتا ہے کہ کس طرح انھیں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ تشدد کے ساتھ کچلنے کا حکم دیا گیا تھا، جو سپاہی زیادہ بے رحمی کا مظاہرہ کرتے، انھیں افسران ڈھیروں انعامات دیتے۔ ہان کانگ انسانی جبلت کی اس وحشت پر کچھ یوں سوال اٹھاتی ہیں۔
”کیا واقعی انسان بنیادی طور پر ظالم ہوتا ہے؟ کیا ظلم کا تجربہ ہی وہ واحد چیز ہے جو ہم میں مشترک ہے؟ کیا یہی ہماری شان ہے کہ ہم خود فریبی کے سوا اور کچھ نہیں کرتے؟ اور اپنے آپ سے حقیقت چھپاتے ہیں کہ ہم میں سے ہر کوئی ایک کیڑے، شکاری درندے یا گوشت کے ٹکڑوں میں تبدیل ہو سکتا ہے؟ ذلیل ہونے، زخمی ہونے اور مارے جانے کا عمل، کیا یہ انسانیت کا اصل مقدر ہے، جسے تاریخ نے ناگزیر طور پر ثابت کیا ہے؟“ وہ مزید لکھتی ہیں کہ:
” میں نے کورین فوج کی ایک پلاٹون کے بارے میں کہانی سنی تھی، جو ویت نام میں لڑی تھی کہ کیسے انھوں نے ایک خاص گاؤں کی عورتوں، بچوں اور مردوں کو مرکزی ہال میں اکٹھا کیا اور پھر انھیں جلا دیا۔ یہ سب گوانگجو میں ہوا، جیجو جزیرے پر ہوا، کوانتنگ اور نانجنگ میں ہوا، بوسنیا میں ہوا اور امریکی براعظم میں اس وقت ہوا جب اسے نئی دنیا کہا جاتا تھا، ایک ایسی یکساں بربریت کے ساتھ، جیسے یہ سب ہمارے جینیاتی کوڈ میں نقش ہو۔“
ناول میں 2002 کی فیکٹری والی لڑکی سون جو کا کردار بھی نہایت دردناک ہے۔ یہ ان نوجوان طلباء میں شامل ہے جو رضاکارانہ طور پر صوبائی دفتر میں لاشیں سنبھالنے کا کام کرتے ہیں۔ سون جو ماضی میں مزدور حقوق کی تنظیموں کے ساتھ کام کرتی رہی ہے، جسے اپنے حقوق کے لیے کیے گئے احتجاج اور گوانگجو بغاوت میں کی گئی مزاحمتی سرگرمیوں کی وجہ سے جیل جانا پڑتا ہے۔ جہاں اسے بد ترین جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ناول میں سون جو اپنے تلخ ماضی سے جڑا وہ گیت یاد کرتی ہے، جو دھند کے سائے میں ڈوبا اس تک پہنچتا ہے، اس گیت میں ہان کانگ کی شاعرانہ نثر کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
ہم اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر مرنا پسند کریں گے،
بجائے اس کے کہ گھٹنوں پر جھک کر زندہ رہیں
آؤ ان لوگوں کی تعظیم میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کریں
جنھوں نے پہلے ہی قیمت ادا کر دی
آؤ ان کے نقشِ قدم پر چلیں اور آخر تک لڑیں
کیونکہ ہم باعزت ہیں
ہان کانگ کے تراشے گئے کرداروں میں ڈونگ ہو کی ماں کا کردار سب سے زیادہ معصوم، شفیق اور مظلوم کردار ہے۔ ڈونگ ہو کی ماں اسے کس شدت اور بے یقینی کے ساتھ یاد کرتی ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو بار بار صوبائی دفتر سے لینے کے لیے آتی ہے مگر بیٹے کا رضا کارانہ جنون، جو اس کے دوست کی موت کے بعد کافی بڑھ گیا ہے، اسے واپس نہ جانے پر مجبور کرتا ہے اور یوں بیٹے کی صورت ترستی یہ ماں روتی بلکتی گھر واپس آجاتی ہے اور اسی کیفیت میں ایک دن اسے بھی اس ریاستی تشدد کی آگ کا ایندھن بنتے دیکھتی ہے اور اس کے دکھ میں صدمے سے مر جاتی ہے۔
ناول میں ممتا کی شدت سے بھرے مکالمے قاری کو درد کی کیفیت میں جکڑ لیتے ہیں۔ مثلاً جب وہ اپنے بیٹے کی تصویر سے روتے ہوئے باتیں کرتی ہے کہ: ”جب تم دودھ چھڑا چکے تو تم اتنی شدت سے انگوٹھا چوستے کہ تمہارے انگوٹھے کا ناخن کاغذ کی طرح پتلا اور شفاف ہو گیا۔ جب میں تالیاں بجاتی اور خوشی سے کہتی یہاں آؤ، یہاں آؤ، تو تم لڑکھڑاتے ہوئے میری طرف ایک قدم بڑھاتے۔ پھر سات قدم ہنستے ہوئے آگے بڑھتے، یہاں تک کہ میں تمھیں اپنی بانہوں میں سمیٹ لیتی۔“
وہ بیٹے کی یاد میں ہمہ وقت سسکتی ہوئی خود کلامی کے عمل سے بارہا گزرتی ہے اور اپنے دل کے زخموں کو ایک مقدس یاد کی صورت ہمیشہ سنبھال کر رکھتی ہے : ”میں نے تمہارے سکول کے شناختی کارڈ کی تصویر کاٹ کر اپنے پرس میں رکھی ہے۔ دن ہو یا رات اب گھر ہمیشہ ہی خالی محسوس ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی مجھے صبح کے وقت کا انتظار پسند ہے، تب جب دنیا کا کوئی بھی فرد یہاں آنے کی کوئی وجہ نہیں رکھتا۔ اُس وقت میں سادہ کاغذ کی تہوں سے یہ تصویر نکالتی ہوں اور تمہارے چہرے کی شکنوں کو ہموار کرتی ہوں۔ کوئی سننے والا نہیں ہوتا پھر بھی میں سرگوشی میں تمہارا نام پکارتی ہوں۔ ڈونگ ہو!“
یہ ایک ماں کے خالص ممتا بھرے جذبات ہیں۔ ہان کانگ نے تاریخ کے اس المناک سانحے کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور اس وقت کی سبھی تاریخی دستاویزات، شواہد اور محفوظ کی گئی تصاویر کا بغور مطالعہ کیا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ آمریت کے جبر نے بڑی دیدہ دلیری سے دن دیہاڑے کیے گئے ظلم و تشدد کے اس سانحے کو بغیر کسی ندامت و ہچکچاہٹ کے روا رکھا۔ لاتعداد معصوم لوگوں کو محض احتجاج کی بناء پر سفاکی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
اس وقت کے جابر حکمرانوں نے ان بے رحمانہ مناظر کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ اس خوں ریزی و تشدد کا تقاضا بھی بار بار کیا تاکہ اس بغاوت کو عیاری و سفاکی سے کچلا جا سکے جو لوگوں کے ذہنوں میں نمو پا رہی تھی اور جس کا اظہار وہ جلسوں میں احتجاج کی صورت کر رہے تھے۔ سب سے زیادہ دکھ، صدمے اور تاسف کی بات یہ تھی کہ اس سانحے کے مدتوں بعد بھی ان حکمرانوں کو انصاف کے کٹہرے میں کبھی کھڑا نہ کیا گیا جو اس تباہی و خوں ریزی کے ذمہ دار تھے۔ وہ اس ناول میں خود لکھتی ہیں کہ:
” 1979 کی خزاں میں جب جنوبی شہروں بوسان اور ماسان میں جمہوری بغاوت کو دبایا جا رہا تھا، تب صدر پارک چنگ ہی کے چیف باڈی گارڈ چاجی چول نے ان سے کہا کہ کمبوڈین حکومت نے بھی اپنے دو ملین لوگ مارے ہیں، ہمیں بھی ایسا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ مئی 1980 میں گوانگجو میں جب مظاہروں نے شدت اختیار کی تو فوج نے غیر مسلح شہریوں پر آگ برسانے والے ہتھیار استعمال کیے۔ فوجیوں کو سیسے سے بنائی گئی گولیاں فراہم کی گئیں۔ حالانکہ یہ انسانیت کی بنیاد پر عالمی عدالت کی طرف سے ممنوع قرار دی گئی تھیں۔
چن دو ہووان، جو پارک چنگ ہی کے اتنے قریب تھے کہ اسے سابق صدر کا منہ بولا بیٹا کہا جاتا تھا، وہ خاص فورسز کو بھیجنے اور صوبائی دفتر میں موجود لوگوں کو ہتھیار نہ ڈالنے کی صورت میں شہر پر بمباری کرنے کے امکان پر غور کر رہا تھا۔ ”
بہت سے مقامات پر ناول ہان کانگ کا ایسا تخیل محسوس ہوتا ہے جس میں انھوں نے اپنے قاری کو بھی شریک کر لیا ہو، مثلاً تاریخی دستاویزات کی آنکھ سے وہ دیکھتی ہیں کہ کس طرح ”21 مئی کی صبح فوج کی جانب سے بھیڑ پر گولیاں چلانے سے قبل ایک فوجی ہیلی کاپٹر سے چن دو ہووان کو گوانگجو کے میدان میں اترتے دیکھا گیا تھا۔ نوجوان جنرل خود اعتمادی سے بھرپور تھا۔ وہ ہیلی کاپٹر سے اتر کر تیزی سے آگے بڑھا اور ملنے والے افسران سے مضبوطی سے ہاتھ ملانے لگا۔“
ہان کانگ مظلوموں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کو ایسے تابکاری زہر سے مماثل قرار دیتی ہیں جو صدیوں تک متاثرہ فرد کا احاطہ کیے رکھتا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ: ”مظلومین پر تشدد کے اثرات کی تابکاری زہر کے متاثرین جیسی کیفیت تھی کہ جس طرح تابکاری مادہ دہائیوں تک پٹھوں اور ہڈیوں میں موجود رہتا ہے اور اس سے کروموسومز میں تبدیلی آجاتی ہے، خلیات کینسر زدہ ہو جاتے ہیں اور زندگی خود ہی خود کو تباہ کرنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ متاثرہ شخص مر جائے، اس کا جسم جل کر ہڈیوں کی راکھ بن جائے مگر پھر بھی اس تابکاری مادے اور اس کے اثرات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بالکل اسی طرح تشدد کے اثرات تھے جو مرنے والوں کے محض جسموں پر نہ لگے تھے بلکہ امر ہو جانے والے ان زخموں نے ان کی روح کو گھائل کر دیا تھا۔ وہ مر چکے تھے مگر ان کی روحیں زخمی اور آزردہ تھیں۔ وہ کرب و تکلیف کے ایسے ابدی برزخ میں گرفتار تھیں جن سے رہائی کی کوئی شکل نہ تھی۔“
جب 2009 میں انسدادِ فساد کے لیے پولیس نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے مرکز میں زبردستی بے دخلی کے خلاف احتجاج کرنے والے کارکنان و مظاہرین پر غیر قانونی چھاپہ مارا اور چھ افراد کو ہلاک کر ڈالا تو ہان کانگ رات کے اس پہر جلتے میناروں کو دکھ اور تاسف سے دیکھتی رہیں اور صدمے سے بول اٹھیں کہ یہ تو گوانگجو ہے کیونکہ ہان کانگ کے لفظوں میں گوانگجو ہر اس چیز کا دوسرا نام بن چکا تھا جسے جبراً الگ کر دیا جاتا، کچل دیا جاتا اور انتہائی بربریت کا نشانہ بنایا جاتا اور ہر اس چیز کا بھی جو ناقابلِ مرمت حد تک مسخ ہو چکی ہوتی۔
ہان کانگ دنیا بھر میں جاری رہنے والے مظالم اور تشدد پر کڑھتے ہوئے لکھتی ہیں کہ: ”تابکاری کا پھیلاؤ تو اب تک جاری ہے۔ گوانگجو ایک بار پھر جنم لینے کے لیے زندہ ہوا ہے، صرف اس لیے کہ اسے دوبارہ بیدردی سے قتل کر دیا جائے، جیسے یہ ایک نہ ختم ہونے والے چکر کا کوئی سلسلہ ہو۔ اسے زمین بوس کر دیا گیا اور پھر خون سے رنگی ایک نئی زندگی کے ساتھ پھر سے کھڑا کر دیا گیا۔“
ہان کانگ نے اس ناول میں محض ایک تاریخی سانحے کو دستاویزی شکل میں محفوظ نہیں بلکہ ان تمام انسانی اعمال اور انسانی نفسیات کے پہلوؤں کو بھی بڑی عمدگی سے اس ناول کا موضوع بنایا ہے جو فطرتِ انسانی سے منسلک ہو کر کسی بھی سماج کی تعمیر، تہذیب یا انہدام کا باعث بنتے ہیں۔
اس تعارفی تجزیے میں ناول کے پیش کیے گئے اقتباسات سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ قربان چنا صاحب نے اس ناول کو بڑی محنت، مہارت اور دقتِ نظر سے انگریزی سے اردو زبان میں منقلب کیا ہے۔ انھوں نے اس ترجمے میں ہر ممکن کوشش کی ہے کہ قاری کے سامنے نہ صرف ناول کے اصل متن کا درست ابلاغ ہو سکے بلکہ وہ متن میں تاریخ، سماج اور شعور کی اس گہرائی تک بھی پہنچ سکے جو ہر بڑے ادب کا خاصا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ سٹی بک پریس کراچی سے شائع ہونے والے اس ترجمے کی سہل، آسان اور رواں عبارت کی بدولت وہ اپنی اس کوشش میں بڑی حد تک کامیاب ٹھہرے ہیں۔
عالمی اہمیت کے حامل ایک بڑے اور گراں قدر ادبی فن پارے کو اردو زبان و ادب میں منتقل کرنے کے کارِ لائقہ کو سر انجام دینے پر قربان چنا صاحب کو دلی مبارکباد۔ امید ہے کہ وہ سماجی افادے کے حامل ایسے اہم ادبی کارناموں کو جاری رکھیں گے۔





