ایک خاموش جنگ بندی


silhouette 08

ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ عسکری تصادم جتنا شور شرابے کے ساتھ شروع ہوا، اتنا ہی پراسرار طریقے سے ختم بھی ہو گیا۔ نہ کوئی واضح فتح، نہ شکست کا اعتراف، بس عالمی طاقتوں کا مداخلت آمیز سکوت اور اندر ہی اندر بہت کچھ بدلتا ہوا۔ لیکن اس جنگ کے بعد جو سوالات اٹھے ہیں، وہ محض فوجی زاویے سے نہیں، بلکہ سفارتی، نظریاتی اور اسٹریٹجک بیانیوں پر بھی تیز روشنی ڈال رہے ہیں۔

یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے اتنا موثر حملہ کیا کہ اسرائیل جنگ بندی پر مجبور ہو گیا۔ مگر کیا یہ سادہ سی بات ہے؟

ایران کے حملے میں شدت تھی، ہاں، مگر تکنیکی لحاظ سے اسرائیل نے اپنے دفاعی نظام (Arrow، Iron Dome) کے ذریعے زیادہ تر خطرات ٹال دیے۔ تو پھر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیوں؟

یہ فیصلہ شاید مادی نقصان سے زیادہ سیاسی دباؤ، داخلی عدم اطمینان اور جنگ کی طوالت کے خدشات کی بنیاد پر کیا گیا۔ چھوٹی سی اسرائیلی ریاست ایک بیک وقت غزہ، حزب اللہ، اور ایران جیسے حریفوں سے طویل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

چالیس سالہ پابندیاں کیا واقعی ایران کو کمزور کر سکیں؟ بظاہر تو نہیں۔ ایران نے اس دوران جو کچھ کھویا، وہ معیشت تھی، مگر جو حاصل کیا، وہ عسکری ہنر، خود انحصاری اور پراکسی مہارت تھی۔ مگر کیا ہم اس عسکری مظاہرے کو مکمل کامیابی کہہ سکتے ہیں؟ جب ایران کی فوجی قیادت کھلے عام نشانہ بنی، اور جوابی حملے بھی صرف علامتی رہے، تو کیا یہ ایک ایسی حکمت عملی تھی جس میں پوری جنگ سے بچ کر صرف تصویری فیس سیونگ کی گئی؟ ایران نے جنگ لڑی ضرور، مگر ”محدود جنگ“ کی حدود سے باہر قدم نہیں رکھا۔ شاید جان بوجھ کر، شاید مجبوری میں۔ یہ نکتہ اسرائیل کی پالیسی پر ایک واضح سوال اٹھاتا ہے کہ اگر ایران سفارتی چینلز کھول رہا تھا، تو اسرائیل نے حملے کے لیے یہی وقت کیوں چُنا؟ یہ کوئی اچانک فیصلہ نہیں تھا بلکہ کئی مہینوں سے کھچڑی پک رہی تھی جو سوشل میڈیا پر امریکی اور اسرائیلی راہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہے۔ یہ ایک پیغام تھا۔ کہ اسرائیل خطے میں ایران کی موجودگی کو ہر حال میں چیلنج کرے گا، چاہے ایران ’امن‘ کی بات ہی کیوں نہ کرے۔ اس کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ سفارتکاری صرف دکھاوا، اور اسلحہ ہی اصل زبان ہے۔ کم از کم اسرائیل کے لیے۔

امریکہ نے ایران پر حملہ ضرور کیا، مگر اتنا ہی کہ ایران کو غصہ آئے، جنگ چلے، اور پھر ختم ہو جائے۔ ایران کو حملے کی پیشگی اطلاع دی گئی۔ یہ خود امریکی میڈیا میں لیک ہو چکا ہے۔ ایران نے بھی جوابی کارروائی میں امریکی فوجیوں کو براہ راست نقصان نہیں پہنچایا۔ تو کیا یہ سب کچھ طے شدہ اسکرپٹ تھا؟

ایسا اسٹیج جہاں امریکہ اور ایران دونوں نے اپنی عوام کو دکھانے کے لیے ”نظریاتی جنگ“ کا پردہ چڑھایا، جب کہ حقیقت میں ایک دوسرے کے دائرۂ اثر کو چھیڑنے سے گریز کیا؟

اگر امریکہ واقعی اسرائیل کا اتحادی ہے تو وہ قطر اور عراق میں موجود اپنی تنصیبات پر ایرانی حملے پر خاموش کیوں رہا؟

خاموشی کی یہ ”سفارتی زبان“ اب سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

ایران نے اس پوری مہم کو ”فلسطینیوں کی حمایت“ کے بیانیے میں لپیٹنے کی کوشش کی، مگر عملاً فلسطین اس کھیل میں صرف ایک شطرنج کا مہرہ رہا۔ غزہ پر بمباری جاری رہی، حماس خاموش رہی، اور فلسطینی عوام کو صرف ایک اور ”ظاہری نعرہ“ ملا۔ کیا فلسطینی مسئلہ اب صرف سفارتی فائدہ اٹھانے کا بہانہ بن چکا ہے؟ یہ سوال اب صرف اسرائیل سے نہیں، ایران سے بھی پوچھا جا رہا ہے۔ اس جنگ میں ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت کا مارا جانا ایک سنگین معاملہ ہے۔ کیا یہ انٹیلی جنس لیک تھا؟

کیا قیادت کو محض ”شہادت کے بیانیے“ میں بدلنے کے لیے قربان کیا گیا؟ اگر ہاں، تو یہ ایک خطرناک روایت ہے۔ اور اگر نہیں، تو ایران کی دفاعی حساسیت پر سوال اٹھتے ہیں۔

ایک خودمختار ریاست کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ اس کے جنرلز کتنی آسانی سے دشمن کا ہدف بن جاتے ہیں۔ ایران کا جوہری پروگرام ہمیشہ ایک معمہ رہا ہے۔ کیا وہ واقعی بم بنانا چاہتا ہے، یا صرف عالمی برادری کو ڈرا کر رعایتیں حاصل کرنا؟

حالیہ جنگ میں ایران نے اپنے مبینہ نیوکلیئر انفرا اسٹرکچر کو ”منتقل“ کر دیا۔ کیا یہ بھی پہلے سے طے شدہ ڈرامہ تھا؟ یا محض دفاعی چال؟

اگر ایران بم نہیں بنا رہا، تو پھر یہ نیوکلیئر ڈپلومیسی صرف سفارتی بلیک میلنگ کا ہتھیار ہے۔ یہ جنگ ختم ضرور ہوئی، مگر کچھ ایسا جیسے کوئی ڈرامہ اختتام پذیر ہوا ہو وہ بھی بغیر کلائمیکس کے۔ ایران اپنی عسکری قوت کو ثابت کرنے میں کامیاب ہوا، مگر داخلی نقصان کے ساتھ۔ اسرائیل جنگ بندی تک پہنچا، مگر دنیا کے سامنے کمزور دکھائی دیا۔

امریکہ نے سب کچھ کنٹرول کرنے کی کوشش کی، مگر سوالوں سے بچ نہیں سکا۔ اور فلسطین؟ وہ ہمیشہ کی طرح پھر ایک بار نعرے کا حصہ بن کر رہ گیا، حقیقت کا نہیں۔ یہ جنگ نہیں تھی، یہ ایک سفارتی جنگی مظاہرہ تھا۔ اور اس کے پیچھے جو خاموش فریق تھے، شاید اصل گیم ان کے درمیان کھیلا گیا۔ یہ ڈرامہ دکھلائے گا کیا سین پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔ شاید ایک دوسرے کی جنگی صلاحیتوں کو ٹیسٹ کرنے کا ڈرامہ اسٹیک کی گیا جو کچھ عرصے بعد ایک ایسی فیصلہ کن جنگ میں تبدیل ہو جائے جس کا انجام دنیا کے لئے تباہی کے سوا کچھ نہ ہو۔ اس خطرے کے تدارک کے لئے دنیا بھر کے امن پسند عوام کو اپنے حکمرانوں کو نکیل ڈالنا ہو گی ورنہ ہومو سیپین کی تباہی اور اس دھرتی کا انجام نوشتہ دیوار ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے اور طاقت پرست انسان دشمنوں کو انجام بد سے دوچار کرے جن کی کاروباری اور ذاتی عناد کی وجہ سے جنگیں ہوتیں اور انسانیت سسک سسک کر مرتی ہے۔

مضمون نگار پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ماس کمیونیکشن ہیں۔

Facebook Comments HS