المیہ: قدیم یونان سے دریائے سوات تک


المیہ (ٹریجیڈی) کی ادبی روایت کی جڑیں قدیم یونانی تہذیب میں پیوست ہیں، جہاں یہ ایک مقدس اور عظیم فن کی حیثیت رکھتی تھی۔ یونان میں المیہ کو محض ایک ادبی صنف نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ یہ مذہبی اور ثقافتی رسموں کا حصہ تھا، جس کا تعلق دیوتاؤں کی عظمت، انسان کی حدود اور تقدیر کے خلاف اس کی جدوجہد سے تھا۔ اس دور کے مشہور المیہ نگاروں میں ”ایسکلس“ ، ”سوفوکلیز“ اور ”یوری پیڈیز“ کے نام نمایاں ہیں۔

قدیم یونانی المیے میں مرکزی کردار اکثر ”عالی مرتبت شخصیت“ یا ”ہیرو“ ہوتا تھا، جو سماجی اور اخلاقی طور پر بلند مقام رکھتا تھا، جیسے بادشاہ، شہزادہ یا کوئی مقدس پیشوا۔ اس ہیرو کی شخصیت میں کوئی ایک ”خامی“ یا ”غلطی“ ایسی ہوتی تھی جو بالآخر اس کی تباہی کا سبب بنتی۔ اس طرح المیہ صرف ”بڑے آدمی کا المیہ“ تصور ہوتا تھا۔ ارسطو نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف Poetics میں المیہ کی تعریف کرتے ہوئے اسی تصور کو اجاگر کیا کہ المیہ وہ فن ہے جو ”خوف“ اور ”رحم“ کے جذبات ابھارتا ہے اور ”کیتھارسِس“ یعنی جذباتی تطہیر کا باعث بنتا ہے۔

تاہم، نشاۃ ثانیہ کے دور میں جب انسان المیے کا مرکز بنا، تو یہ صنف شاہی اور مقدس کرداروں سے نکل کر عام انسان کے تجربات کی عکاس بن گئی۔ اس تبدیلی میں سب سے نمایاں نام ولیم شیکسپیئر کا ہے۔ شیکسپیئر نے اپنے المیہ ڈراموں میں ایسے کرداروں کو پیش کیا جو اگرچہ با اختیار تھے، مگر ان کی انسانی کمزوریاں، جذباتی پیچیدگیاں، اور داخلی کشمکش نمایاں تھیں۔ شیکسپیئر کے ہاں المیہ صرف اشرافیہ یا دیوتا صفت انسانوں کا نہیں بلکہ عام انسانی دکھوں اور تضادات کا بھی ہے۔

تاہم المیے کی یہ ادبی روایت، جو ابتدا میں یونانی ہیروز کے عروج و زوال سے جڑی تھی اور بعد ازاں شیکسپیئر کے ہاں عام انسانی کمزوریوں اور داخلی کشمکشوں تک آ پہنچی، آج کے عہد میں ایک نئی صورت اختیار کر چکی ہے۔ بالخصوص سرمایہ دارانہ نظام میں المیہ اب بھی کسی نہ کسی طور ”بڑے آدمی“ کا المیہ ہی رہ گیا ہے۔ ہمارے معاشرتی اور سیاسی نظام میں عام انسان کے دکھ کو وہ مقام حاصل نہیں جو کسی با اثر شخصیت کے دکھ کو دیا جاتا ہے۔ سوات جیسے سانحات محض اعداد و شمار میں درج ہو کر رہ جاتے ہیں۔ نہ تو ایسے واقعات پر سنجیدہ تحقیقات کرائی جاتی ہیں اور نہ ہی اس کو اخلاقی یا اجتماعی المیہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ المیہ گویا صرف اس وقت المیہ بنتا ہے جب وہ کسی اہم فرد، مقتدر طبقے یا اشرافیہ سے جڑا ہو۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے سماجی شعور میں عام آدمی کا دکھ، دکھ ہی نہیں رہا۔

تحریکِ انصاف نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف احتجاج کی منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ کی موجودگی میں عوامی نمائندے احتجاج کو موثر اور کامیاب بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کر رہے تھے۔ ماحول گرم تھا، چہروں پر سنجیدگی تھی اور زبانیں دعووں سے لبریز۔

اچانک ایک خاموش بیٹھے عوامی درد رکھنے والے رکن نے لب کھولے! جناب آج بھی بارہ لوگ دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ ہمارے پچھلے احتجاج میں بھی کچھ جانیں چلی جاتیں تو شاید خان صاحب رہا ہو چکے ہوتے۔ جی، وہی خان صاحب، جنہوں نے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کا خواب دیکھا تھا۔

سرمایہ دارانہ نظام میں وسائل صرف بڑوں کے لیے مختص ہوتے ہیں۔ چاہے چترال میں علیمہ خان کسی مصیبت میں ہوں یا مری میں شریف خاندان کے ناشتے کا بندوبست کرنا ہو۔ البتہ، جیسے ہی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے، فوری طور پر چند ہیلی کاپٹر، میڈیا ٹیم سمیت، تعزیت کے لیے روانہ کر دیے جاتے ہیں۔ اور پھر سیالکوٹ یا کہیں اور، کچھ لوگ ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ دیکھیں، یہ ہوتے ہیں عوامی نمائندے۔ جو عوام کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں۔

پھر ان نمائندوں کے ہمدردی سے لبریز آنسو صبح سویرے تمام نیوز چینلز اور اخبارات کی سرخیاں بن جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS