سندھ کے اضلاع میں تعلیمی شرح اور تعلیمی گورننس
حال ہی میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی جانب سے سندھ سے متعلق تعلیمی رپورٹ نہایت چونکا دینے والی آئی ہے، مگر افسوس کہ سندھ کے عوام نے اس پر کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ رپورٹ میں سندھ کے تمام اضلاع کی تعلیمی شرح بتائی گئی ہے، جن میں سب سے زیادہ پسماندہ ضلع سجاول سامنے آیا ہے، جہاں 78 فیصد لوگ ناخواندہ ہیں۔ سجاول کی کل آبادی تقریباً آٹھ لاکھ پچاس ہزار ہے، یعنی تقریباً چھ لاکھ پچاس ہزار افراد ناخواندہ ہیں۔ اسی طرح ضلع تھرپارکر میں شرح خواندگی 26 فیصد ہے اور اس کی کل آبادی تقریباً سولہ لاکھ پچاس ہزار ہے، جن میں سے تقریباً گیارہ لاکھ افراد ناخواندہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہر ضلع کی تعلیمی شرح بتائی گئی ہے، جن میں سب سے زیادہ شرح ضلع کراچی ایسٹ کی ہے، جو 88 فیصد ہے۔ کبھی تعلیمی لحاظ سے عروج پر رہنے والے شکارپور کی شرح خواندگی اب صرف 28 فیصد رہ گئی ہے۔ شکارپور کو کبھی سندھ کا پیرس کہا جاتا تھا، مگر آج اس کی تیرہ لاکھ پچاس ہزار کی آبادی میں تقریباً دس لاکھ لوگ ناخواندہ ہیں۔ جبکہ ملیر کی شرح خواندگی 72 فیصد ہے۔
کراچی کو چھوڑ کر سندھ کے کسی بھی ضلع میں 60 فیصد سے زیادہ افراد تعلیم یافتہ نہیں ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سندھ کی تعلیمی صورتحال کتنی ابتر ہے۔ سکھر اور لاڑکانہ کی شرح 58 فیصد ہے، جبکہ صدرِ پاکستان کے ضلع بینظیر آباد کی شرح 52 فیصد ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ضلع دادو کی شرح 47 فیصد اور وزیر تعلیم سردار شاہ کے ضلع عمرکوٹ کی شرح 38 فیصد ہے۔
حیرت انگیز طور پر سندھ کا بدامنی کے حوالے سے مشہور ضلع کشمور 53 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ بہتر پوزیشن پر ہے۔ سابق وزرائے اعلیٰ قائم علی شاہ اور غوث علی شاہ کے ضلع خیرپور کی شرح 50 فیصد ہے۔
اگر ہم اس تعلیمی صورتحال کا تجزیہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ سندھ کی تقریباً 99.9 فیصد ناخواندہ آبادی پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتی ہے، جبکہ پڑھے لکھے افراد دن بھر پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہیں۔ اگر اس پہلو سے دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کی کارکردگی گزشتہ پندرہ سالوں میں بہترین رہی ہے کیونکہ اس نے اپنے ووٹرز میں کم از کم 30 فیصد اضافہ کیا ہے۔ ان تمام اضلاع میں جہاں شرح خواندگی کم ہے، وہاں پیپلز پارٹی کو ہرانا اب تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ پیپلز پارٹی اپنے نئے بیانیے اور عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے سبب ہر الیکشن میں مزید ووٹ حاصل کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔
ذرا سوچیں، اگر پورے سندھ میں 98 فیصد لوگ تعلیم یافتہ ہوتے تو کیا کوئی سرکاری ٹھیکیدار یہ کہنے کی جرات کرتا کہ ہر ٹھیکے کی 60 فیصد رقم اوپر دینی پڑتی ہے اور باقی 40 فیصد میں وہ اپنا فائدہ نکال کر کام کرتا ہے؟ ایسا نظام صرف جاہل معاشروں میں ہی چل سکتا ہے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق، گزشتہ پندرہ سالوں میں پنجاب میں شرح خواندگی 66 فیصد سے بڑھ کر 78 فیصد تک پہنچی ہے، جبکہ سندھ میں یہ شرح صرف 58 سے 59 فیصد تک ہی پہنچ سکی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جو لوگ کام کرتے ہیں، وہ کم بولتے ہیں اور زیادہ عمل کرتے ہیں، لیکن سندھ کی تعلیم سے وابستہ افسران صرف دعوے کرتے ہیں، جبکہ زمینی حقائق بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ 2025۔ 26 کے بجٹ میں تعلیم کے لیے 18 فیصد اضافہ کر کے 613.36 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 89 ارب روپے ترقیاتی بجٹ کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اگر 30 اضلاع میں 2، 2 ارب روپے دے کر اسکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں، مگر مجھے یقین ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔ 2026 میں بھی صورتحال جوں کی توں رہے گی اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جائیں گی۔ یہاں بجٹ تو ضرور رکھا جاتا ہے، مگر اس کا 20 فیصد بھی بہتر انداز میں بنیادی سہولیات پر خرچ نہیں ہوتا، اور افسوس کہ کوئی بھی اس پر آواز اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
ڈیجیٹل لرننگ کا بجٹ 3 ارب سے بڑھا کر 19 ارب کر دیا گیا ہے، مگر سندھ میں نہ تو کوئی ڈیجیٹل ادارے ہیں، نہ ہی کوئی ڈیجیٹل لرننگ پروگرام موجود ہے۔ ٹیچ فار ورلڈ فاؤنڈیشن اگرچہ کچھ کام کر رہی ہے، مگر سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اسکولوں میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ ڈیجیٹل تعلیم دے سکیں۔ وہ تو اساتذہ کو بمشکل 15 سے 20 ہزار روپے تنخواہ دیتے ہیں۔ اگر ڈیجیٹل پروفیشنلز کی ضرورت ہو تو انہیں بڑی تنخواہیں دینی پڑیں گی۔
اس کے علاوہ سندھ کے دیہی علاقوں میں 70 فیصد جگہوں پر انٹرنیٹ کی سہولت ہی موجود نہیں۔ لیکن کراچی میں بیٹھے لوگ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ پورے سندھ میں چلتا ہے۔ ہم جو فیلڈ میں کام کرنے والے لوگ ہیں، ہمیں روزانہ یہ احساس ہوتا ہے کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ موجود ہی نہیں۔ موبائل ڈیٹا صرف ان جگہوں پر کام کرتا ہے جہاں ٹاور نزدیک ہو۔ تھوڑے فاصلے پر انٹرنیٹ کام نہیں کرتا۔ دیہات میں 20۔ 20 گھنٹے بجلی نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے سگنلز نہیں آتے، اور ٹاور کمپنیوں کے پاس بھی متبادل بجلی کا بندوبست موجود نہیں ہوتا۔
میں حال ہی میں ایک فیلڈ وزٹ پر گیا، جہاں ٹاور تو موجود تھا، مگر جنریٹر نہیں تھا۔ لوگوں نے کہا کہ صاحب، جب بجلی آتی ہے تو سگنل آتے ہیں، ورنہ انٹرنیٹ نہیں آتا۔ میں کوئی ٹیکنیکل پروفیشنل نہیں ہوں، یہ بات مجھے گاؤں کے لوگوں نے بتائی۔ ایسی صورتحال میں بھلا کیا ڈیجیٹل تعلیم دی جا سکتی ہے؟
یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ کہا گیا تھا کہ اسکولوں میں میوزک ٹیچرز رکھے جائیں گے، اور کچھ کو تقرری کے آرڈرز بھی دیے گئے، تصاویر بنوائی گئیں، تعریفیں کی گئیں، مگر ان میوزک ٹیچرز کو کبھی پوسٹنگ آرڈر ہی نہیں دیے گئے، کیونکہ گراؤنڈ پر نہ کوئی کلاس روم تھا نہ ہی کوئی جگہ جہاں میوزک کی تعلیم دی جا سکے۔ اسی طرح اس وقت شہری علاقوں کے علاوہ دیہی سندھ میں کہیں بھی ڈیجیٹل تعلیم دینے کے لیے نہ انفراسٹرکچر موجود ہے، نہ اساتذہ موجود ہیں، لیکن بجٹ کو 19 ارب کر دیا گیا ہے۔
میں نے خود وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سے سنا ہے، وہ کہتے ہیں کہ تعلیم کے لیے جتنا بجٹ چاہیے، میں دینے کو تیار ہوں۔ مگر یہاں مسئلہ بجٹ کا نہیں، تعلیمی گورننس کا ہے، اور اس پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔
حال ہی میں کالج ایجوکیشن میں ایک اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس میں کروڑوں روپے کی ٹریننگ کے لیے بجٹ رکھا گیا، مگر اساتذہ کو کوئی تربیت نہیں دی گئی، پیسہ ہضم کر لیا گیا۔ خبر یہ ہے کہ اس منصوبے میں من پسند افراد کو رکھا گیا تاکہ کوئی تربیت نہ ہو، لیکن خرچ دکھا دیا جائے۔
ذرائع کے مطابق، ریفارم سپورٹ یونٹ میں اساتذہ کی تربیت انجینئرنگ فرم سے کروائی جاتی ہے تاکہ من پسند ٹھیکیداروں سے کمیشن لیا جا سکے۔ زیادہ تر منصوبوں میں دوست اور جاننے والے رکھے جاتے ہیں، اب ان کی مرضی کہ کام کریں یا نہ کریں۔
اب کہا جا رہا ہے کہ ہیڈ ماسٹرز کو اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ اپنے اسکول بہتر کر سکیں۔ مگر وہ ہیڈ ماسٹر جو صرف سینیارٹی پر پروموٹ ہوا ہو، اسے کیا معلوم کہ ایجوکیشن یا فنانشل مینجمنٹ کیا ہوتی ہے؟ ان سے پوچھیں تو وہ مینجمنٹ کی تعریف تک نہیں بتا سکتے۔ اب انہیں اسکول کا بجٹ اور اختیارات دیے جا رہے ہیں کہ وہ تبدیلی لائیں۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ایس ایم سی کے فنڈز بھی استعمال کرنے کے قابل نہیں۔ کئی اسکولوں کے ایس ایم سی کے لاکھوں روپے پڑے ہیں، مگر ہیڈ ماسٹر انہیں استعمال کرنے کی ہمت نہیں رکھتے، تو اضافی بجٹ کیسے استعمال کریں گے؟ ایسے ہیڈ ماسٹرز کیا بہتری لا سکیں گے؟
تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہیڈ ماسٹرز کو یہ تربیت دی جائے کہ کون سا استاد کون سا مضمون بہتر پڑھا سکتا ہے، اور جو اساتذہ پڑھا رہے ہیں، ان کا اندازِ تدریس کیسا ہے، کیا بچے انہیں سمجھ بھی رہے ہیں یا نہیں؟ اس کے علاوہ اسکولوں میں بنیادی سہولیات دی جائیں، جن میں صاف پانی، بیٹھنے کے لیے کرسیاں، واش روم، اور بچوں کے لیے مناسب کلاس رومز شامل ہوں۔
اسکولوں کی صفائی کا بھی مناسب بندوبست کیا جائے، اور یہ صفائی بچوں سے ہرگز نہ کروائی جائے۔ اکثر اسکولوں میں معصوم بچے تیار ہو کر آتے ہیں، مگر اسکول میں صفائی کرواتے ہوئے مٹی میں لت پت ہو جاتے ہیں۔ بینچیں اور فرنیچر اٹھانا بچوں کا کام نہیں، مگر اکثر اسکولوں میں معصوم بچے اپنے وزن سے زیادہ وزنی بینچیں اٹھاتے ہیں۔ جہاں چوکیدار یا نائب قاصد موجود ہیں، وہاں بھی وہ صرف حاضری پوری کرتے ہیں، صفائی اور فرنیچر کا کام بچوں سے لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بچے اسکول چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔
تعلیم کی وزارت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی گورننس کو بہتر بنائے تاکہ سندھ کی تعلیم بہتر ہو سکے۔ جب تک تعلیمی شعبے کی گورننس بہتر نہیں ہوگی، سندھ کی تعلیم میں کوئی بہتری ممکن نہیں۔


