اولڈ ایج ہوم کے مسائل کا ممکنہ حل؟


ہم جب عمر بھر کی تھکان لیے ایک ایسی عمر میں داخل ہو جاتے ہیں جس کے لیے ہم نے سوچ رکھا ہوتا ہے کہ اس عمر میں کوئی کام دھندا نہیں کوئی فکر و فاقہ نہیں۔ اولاد اپنے پیروں پر کھڑی ہے (خودکفیل ہے ) سب اپنی اپنی زندگیوں میں خوش ہیں۔ تو ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمیں اس عمر میں جی بھر کے جینا چاہیے لیکن ایسے میں اگر پارٹنر ساتھ چھوڑ جائے، جوان اولاد اپنی زندگیوں میں ہماری جگہ نہ نکال پائے اور رہنے کو کسی مناسب جگہ کے متعلق سوچا جائے تو بہت سے ذہنوں میں اولڈ ایج ہوم کا خیال آتا ہے۔

اگر میں خود سے سوال کروں کہ کیا میں اولڈ ایج ہوم میں رہنا پسند کروں گی تو میرا فوری جواب ”نہ“ ہو گا۔

میں گھر کے نام پر کسی ادارے میں نہیں جانا چاہتی۔ وجہ سماجی یا ذاتی نہیں بلکہ نفسیاتی ہے۔ ہم سٹوڈنٹ لائف میں خود کو بندھا ہوا محسوس کرتے ہیں بھلے ہمارے تعلیمی ادارہ جات میں کیسے ہی تفریحی مواقع یا دوست و سہیلیاں کیوں نہ ہوں۔ کچھ ایسا ہی ہم اپنی ورک پلیس پر بھی محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ادارہ ہوتا ہے۔ اس کے اصول ہوتے ہیں کب آنا کب جانا کب نہیں جانا وغیرہ۔ گھر کے نام پر ہم کچھ ایسا چاہتے ہیں جہاں ہم آزادی سے رہ سکیں۔

تو اگر کوئی مجھے کہے کہ مجھے اپنی بچی کھچی ساری زندگی وہیں گزارنی ہے تو یہ بات میرے لیے نفسیاتی دھچکے سے کم نہ ہوگی۔

ہم بوڑھے ہوئے ہیں۔ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا جو کسی ایسے ادارے میں پھینکا جائے۔

کچھ ایسی ہی بات کہی ہے انڈین جنرل آف سائیکاٹری نے۔ لکھنو کے سات مختلف اولڈ ایج ہومز کی سروے رپورٹ کے مطابق وہاں کے بزرگوں کو سب سے زیادہ دماغی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اینزائٹی اور ڈپریشن جیسی چیزیں ان بزرگوں میں عام ملتی ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ مردوں میں شیزوفرینا تک کے کیسز رپورٹ کیے گئے۔

وجہ صاف ہے۔ سوشل آئسولیشن۔ سماج سے کٹ جانا، اپنے پیاروں سے دور چلے جانا، انھیں سال بھر میں کہیں ایک آدھ بار دیکھ پانا، عمر کے اس حصے میں جب نہ تو کام بچا ہے نہ ہی توانائی نہ ہی کوئی ایسی دلچسپی جو وقت گزاری کا باعث ہو تو ایسے میں اس ادارے نما عمارت میں اپنے ہی جیسے اکیلے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا قیدیوں یا سماجی مجرموں جیسا احساس ہے۔ گھر میں آپ اکیلے ہیں جو بیمار یا ناتواں ہیں۔ آپ کو ان بچوں اور جوانوں سے زندگی ملتی رہتی ہے جو بالکل تندرست ہیں۔ ہنستے مسکراتے ہیں۔ لیکن یہاں سب آپ جیسے ہیں۔ جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ ان سب بیماریوں اور نقاہت سے بھی گھرا ہوا محسوس کر رہے ہیں جو آپ کو لاحق نہ بھی ہوں آپ کے ساتھیوں کو لاحق ہیں۔

کیونکہ زندگی سے بھرے قہقہے جو جوان اولاد یا ان کی اولاد کے توسط سے سننے کو مل سکتے تھے۔ آپ سے بہت دور ہیں۔

یہاں ایک اور تلخ تصور کی طرف توجہ دلاتی چلوں کہ اولڈ ایج ہوم بھلے ہی آنے والے وقت کی ضرورت کیوں نہ ہو لیکن کہیں نہ کہیں ہم ذہنی طور پر اسے ایسے لوگوں کا مسکن تصور کرتے ہیں جو معاشرے کے لیے ناکارہ ہو گئے ہیں اور انھیں اب موت کا انتظار کرنا چاہیے۔

اگر ہم اس تصور سے نکل آئیں تو شاید اولڈ ایج ہوم سے جڑے ہمارے باقی تصورات بھی بدل جائیں یا شاید ہم اولڈ ایج ہوم کے نام پر کچھ ایسا بنا پائیں جو معاشرے کے لیے فائدہ مند بھی ہو اور ان بزرگوں کا یہ احساس بھی قائم رکھے کہ وہ ابھی بھی اس معاشرے میں رہنے کے لائق ایک مفید شہری ہیں۔

تو اس کا کیا حل ہے؟

پچھلے دنوں ایک نوناز نامی مووی پر ایک تبصرہ لکھا تھا۔ (یہ میری وال پر موجود ہے ) مجھے اس مووی میں موجود مرکزی خیال اس مسئلے کا ممکنہ حل معلوم ہوا۔

اولڈ ایج ہوم میں رہنے والے لوگ ساٹھ سے اسی سال تک کی عمر کے ہوتے ہیں اور ان کے پاس کوئی نہ کوئی مہارت ہوتی ہے۔ ہم ان کی ان مہارتوں سے فائدہ اٹھا کر ان کا یہ احساس قائم رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے معاشرے اور ہمارے لیے اہم ہیں۔

خواتین کوکنگ ایکسپرٹ ہوتی ہیں۔ نانیوں، دادیوں کے باتھ کا صاف ستھرا کھانا کون کھانا نہیں پسند کرے گا۔ اولڈ ایج ہوم کے ساتھ کھانے بنانے کے تربیتی مراکز قائم کیے جا سکتے ہیں جس کی آمدن ان خواتین کو دی جا سکتی ہے۔ یا کوئی ریسٹورنٹ کھولا جاسکتا ہے۔ مرد اپنی اپنی فیلڈ کے تجربوں کو نئے لوگوں سے شیئر کر کے خوشی محسوس کریں گے۔ اگر کسی سٹیڈیم میں کچھ ایسا انتظام کر دیا جائے کہ شام کے وقت کا کچھ حصہ وہ نوجوانوں کے ساتھ گزاریں گے۔ امید ہے جوان طبقہ ان بزرگوں کو آدھ گھنٹہ تو شوقیہ جھیل لے گا۔ ان کی کہانیاں نئے لوگوں کے لیے بہت کچھ سیکھنے کا سبب بن سکتی ہیں۔

یوں شاید اولڈ ایج ہوم۔ مہان لوگوں کا مسکن لگے، سوسائٹی کا سٹور روم نہ لگے۔

Facebook Comments HS