تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا ناول (14)

اخبار کی یہ نمایاں سرخی انہوں نے ایک مرتبہ پڑھی دوبارہ پڑھی اور اب سہ بار اس پر جھکے ہوئے تھے۔ تب انہوں نے اپنا سفید بالوں والا سر اٹھایا اور بوجھل آواز میں اس سے مخاطب ہوئے، جو یہ اخبار لے کر تھوڑی دیر قبل ان کے پاس آیا تھا اور اب چوک کے پاس کھڑا پریشانی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
”حیدر علی! عظیم قائد نے یہ کیسا حکم دے دیا ہے؟ ہم تعلیمی اور سماجی طور پر پسماندہ ضرور ہیں پر ہماری زبان وسیع علمی اثاثہ کی مالک ہے۔ اس کی موت تو بنگال کی تہذیب و ثقافت کی موت ہوگی۔“
اور وہ جو کونے میں چٹائی پر بیٹھا حساب کے سوال حل کر رہا تھا چونکا۔ اس کے دادو کی آواز میں شکستگی تھی اور وہ بہت دکھی نظر آ رہے تھے۔
”سوال تو یہ ہے بابا!“ حیدر علی کہہ رہا تھا کہ ”تعلیم جب صوبائی معاملہ ہے تو اُردو کو ملک بھر کی سرکاری زبان قرار دینا کسی طور بھی قرین مصلحت نہیں۔“
یہ خبر اسے بہت اہم محسوس ہوئی۔ سلیٹ اور کاپی وہیں چھوڑ، وہ ان دونوں کے قریب چلا آیا۔
تھوڑی دیر وہ انہیں سنتا رہا۔ اور جب حیدر علی چلا گیا تو اس نے اس نئے مسئلہ کے بارے میں پوچھا تب اسے معلوم ہوا کہ عظیم قائد نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے۔ ”اردو کو ملک بھر کی قومی زبان قرار دیا ہے۔“
اور اس ”قومی زبان“ کا مطلب جب اسے پوری طرح سمجھ میں آ گیا تو وہ واپس اپنی جگہ آ کر بیٹھ گیا۔ دادو تخت پر لیٹ گئے تھے۔ اس نے کتاب اٹھائی اور سوال حل کرنے کی کوشش کی۔ پر اس کا ذہن الجھ رہا تھا۔ ”ٹھیک تو کہتے ہیں دادو جب ہمارے پاس اپنی زبان ہے، تو ہم پر ایک نئی زبان لادنے کا فائدہ۔“
اس کی سوچ باغیانہ تھی۔
دادو کچھ زیادہ ہی مضطرب جان پڑتے تھے۔ تب ہی دو منٹ بعد اٹھ بیٹھے تھے۔ وہ مدھم آواز میں بڑ بڑا رہے تھے۔ اس نے غور سے سنا اور سمجھا۔
”تم اس قوم کے نجات دہندہ ہو جو صدیوں سے ظلم کی چکی میں پستی چلی آئی ہے۔ جس کی آواز اور رائے کا ہمیشہ گلا گھونٹا گیا ہے۔ پر تم سے ہمیں اس سلوک کی توقع نہ تھی۔ عروج کی طرف جاتی یہ زبان اب تمہاری بے اعتنائی سے ختم ہو جائے گی۔ آنے والی نسلیں نذرُالاسلام کو بھول جائیں گی۔ انہیں جسیم الدین یاد نہیں رہے گا۔ وہ ٹیگور کو نہیں پڑھ سکیں گے۔“
”دادو نے اس خبر سے گہرا غم کھایا ہے۔“ اس نے سوچا اور دوبارہ کام کی طرف متوجہ ہوا پر ذہن گڈ مڈ ہو رہا تھا۔ وہ باہر آ گیا۔
سورج ڈوب رہا تھا۔ باشاؤں سے نیلا نیلا دھواں اٹھ کر فضا میں گھُل رہا تھا۔ دھان کے ہرے بھرے کھیت لہلہاتے تھے۔ وہ جو انہیں یوں لہلاتا دیکھ کر اپنے من میں ہمیشہ ایک نئی امنگ محسوس کرتا، اس وقت اس حسن سے متاثر نظر آ رہا تھا۔ یہ سب اسے آج اچھا معلوم نہیں ہو رہا تھا۔
”اللہ میں کیسے اپنے دادو کا غم غلط کروں؟ اگر میرے بس میں ہو تو میں دنیا کے نظام کو اپنے دادو کی مرضی کے تابع کر دوں لیکن میں ہوں کیا؟ میری سمجھ بھی ابھی بہت چھوٹی ہے۔ دادو باتیں کرتے ہیں تو مجھے کتنی ہی باتیں جاننے کے لئے ان سے پوچھنا پڑتا ہے۔“
وہ یوں ہی خود سے باتیں کرتا کیلوں کے جھنڈ کے پاس آیا تو کتنے ہی گچھے لٹک رہے تھے۔
”لو! انہیں تو میں نے دیکھا ہی نہیں یہ تو پکانے والے ہو گئے ہیں۔ چلو اچھا ہوا پرسوں ہاٹ ہے۔ بیچ آؤں گا تو کچھ پیسے مل جائیں گے۔“
اور دھان بوتے کاٹتے، مچھلیاں پکڑتے، جال ٹوکریاں بناتے، دل جمعی سے کتابوں کو پڑھتے اور اس نئے ملک کی نئی نئی خبروں کو سنتے سنتے اس نے اپنے قدموں کو کچھ آگے بڑھا لیا تھا۔ اس کی ذہانت عمر کی حد کو کافی پیچھے چھوڑ گئی تھی۔ گفتگو میں جوشیلا پن عود آیا تھا۔ دادو کی کوئی بات بھی اس کے لئے ناقابل فہم نہ تھی۔ کسی خاموش تماشائی کی طرح باتیں سننے کے بجائے وہ اب ان سے اکثر مسائل پر الجھ پڑتا اور یہ خواہش کرتا کہ دادو اس کی بات کاٹنے کی بجائے اس سے اتفاق کریں۔
اور دادو کا وجود جسے وقت نے بڑی سنجیدگی دی تھی، اکثر کہتا۔
”تمہاری سوچ میں اعتدال کا فقدان ہے۔ یوں اس میں کچھ تمہارا بھی قصور نہیں، یہ عمر ہی ایسی ہے جس میں جذبات عقل پر چھائے رہتے ہیں۔“
تب وہ چڑ جاتا اور قدرے تیز آواز میں کہتا۔
”دادو آپ کیسی باتیں کرتے ہیں؟“
چیت کے یہ دن گرم تھے۔ باریسال کے اس سکول میں پھٹی پرانی بوری پر وہ ابھی آ کر بیٹھا تھا۔ جس کے چار پانچ کمرے اور ٹین کی ٹوٹی پھوٹی چھتوں والے برآمدے بلا کی گرمی میں دہک رہے تھے۔ اس نے اب مطمئن ہو کر پیشانی کو دھوتی کے پلو سے صاف کیا اور بستے میں سے ملگجا کاغذ نکال کر پڑھنے لگا۔
تقریر مکمل دہرائی گئی تو اسے وہاں گرمی کی شدت کا کچھ زیادہ احساس ہوا قمیض پسینے سے بھیگ گئی تھی۔ وہ اٹھ کر باہر آ گیا۔ اسکول میں یوں تو چھٹی ہو گئی تھی، پر لڑکے سبھی موجود تھے اور طلبا کے اس گروہ کے انتظار میں ادھر ادھر گھوم پھر کر وقت کاٹ رہے تھے جو بنگلہ کو قومی زبان بنانے کی تحریک کے سلسلے میں گزشتہ دن ڈھاکہ سے باریسال آیا تھا اور آج ایک بجے سکول آ رہا تھا۔
”اس بار یہ چیت کچھ زیادہ ہی گرم ہے۔“ اسوک کے درخت کی چھاؤں تلے کھڑے ہو کر اس نے سوچا۔
جلدی ہی طلبا کا گروہ آ گیا اور اس کے ساتھ ہی اسکول میں ہنگامہ شروع ہو گیا۔ جو شیلی تقریروں کا آغاز ہوا۔ آتشیں جذبات نے معصوم اور کم عمر لڑکوں کے چہروں کو تپا ڈالا تھا۔ ان سب کے بعد وہ آیا۔ اس کی آنکھیں اندرونی غضب سے کئی بار اُبلیں اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے لڑکوں نے محسوس کیا کہ یہ لڑکا جو ابھی چودہ پندرہ کے پیٹے میں ہے نذرُالاسلام کی ”ودروہی“ کی مکمل تفسیر ہے۔
یہ اس آگ کی طرح ہے جس کے شعلے جب چٹختے ہیں تو قیامت آجاتی ہے۔
اور پھر وہ ان سب کے درمیان گھرا کھڑا تھا۔ وہ اس کی تقریر سے بہت متاثر تھے خاص طور پر انہوں نے پوچھا تھا کہ اسے کس نے لکھا ہے۔ تب اس نے بہت فخر سے اپنے دادو کے متعلق بتایا۔
” جبھی تم میں اتنی کم عمری میں یہ صلاحیتیں موجود ہیں کیونکہ ایک تجربہ کار ہاتھ تمہیں سنوار رہا ہے۔“
ان سب نے یک زبان ہو کر کہا۔
جاری ہے۔
