ہمارے اساتذہ کی تذلیل اور ہائی پیشیا آف اسکندریہ کا قتل


چند واقعات ایسے بھی نظروں سے گزرے اور سماعتوں سے ٹکرائے، کہ کسی جامعہ میں شرپسند طلبہ نے پروفیسر حضرات کو زد و کوب کیا مارا پیٹا یا تشدد پر آمادہ ہوئے یا کبھی انفرادی طور پر کسی طالب علم نے طاقت کے نشے میں اپنے استاد کی تذلیل کی۔ مگر اب تو یہ عفریت جامعات اور کالجوں سے نکل کر اسکولوں کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ یعنی اساتذہ بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کے ہاتھوں تذلیل کا شکار ہو رہے ہیں استاد نا کلاس روم میں محفوظ ہیں نا کمرہ امتحان میں۔

گزشتہ ہفتے کراچی کے ایک نجی اسکول میں خاتون استاد کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی نے بے حد افسردہ کیا جبکہ رپورٹ کے مطابق واقعہ دس روز پرانا تھا جب بچی کے تاخیر سے اسکول حاضر ہونے پر معمولی سرزنش کی گئی تاہم بعد میں بچی کے والدین سے اسکول انتظامیہ اور کلاس ٹیچر نے معافی مانگ لی اور معاملہ ختم ہوا مگر واقعہ کے دس روز بعد 26 مئی کو بچی کا ماموں جو ایک معمولی پولیس اہلکار ہے بچی کے والدین کے ہمراہ اسلحہ کے زور پر اسکول میں داخل ہوا اور اسکول کے عملے اور اساتذہ کو دھمکیاں دیں ان کی تذلیل کی گئی اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا۔

ان سب واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب ہمارا معاشرہ زوال پذیر نہیں رہا بلکہ زوال پا چکا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ دونوں فریق قصور وار ہو سکتے ہیں مگر خاتون اساتذہ کی ایسی تذلیل ناقابل برداشت ہے آج کا استاد اپنے ہی شاگرد کے شر سے محفوظ نہیں۔ دکھ تو اس وقت دو آتشہ ہو گیا جب یہ خبر اخبار کی زینت بنی کہ عدالت نے تینوں ملزمان کی درخواست ضمانت محض بیس ہزار روپوں کے عوض منظور کرلی۔ یعنی پاکستانی معاشرے میں عدالت نے ایک استاد کی عزت کی قیمت محض بیس ہزار لگائی۔

ایک استاد کی اس تذلیل نے ہائی پیشیا کے دردناک قتل کی یاد تازہ کردی۔ یہ قتل یورپ کے تاریک دور کے آغاز سے ذرا پہلے کا واقعہ ہے جب یورپ اپنے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور علمی زوال کے ابتدائی مراحل میں تھا مگر دسویں صدی عیسوی آتے آتے یورپ اپنے تاریک دور سے نکلنے کے مراحل میں داخل چکا تھا اور ایک ہماری حالت ہے کہ ہم اکیسویں صدی میں جہالت کے اندھیروں کی گہرائیوں میں اتر چکے ہیں۔

ہائی پیشیا کون تھی؟ ہائی پیشیا ( 350۔ 415 ) وہ پانچویں صدی عیسوی کے اسکندریہ کی ایک روشن خیال فلسفی، ماہر فلکیات، ریاضی دان، معلمہ اور اسکندریہ کے رومی گورنر اوریٹس کی مشیر ہونے کی حیثیت سے سیاسی اثر و رسوخ کی حامل خاتون تھی۔ وہ غیر مسیحی اور نیوپلاٹونزم کے فلسفے کی پیروکار تھیں یہ ایک قدیم یونانی فلسفہ خاص کر افلاطون کا فلسفہ تھا جسے نئی شکل دی گئی تھی اور اس میں صوفیانہ اور روحانی عناصر شامل کیے گئے تھے جو ایک خدا کی وحدانیت اور روحانی دنیا کی اہمیت پر زور دیتا تھا یعنی وہ ایک خدا کو ماننے والی اس مکتب فکر کی ایک بڑی علمبردار اور استاد تھیں۔ اس وقت اسکندریہ میں کئی مذاہب اور فلسفے رائج تھے تاہم رومی سلطنت مسیحی مذاہب اختیار کر چکی تھی۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اسکندریہ کے بشپ سرل اور گورنر کے درمیان اقتدار طاقت اور اختیارات حاصل کرنے کی ایک کشمکش جاری تھی یہ دو طاقتور انسانوں کی لڑائی تھی، آگے چل کر جس میں نقصان ایک کمزور یعنی ہائی پیشیا کا ہوا۔

وہ بڑا فتنہ پرور دور تھا تنگ نظر مسیحی اور غیر مسیحی پیگن آبادی کے درمیان سیاسی سماجی اور ثقافتی برتری کی ایک لڑائی جاری تھی اور اکثر پر تشدد واقعات اسکندریہ کی سڑکوں پر نظر آتے اس تناظر میں ہائی پیشیا کے غیر معمولی طور پر ذہین اور با اکثر خاتون معلمہ تھیں جن کے لیکچرز میں تمام مذاہب کے شاگرد شامل رہتے۔ ان کی علمی صلاحیت اور مقبولیت سے کچھ انتہا پسند مذہبی عناصر خطرہ محسوس کرتے تھے بعض حلقوں کا خیال تھا کہ ایک عورت کا مردوں کو تعلیم دینا بائبل کی روایات کے خلاف ہے یہی وجہ تھی کہ وہ سیاسی اور مذہبی جنونیت کا شکار ہوئیں ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جنگیں اور لڑائیاں ہمیشہ طاقت اور اقتدار کے حصول کے لیے ہوتی ہیں اور مذہب اس میں ایندھن اور افرادی قوت فراہم کرتا ہے۔ اس دور کے اسکندریہ میں ماب وائلنس یعنی ہجوم کا تشدد ایک عام بات بن چکی تھی مذہبی رہنما اکثر اپنے پیروکاروں کو مخالفین کے خلاف اکساتے، ان سطور کو تحریر کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے اپنے ملک کے ہی حالات بیان کیے جا رہے ہیں۔

بشپ سرل اور کچھ انتہا پسند راہبوں نے ہائی پیشیا کے خلاف نفرت انگیز باتیں اور افواہیں پھیلائیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مارچ 415 عیسوی میں چرچ کے ایک پیٹر نامی لیکٹر یا قاری کی قیادت میں ایک مشتعل ہجوم نے ہائی پیشیا پر حملہ کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہیں رتھ کے پہیے سے باندھ کر گھسیٹا گیا بعد میں لاش کی باقیات کو آگ لگا دی گئی دوسری روایت کے مطابق انہیں رتھ سے اتار کے تذلیل کی گئی برہنہ کیا گیا جسم سے گوشت اتار لیا گیا اور جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے آگ لگا دی گئی۔ اس طرح کے قتل کی روایات آگے چل کر مزید پختہ ہوتی گئیں تاریخ کی کتابیں ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہیں جب مخالفین خاص کر پڑھی لکھی انٹیلکچوئل اور سوال کرنے والی عورتوں کو ارتداد یا جادو کرنے والی کہ کر آگ لگا دی گئی، بہرحال یہ بشپ سرل اور گورنر اوریٹس کے درمیان جاری کشمکش کا براہ راست نتیجہ تھا۔

مگر تاریخ دان اس قتل کو کلاسیکی علم کے زوال کا نام دیتے ہیں۔

شہر اسکندریہ طویل عرصے تک علم و دانش کا مرکز رہا جہاں مشہور کتب خانے اور تعلیمی ادارے موجود تھے ہائی پیشیا ان علمی روایات کی آخری علمبردار تھیں ان کا قتل علم آزادی فکر برداشت اور تحقیق و فلسفے کے خاتمے کا نقطہ آغاز قرار دیا جاتا ہے۔

ہمیں اس عدم برداشت ظلم و بربریت کے پس منظر کو جاننا بھی ضروری ہے۔

یروشلم کا رومی گورنر جس نے حضرت عیسٰی کی مصلوبیت کا حکم دیا وہ چھبیس عیسوی سے، چھتیس عیسوی تک جوڈیا یعنی یہودیہ کا حاکم رہا جس میں یروشلم کا شہر بھی شامل تھا۔ انجیل کے بیانات کے مطابق یہودی مذہبی رہنماؤں کے ایک ہجوم کے دباؤ میں آ کر گورنر نے حضرت مسیح کو مصلوب کیا۔

انجیل کی تشریحات مثلا، متی کی انجیل باب 27 : 25 پیلاطس (گورنر) کے سامنے یہودی ہجوم کا یہ کہنا کہ اس (مسیح) کا خون ہم پر اور ہماری اولاد پر ہو۔

یہ اور اس طرح کی اور تشریحات مسیحوں کی یہودی اور رومی دشمنی کا موجب بنی، پہلے پہل حضرت مسیح کے پیروکار یہودیوں اور رومیوں کے نشانے پر رہے ایک طاقتور اور تعداد والی جماعت کسی کمزور پر جتنے مظالم ڈھا سکتی ہے وہ مسیحوں پر ڈھائے جاتے رہے، مگر مسیحیت زیر زمین رہ کے رومی سلطنت میں بتدریج پھیلتی رہی اور بعد میں عالمگیر مذہب بن کر سامنے آئی۔

ابتدا میں قریب تینتیس عیسوی میں سینٹ پیٹر کی تبلیغ و تعلیمات سے یروشلم میں لوگوں نے عیسائیت قبول کی اور سینٹ پال نے یروشلم سے باہر کی دنیا کے تبلیغی سفر کیے تاہم رومی سلطنت میں یہ ہمیشہ مار کھاتے رہے یہاں تک کے چونسٹھ عیسوی میں شہنشاہ نیرو نے روم میں آگ لگا دی جس کا الزام محکوم عیسائیوں پر لگایا گیا اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ان کا قتل عام ہوا کہتے ہیں اس ہی قتل و غارت کے دوران سینٹ پیٹر اور پال بھی قتل ہوئے۔ دوسری اور تیسری صدی عیسوی میں یہ لوگ ریاستی ظلم و جبر کا شکار رہے۔

سرکاری قبولیت کے چند اہم واقعات

The Edict of Milan, 313ce

شہنشاہ قسطنطین اول نے ایک شاہی فرمان جاری کیا جس کی رو سے مسیحوں کو مذہبی آزادی دی گئی اور ان پر ہونے والے ظلم و جبر کا خاتمہ ہوا۔ اسی شہنشاہ نے بعد میں مسیحی ہو کر قسطنطنیہ کا شہر بسایا اور بازنطینی سلطنت قائم کی۔

Council of Nicaea , 325 ce

یہ اجلاس بھی قسطنطین نے بلایا جو اس وقت تک عیسائی نہیں ہوا تھا لیکن وہ سلطنت میں استحکام چاہتا تھا اس کو اندیشہ تھا کے مسیحوں کے آپسی اختلافات سلطنت کو کمزور کر سکتے ہیں۔ یعنی مقصد خالص سیاسی تھا۔

کچھ بنیادی مسائل جو اس کونسل میں حل کیے گئے ان میں آریوست نظریات کا رد سر فہرست ہے۔ آریوست اسکندریہ کا پادری تھا جو تعلیم دیا کرتا تھا کہ یسوع مسیح خدا کے بیٹے ہیں مگر خدا کے برابر نہیں بلکہ وہ خدا کی تخلیق کردہ ہستی ہیں یعنی ایک وقت تھا جب وہ نہیں تھے۔ کونسل نے ان نظریات کو سختی سے رد کیا اور بدعت قرار دیا جبکہ تثلیث کے عقیدے کی بھرپور حمایت اور سرپرستی کی یعنی کہ

مقدس باب بیٹا اور روح القدس تین خدا ہیں، جو ایک بھی ہیں۔

اس کے علاوہ ایسٹر کے دن کا تعین، کلیسائی قوانین کا نفاذ، نائیسین یعنی تثلیث کا فروغ اور دوسرے چھوٹے بڑے اختلافات کو دور کر کے مذہب میں یکسانیت لانا

380ce , Edict of Thessalonia.
یہ فرمان ایک سنگ میل ثابت ہوا جس میں
King Theodosius I,

نے عیسائیت کو رومی سلطنت کا ریاستی اور سرکاری مذہب قرار دیا۔ اس کے بعد عیسائیت کو مکمل حمایت اور سرکاری سرپرستی حاصل ہو گئی۔ اور قدرے سختی سے دوسرے مذاہب خاص طور پر قدیم یونانی اور رومی پیگن عقائد و نظریات کو کچلا گیا، دوسری عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانا دوسرے مذہبی عقائد رکھنے والوں سے سختی سے پیش آنا انہیں بدعتی کہنا اور تنگ کرنا یہاں سے تشدد کا عنصر عیسائی تعلیمات میں در آتا ہے جسے سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔

اب عیسائی طاقتور تھے اور غیر عیسائی نشانے پر۔
اب عیسائی تبلیغی مشن سلطنت کے کونے کونے میں روانہ ہوئے۔

اسکندریہ قدیم علوم و فنون کا بڑا اور آخری مرکز تھا جہاں قدیم یونانی اور رومی مذاہب کے ماننے والے اور قاتلین یسوع مسیح یعنی یہودیہ بڑی تعداد میں موجود تھے اس کے علاوہ اس شہر کی فضاؤں میں عجیب سحر تھا معلوم دنیا کے تمام فلسفی علم و ادب سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑے بڑے کتب خانے علمی و ادبی بحثیں یہیں ہوا کرتیں افلاطون اور ارسطو کے افکار و نظریات اس شہر میں گونج رہے تھے۔

اس کے ردعمل کے طور پر مصری کلیسا بے حد کٹر ثابت ہوا اور ابتدائی پانچویں صدی عیسوی میں عیسائیوں نے یہودی اور یونانی عقلیت پرستی دونوں کے خلاف محاذ گرم رکھا، یہودیوں کو تو قاتلین مسیح قرار دے کر آنے کا آنے والے دو ہزار سال تک سخت قتل عام جاری رکھا۔

ان حالات میں ہائی پیشیا جیسی ”مرتد“ کے قتل سے خوش ہو کر کلیسا نے بشپ سرل کو سینٹ کا درجہ دے دیا۔

جس طرح آج ہماری عدالت نے خاتون اساتذہ کی تذلیل کرنے والوں کو صرف بیس ہزار روپوں میں ضمانت منظور کرلی۔

نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کن مشکلات کا شکار ہوتے ہیں وہ بھی سب پر عیاں ہیں کم تنخواہ اضافی ذمہ داریاں اور کوئی جاب سکیورٹی نہیں، اس پر آپ کو تمام دن کھڑے رہنا ہے حد سے زیادہ تعداد میں بچے آپ کی ذمہ داری میں ہوتے ہیں امتحانی نتائج اور اسکول کی ساکھ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ کہتے ہیں وقت کی کوئی قیمت نہیں وقت انمول ہے قاتل مقتول کا وقت ہی تو لے جاتا ہے۔

ہمارے اساتذہ جو ہمیں اپنا وقت دیتے اپنا تجربہ ہمارے ساتھ بانٹنے ہیں اور ہمیں جینا سکھاتے ہیں جو ہمارے روحانی ماں باپ ہیں یقین کیجئے ہم ان کے وقت کی قیمت اپنی زندگی دے کر بھی ادا نہیں کر سکتے، اپنے استاد کی عزت کیجئے آپ کامیاب ہوجائیں گے۔

Facebook Comments HS