پختونخوا میں نئے تجربے کی تیاری


سابقہ فاٹا اور پختونخوا کے معاملات پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ خطہ ہمیشہ سے ملکی اشرافیہ کے لئے تجربہ گاہ رہی ہے۔ کوئی نیا قانون لاگو کرنا ہو، نئی پالیسی کے اثرات دیکھنے ہو، کسی ملک کے خلاف یا کسی کے حق میں اپنے ہی علاقے کو میدان جنگ بنانا ہو، تو پختونخوا اور سابقہ فاٹا حاضر ہے۔ کیونکہ انضمام سے پہلے اس خطے کا کوئی ولی وارث نہیں تھا۔ لیکن آج حیرت اس بات پر ہو رہی ہے کہ انضمام کے سات سال بعد ایک مرتبہ پھر کھلے عام وہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ جرگے کی بحالی کے نام پر پختونخوا اور سابقہ قبائلی اضلاع میں نئے تجربے کی تیاری ہو رہی ہے مگر جمہوریت کی دعویدار پیپلز پارٹی، قوم پرستی اور پختون نمائندگی کی دعویدار عوامی نیشنل پارٹی، 20 سال برابر حقوق کے لئے کام کرنے والی جماعت اسلامی، عوام میں شعور بیدار کرنے کی دعویدار تحریک انصاف سمیت سب سیاسی جماعتیں اور ان کی لیڈر شپ ایسی خاموش ہے جیسے سب کو سانپ نے سونگھ لیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ سے تو شکوہ کیا کہ پختونخوا میں ان کا سیاسی حیثیت ہے ہی کیا۔ چھوٹا منہ بڑی بات کے مصداق حکمرانوں سے چند سوالات البتہ کرنا چاہتا ہوں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد آئین کا کون سا دفعہ وزیر اعظم کو صوبائی معاملات میں مداخلت اور صوبائی قوانین میں ترمیم کے لئے کمیٹی بنانے کی اختیار دیتا ہے۔ اگر ان کو یہ اختیار نہیں جو یقیناً نہیں ہے تو پھر بات بات پر جذباتی ہو کر بندوق اٹھانے اور مرنے مارنے کی بات کرنے والا وزیر اعلی علی امین گنڈاپور شریف بچہ بنکر خاموش اور اس کمیٹی کا حصہ کیوں ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات اور فیصلوں کی موجودگی کے باوجود ( کہ ایک ملک میں نظام انصاف کے لئے دو طرح کے نظام نہیں چلائے جا سکتے ) یہ کیسے ممکن ہے کہ آئین میں ترمیم بھی نہ ہو سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بھی نظر انداز کیا جائے اور صوبائی قوانین کے ذریعے انضمام کو بے اثر بنایا جائے مگر چیف جسٹس عدلیہ اور تمام لائر کمیونٹی خاموش تماشائی بنی رہے۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ صرف سات سال پہلے جن لوگوں نے انضمام کے لئے دن رات ایک کر کے جدوجہد کی تھی عوام سے کچھ وعدے وعید کیے تھے۔ جن میں شہاب الدین خان سالارزئی، الحاج شاہ جی گل، اخونزادہ چٹان، ساجد حسین طوری، اعجاز مومند، نثار مومند، مولانا خانزیب، اقبال آفریدی، جنگریز خان، شاہ فیصل آفریدی اور راقم الحروف کے علاوہ کئی ایک طلباٗ رہنماٗ شامل تھے۔ آج انہیں سائڈ لائن کیا گیا ہے یا وہ خود مایوس ہو کر خاموش تماشائی بن گئے ہیں۔ ؟ لیکن ان سب کو یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ تاریخ اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے والوں کو یاد نہیں رکھتا ہے بلکہ منزل مقصود پر پہنچنے والے ہی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔

اور چوتھا سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب اگر اپنے کسی خفیہ ایجنڈے اور سیاسی مفادات کی بجائے واقعی دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں نظام انصاف اور عدلیہ ناکام ہو چکی ہے جس کا متبادل انہیں سابقہ فاٹا میں لاگو کرپٹ اور ظالمانہ جرگہ نظام دکھائی دیتا ہے تو پھر ملکی عوام کے وسیع تر مفاد میں اس جرگہ نظام کو پورے ملک میں لاگو کیا جائے۔ کیا آسان اور سستا انصاف صرف پشتون عوام کی ضرورت ہے؟ اگر ملک کے ساڑھے 23 کروڑ لوگ موجودہ عدلیہ کے ساتھ گزارہ کر سکتے ہیں تو 50 لاکھ قبائل کیوں نہیں؟

مسلم لیگ کے سربراہ جناب نواز شریف صاحب سے بھی گزارش ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلم لیگ کی حکومت نے انضمام کی صورت میں قبائلی عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اب اپنے ہی حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات کو تحفظ دینے اور بہتر بنانے کی بجائے اسے رول بیک کرنے اور نیا تجربہ کرنے کے نتائج تباہ کن ہوں گے جس کی ذمہ داری آپ پر ہوگی۔

اور آخر میں تمام سیاسی قائدین، سماجی و سیاسی کارکنوں، طلباٗ یونین کے عہدیداروں صحافیوں، وکلاٗ شاعروں ادیبوں اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے مخلص لوگوں سے مطالبہ ہے کہ آئین و قانون کی پاسداری کے لئے خاموش رہنے کی بجائے بروقت آگے آئیں اور اپنے آپ اپنی قوم اور اپنے خطے کو ایک اور ناکام تجربے سے بچانے میں اپنا کردار ادا کیجئے۔ ورنہ دوسروں کے مفادات کے لئے جنگ کا ایندھن بننے اور وقت کا پہیہ الٹا گھما کر اٹھارہویں صدی میں واپس جانے کے لئے تیار رہے۔

Facebook Comments HS