موت اور قیامت کے عمومی تصورات
اپنے گزشتہ مضمون میں ہم نے زندگی اور حیات ابدی پر طبع آزمائی کی مقدور بھر کوشش کی تھی۔ قارئین اور دوست احباب نے اس بارے بہت اچھا فیڈ بیک یا رائے سے بھی نوازا جو کہ ایک خاص یا علمی محبت کی علامت ہے۔ اپنی اس خاص محبت کی وجہ سے ہمارے بہت سے قارئین اور احباب نے ناچیز کو ایک عالم یا دانشور ٹائپ کی کوئی چیز سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ ہماری تمام احباب سے دست بستہ درخواست ہے کہ وہ اپنی اس خوش فہمی یا غلط فہمی کو درست فرماء لیں راقم ناچیز کا دانشوری سے دور دور تک کوئی تعلق واسطہ نہ ہے۔ ایک سیاسی کارکن ہونے کے ناتے راقم نے بہت سے علماء کا بہت سا وقت البتہ ضرور برباد کیا ہے۔ مضامین میں علمی تشنگی کی بھی بہت شکایتیں رہتی ہیں اس ضمن میں اتنا ہی عرض ہے کہ راقم کے پاس ذخیرہ الفاظ اور علم نہایت محدود ہے اور دوسری تکنیکی بات یہ ہے کہ ایک محدود کالم، مضمون یا بلاگ میں کتاب کا مزہ نہیں دیا جا سکتا۔ برائے مہربانی مہنگائی اور نظریاتی و علمی خلفشار کے اس دور میں اس تھوڑے کو بھی بہت سمجھا جائے۔
روز مرہ کی عام زندگی میں زندگی کا متضاد یا الٹ موت کو سمجھا جاتا ہے لہذٰا توازن کا تقاضا ہے کہ حیات ابدی کے بارے میں لکھنے کے بعد موت بارے بھی کچھ نہ کچھ ضرور لکھا جائے۔ زندگی کی طرح موت بھی ایک بڑا یا وسیع موضوع ہے مذاہب عالم، عالمی ادب، سائنس، میڈیکل سائنس میں موت کی کیفیات و اقسام پر شاید سینکڑوں زاویوں سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود بھی موضوع ابھی تک ایک معمہ یا ایک المیہ سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
ہم اپنے اس مضمون میں موت کے وسیع موضوع کو ”کائنات اور زندگی“ کے الگ الگ (Context) یا سیاق و سباق کے اندر احاطہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
ابھی تک کے انسانی علم کے مطابق زندگی کا وجود صرف اور صرف سیارہ زمین پر ہی موجود ہے۔ انسان سمیت کسی بھی جاندار کے اعضائے رئیسہ یعنی دل، دماغ، جگر اور گردے وغیرہ کے فیل ہو جانے سے جاندار کی حرکت اور سانس بند ہو جانے کو موت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ یہ اعضائے رئیسہ کسی چوٹ، حادثہ، بیماری یا ضعیف العمری کی وجہ سے فیل ہو سکتے ہیں۔
ادیان عالم میں زندگی اور موت کے معاملات میں روح اور کلبوت جیسی اصطلاحوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ عام طور پر زندگی کو روح اور کا لب یا جسم کے مجموعہ کو کہا جاتا ہے اگر کسی بھی وجہ سے روح کا لب سے الگ ہو جائے تو اس عمل کو موت کہا جاتا ہے۔ ادیان عالم کے مطابق جسم مادی و فانی جبکہ روح کو غیر مرئی اور ازلی و ابدی حقیقت خیال کیا جاتا ہے۔ ہندو مت میں روح کا ہم معنی لفظ ’آتما‘ مستعمل ہے۔ ہمارے ہاں روح کا لفظ عربی زبان سے آیا ہے۔ روح کا لفظی معانی ”ہوا کا جھونکا“ ہے۔ اس لحاظ سے روح سے مراد سانس سے بھی لی جا سکتی ہے یعنی سانس کے بند ہو جانے کو موت کہا جاسکتا ہے۔
ہمارے ایک پیارے دوست اپنے ہر عزیز کی وفات پر امریکہ کو لازمی گالیاں نکالتے ہیں۔ استفسار پر وہ بتاتے ہیں کہ سویت یونین کے سائنس دانوں نے تقریباً موت پر قابو پا لیا تھا لیکن سرد جنگ اور سویت یونین کی تحلیل سے ”حیات ابدی“ کا وہ شاندار منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا لہذٰا اب ہر ہونے والی موت کا ذمہ دار امریکہ یا سرمایہ داری ہے۔ اسی طرح ہمارے ایک اور استاد محترم موت کا ذکر چھڑتے ہی خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ موصوف چونکہ مالدار آدمی ہیں اس لیے ہمارا خیال ہے کہ وہ موت سے نہیں ڈرتے بلکہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان کے انتقال کی وجہ سے وہ ”محنت شاقہ“ سے جمع کیے گئے مال سے ناصرف محروم ہو جائیں گے بلکہ ان کے ورثا یا پسماندگان ان کی اجازت کے بغیر ہی ان کے مال کثیر کو بیدردی سے خرچ کریں گے۔ موت کے بعد اب انہوں نے نیند سے بھی ڈرنا شروع کر دیا ہے کہ کہیں ان کی نیند طویل ہی نہ ہو جائے حتیٰ کہ نیند کی گولیاں بھی اب جواب دے چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے حال پر رحم کرے۔
موت کا کائناتی تصور زندگی سے جڑے موت کے تصور سے تھوڑا مختلف ہے۔ عام فہم میں موت زندگی سے جڑی ہوئی چیز کا نام ہے مگر کائناتی تصور میں زندہ اجسام کے ساتھ ساتھ بے جان یا مادی اشیاء پر بھی موت واجب ہے۔ مثال کے طور پر انسان کی بنائی ہوئی کوئی بھی چیز ایک عرصہ بعد مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتی ہے، ندیاں اور دریا سوکھ جاتے ہیں، کائنات میں لاکھوں ستارے روزانہ کی بنیاد پر گل ہو جاتے ہیں اور لاکھوں نئے ستارے جنم لیتے ہیں۔ ہمارے پڑھے لکھے دوست اکثر کہتے ہیں کہ مادہ کبھی نہیں مرتا بس شکلیں بدل لیتا ہے۔ اصل میں مادے کا ایک شکل سے دوسری شکل میں بدل جانے کا نام ہی موت ہے۔ انسان اور دوسرے جاندار چونکہ مادے ہی کی پیداوار ہیں اور کائناتی اصولوں کے مطابق مادے نے کچھ عرصہ بعد اپنی شکل کو بدلنا ہی ہوتا ہے اسی لیے موت کو برحق مانا گیا۔
قیامت کا تصور زندگی سمیت تمام اجرام زمینی و فلکی کی موت یا فنا ہونے سے جڑا ہوا ہے۔ عام طور پر قیامت کے تصور کو مذہبی طور پر مانا اور جانا جاتا ہے۔ تقریباً تمام ہی ادیان عالم میں قیامت کے تصورات موجود ہیں۔ قدیم عہد نامہ کے مطابق کرہ ارض کی عمر محض 5,785 سال ہے جبکہ سمیری تہذیب کے عروج کے دور ( 6,500۔ 1,940 ) قبل مسیح کے دوران قیامت کے تصورات سائنسی بنیادوں پر ترویج پا چکے تھے۔ اس دور کے فلاسفہ نے دریافت کر لیا تھا کہ ہماری کائنات ایک حادثہ کی صورت وجود میں آئی ہے اور ایک حادثہ ہی سے اس کا خاتمہ ہو جائے گا اور وہ روز قیامت کا ہو گا۔ بعد میں ادیان عالم میں قیامت اور قیامت کے ممکنہ دن یا سال کی پیش گوئیاں شامل کی گئیں۔
ہم عام طور پر فلاسفی کو یونان سے شروع کر کے اور روم سے ہوتے ہوئے سیدھے جدید فلاسفی پر چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ استاد محترم جناب خالد محمود خان صاحب کی ریسرچ کے مطابق فلسفہ یونان سے قبل فلسفے کا سمیری یا میسوپوٹیمیا اور قدیم مصری فلسفہ کا ایک بھر پور دور بھی موجود تھا۔ فن تحریر یا روایت تحریر نہ ہونے کے سبب فلسفے کا یہ دور جدید انسانوں سے پوشیدہ رہا۔ فلسفے کے سمیری دور میں کائنات کے بنیادی اصولوں کی کھوج کر لی گئی تھی اور انہیں اصولوں کی روشنی میں قیامت کے تصور کو پیش کیا گیا۔ اس وقت کی تحقیق کے مطابق نظام شمسی میں خرابی، خلل یا فیل ہو جانے سے قیامت طاری ہو جائے گی لیکن انہوں نے کسی خاص وقت، دن یا سال کی کوئی ”گارنٹی“ نہیں دی تھی اور نہ ہی شاید ہو سکتی تھی۔
آج کا انسان چاند اور مریخ پر انسانی بستیاں بسانے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ مْقصد اور نیت شاید یہی ہے کہ اگر زمین پر زندگی کے لیے حالات ناگفتہ بہ ہو جائیں تو زندگی کو ان سیاروں پر محفوظ کر لیا جائے گا۔ زمانہ جدید کے عظیم فلسفی اور سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کی تحقیق اور تعلیمات سے راقم جو اخذ کر سکا وہ کچھ اس طرح سے ہے کہ قیامت کا مطلب محض ”زمین یا نظام شمسی کی تباہی نہیں بلکہ اپنی کھربوں کہکشاؤں سمیت پوری کائنات کی تباہی ہے“ انسان یا زندگی اگر کسی طرح نظام شمسی یا اپنی کہکشاں یعنی ملکی وے سے باہر کسی دوسری کہکشاں ’اینڈرو میڈا‘ یاکینس میجر پر پناہ لے بھی لے تو بھی قیامت سے کسی طرح بھی مفر ممکن نہیں۔ سٹیفن ہاکنگ نے البتہ آج کے انسانوں کو خوشخبری بھی دی ہے کہ قیامت برپاء ہونے میں ابھی کروڑوں سال باقی ہیں۔


