نجی اسکول اساتذہ کی کہانی۔ استاد یا غلام؟


دنیا بھر میں تدریس کو نہایت معزز، قابلِ احترام اور مقدس پیشہ سمجھا جاتا ہے۔ مختلف ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ کو نہ صرف بے پناہ عزت دی جاتی ہے بلکہ انہیں دیگر پیشوں کے مساوی اور بعض اوقات بلند تر مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ اساتذہ کو اعلیٰ تنخواہیں، پیشہ ورانہ مراعات، تربیتی مواقع، اور محفوظ ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ اساتذہ کے ساتھ عزت و وقار سے پیش آنا صرف اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ معاشرے کا اجتماعی رویہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں صورت حال اس کے برعکس ہے، یہاں نجی اسکول اساتذہ کو مراعات دینا تو دور کی بات، ان کے بنیادی انسانی اور پیشہ ورانہ حقوق بھی ان سے سلب کر لیے گئے ہیں۔ معاشی و ذہنی دباؤ کا شکار، نا انصافی پر مبنی تنخواہیں، نہ رخصت بیماری، نہ رخصت اتفاقی، نہ کوئی سالانہ انکریمنٹ، نہ میڈیکل الاؤنس یا کنوینس الاؤنس، نہ اوور ٹائم کی ادائیگی، صرف قلیل تنخواہ اور اس میں بھی ضمانتی رقم کے نام پر کٹوتی، نہ ختم ہونے والی تدریسی و غیر تدریسی ذمہ داریاں۔ ایک مزدور کی آمدنی سے بھی کم اور غلاموں جیسا سلوک، ناسازگار ماحول، استحصال اور بے عزتی، یہ ہے پاکستان کے نجی تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی تلخ حقیقت۔ اس استحصال اور نا انصافی کی فہرست بہت طویل ہے، جس کو ایک مضمون میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ تاہم ان میں سے چند نکات پر آج روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

المیہ صرف یہ نہیں کہ اساتذہ حقوق سے محروم ہیں، بلکہ ان اسکولوں میں اساتذہ کی تذلیل ہر وقت کا معمول ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر انھیں بے عزت کرنا، نہ صرف عملے کے سامنے یہاں تک کہ بچوں کے سامنے بھی، جس کا نتیجہ یہ کہ بچے بھی اساتذہ کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں۔ اب بے عزتی کرنے کا ایک نیا انداز متعارف ہوا ہے، جسے ”اسکول واٹس ایپ گروپ“ کہا جاتا ہے۔ ان گروپس کا مقصد رابطہ نہیں، بلکہ اساتذہ پر دباؤ ڈالنے، نگرانی کرنے، مائیکرو مینیجمنٹ اور ان کی تذلیل کرنے کا ہتھیار بن چکے ہیں۔

اساتذہ کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو فوراً گروپ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ پہلے دفتر، پھر اسٹاف روم اور آخر میں واٹس ایپ گروپ میں مزید سب کے سامنے شرمندہ کیا جاتا ہے۔ چھوٹی سی غلطی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور تذلیل کرنے کا بہانہ تلاش کرنا۔ اسی طرح، اساتذہ کے آنے کے وقت کو بھی گروپ میں شیئر کی جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جانے کے وقت سے کوئی سروکار نہیں، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مقصد تعلیم یا کارکردگی نہیں، بلکہ کنٹرول اور غلامی ہے۔

مزید یہ کہ اسکول پہلے ماہ کی تنخواہ ”ضمانتی رقم“ (سیکیورٹی ڈپازٹ ) کے نام پر رکھ لیتے ہیں یا تنخواہ میں سے ہر ماہ دس سے پندرہ فیصد کٹوتی کرتے ہیں، یہ رقم اس وقت تک کٹتی رہتی ہے، جب تک اصل تنخواہ کے برابر نہ ہو جا‎ئے۔ اس رقم کا مقصد یہ ہے کسی بھی صورت میں استاد اسکول چھوڑ کر نہ جا سکے، نہ کہیں نوکری تلاش کرے اور اگر استاد سے کوئی نقصان ہو جائے تو اس کو بھی اسی رقم سے پورا کیا جائے۔ مزید یہ رقم صرف اسی صورت میں واپس دی جا‎ئے گی، جب ایک یا دو ماہ پہلے استعفٰی دیا جا‎ئے، ورنہ یہ رقم ضبط کر لی جاتی ہے۔

ایک اور غیر منصفانہ پالیسی یہ ہے، کہ پیر اور جمعہ کی چھٹی کرنے پر اس دن کے ساتھ ساتھ ہفتہ و اتوار اور اگر اس ہفتے میں کوئی سرکاری تعطیل ہوتی ہے، تو اس کی تنخواہ بھی کٹے گی، یعنی استاد نہ پیر اور جمعہ کو بیمار ہو سکتا ہے، نہ اسے کوئی ایمرجنسی ہو سکتی ہے، نہ کوئی کام ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی ایمرجنسی یا بیماری ہونے سے پہلے، کام یا پریشانی آنے سے پہلے اس کو بتائیں کہ پیر اور جمعہ کو نہ آئیں ورنہ تقریباً پورے ہفتے کی تنخواہ کی کٹوتی ہوگی۔ چاہے پھر پورا ہفتہ آ کر اس ایک دن کی مکمل تلافی کر دیں، اضافی کام کر دیں، اضافی کلاسیں لے لیں، غرض کچھ بھی کر لیں، وہ کسی خاطر میں نہیں لیا جائے گا۔ اسے تو کبھی سراہا بھی نہیں جائے گا، مزید یہ کہ ہر آنے والی میٹنگ میں استاد پر طنز کیا جائے گا کہ وہ چھٹی جیسے عظیم گناہ کے مرتکب ہوئے۔

علاوہ ازیں، اسکولوں اکثریت نے نیا ”اصلاحی قدم“ اٹھایا ہے کہ اساتذہ کو کلاس میں بالکل بیٹھنے کی اجازت نہیں، حتیٰ کہ کچھ اسکولوں میں استاد کی کرسی کلاس میں ہوتی ہی نہیں ہے۔ یعنی تصور کریں کہ استاد یکے بعد دیگر کلاس لیتے اور مسلسل گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں، چاہے بیمار ہوں، تکلیف میں ہوں یا انسان ہونے کے ناتے اگر دو تین منٹ بیٹھنا چاہیں، تو اس کی اجازت نہیں۔

دس سے بارہ ہزار تنخواہ دینے والے یہ اسکول اپنے آپ کو خدا سے کم تصور نہیں کرتے۔ یہ تنخواہ پانچ سے چھ کلاسوں کی تدریس کے عوض دی جاتی ہے، ہر کلاس میں طلبہ کی تعداد عموماً چھبیس سے تیس کے درمیان ہوتی ہے۔ مستقل کام، صبح اسمبلی، بریک اور چھٹی کی ڈیوٹی اور دیگر کئی غیر تدریسی کام۔ اساتذہ کے لیے نہ ہی بریک، نہ اسکول کی طرف سے چائے، کیونکہ بریک میں وہ ڈیوٹی دیں گے، جس کے دوران کھانا پینا یا بات کرنا سختی سے منع ہے۔

اس کے علاوہ اساتذہ کو جو اضافی دن بلایا جاتا ہے، چھٹی کے دن، یا اوور ٹائم کروایا جاتا ہے، تو ان اضافی کاموں یا وقت کے لیے اضافی معاوضے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اس میں چائے یا کچھ ہلکی پھلکی سی تواضع بھی مہیا نہیں کی جاتی۔

بعض اسکولوں میں ملازمت کا کوئی تحریری معاہدہ دستخط نہیں کروایا جاتا، جو کہ نا صرف قانون کی خلاف ورزی بلکہ اس کی آڑ میں درحقیقت استحصال کیا جاتا ہے۔ نہ ہی استاد کے پاس کوئی ثبوت ہوتا ہے، کہ اس نے ادارے میں کام کیا، نہ کسی حق کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ انگنت کام لیے جاتے اور زبردستی چیزیں منوائی جاتی ہیں، یہ کہہ کر کہ یہ سب اسکول پالیسی کا حصہ ہیں۔ اور اگر تحریری معاہدہ ہو بھی تو اس کی شقیں ایسی ہوں گی، جیسے استاد کسی جگہ غلام بھرتی ہونے کا معاہدہ دستخط کر رہے ہیں۔

مثلاً، معاہدے کی چند شقیں درجہ ذیل ہیں :
o مہینے میں ایک بھی چھٹی کرنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی یہ قابلِ قبول ہے۔

o اسکول، استاد کو کسی بھی وقت نکالنے کا حق رکھتا ہے اور وجہ بتانے کا مجاز نہیں، لیکن استاد اسکول کو ایک یا دو ماہ کا نوٹس دے کر اسکول چھوڑ سکتے ہیں، ورنہ ضمانتی رقم اور تنخواہ اسکول ضبط کرنے کا حقدار ہے۔

o گرمیوں کی چھٹی کی تنخواہ صرف اسی صورت دی جائے گی، جب استاد کو ادارے میں ایک سال مکمل ہو جائے گا۔ یعنی ان دو ماہ میں کام مکمل لیا جائے گا، اسکول بھی بلایا جائے گا، مگر مفت میں تنخواہ نہیں دی جائے گی۔

o ایک دن لیٹ ہونے پراس دن کی 3 / 1 تنخواہ کاٹ لی جائے گی۔ ہر ماہ کے دو سنیچر کو اسکول آنا ہو گا اور چھٹی کی صورت میں اس دن کی اور اتوار کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔

o آدھے دن کی چھٹی لینے کی اجازت نہیں، لینے پر آدھے دن کی تنخواہ کٹے گی وغیرہ وغیرہ، یہ فہرست بہت لمبی ہے۔ یہ ان معاہدوں کی صرف ایک چھوٹی سی جھلک ہے۔ ہر اسکول کا اپنا قانون، پالیسی اور معاہدے، جو استادوں کا استحصال کرنے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہ قوانین کس قانون کے تحت بنائے گے ہیں؟ کس پالیسی کے مطابق نافذ ہیں؟ کچھ معلوم نہیں، اور یہ سوال پوچھنے والا ان سے کوئی نہیں۔

حکومت اور نجی اسکول ایسوسی ایشن سے گزارش ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی حالت زار پر توجہ دی جائے اور اس پر نظرِ ثانی کی جائے۔ موثر قانون سازی کی جائے تاکہ اس نا انصافی، استحصال اور اساتذہ کی تذلیل کے خلاف ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

اساتذہ ملک کے معمار ہیں، ان کے ساتھ ہونے والا یہ ناروا سلوک اب بند ہونا چاہیے۔ حکومت سے درخواست ہے کہ ان اقدامات پر فوری عمل کیا جائے، سب سے پہلے اساتذہ کی تنخواہیں کم از کم پینتیس ہزار روپے مقرر کی جائیں۔ بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ اساتذہ کی تنخواہیں طلبہ کی تعداد کے حساب سے مقرر کی جائیں، مثلاً اگر ایک استاد پچاس بچوں کو پڑھاتا ہے، تو ان بچوں کی فیسوں کا ایک مناسب حصہ استاد کا حق ہونا چاہیے۔

دوسرا یہ کہ اس نوعیت کے غیر منصفانہ معاہدوں کو ختم کیا جائے اور سرکاری و نجی اساتذہ کے معاہدے یکساں اور منصفانہ ہوں۔ ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں، جو ان اسکولوں کے غیر منصفانہ رویوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ اساتذہ کو رخصت بیماری، رخصت اتفاقی اور آدھے دن کی چھٹی۔ حقوق کے مطابق دی جا‎ئے، اوور ٹائم اور اضافی ایام کی مناسب ادائیگی کی جائے۔ اسکول کا ماحول اساتذہ کے لیے سازگار بنایا جائے، جو ان کی پیشہ ورانہ ترقی اور فلاح پر مبنی ہو، نہ کہ استحصال اور غلامی پر۔ ایسے تمام معاہدوں، پالیسیوں اور شقوں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ اساتذہ کو ذہنی و جذباتی سکون میسر ہو اور وہ اپنے فرائض پوری دلجمعی اور موثر انداز میں انجام دے سکیں۔

Facebook Comments HS