اجرک نمبر پلیٹ پر اعتراض کیوں؟ یہ ثقافت ہے، سیاست نہیں


سندھ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کہ صوبے میں گاڑیوں کی نئی نمبر پلیٹس پر اجرک کا ڈیزائن شامل کیا جائے، ایک خوش آئند قدم ہے۔ یہ نہ صرف سندھ کی قدیمی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی ہے بلکہ دنیا کے کئی مہذب معاشروں کی طرح، اپنی مقامی شناخت کو اجاگر کرنے کی ایک خوبصورت کوشش بھی ہے۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی یہ خبر سامنے آئی، خاص طور پر کراچی کے کچھ حلقوں نے اسے ”زبردستی کی ثقافت“ کا نام دے کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اجرک زبردستی ہے؟ کیا ثقافت کو زبردستی تھوپا جا سکتا ہے؟ یا پھر یہ تنقید صرف اس لیے ہو رہی ہے کہ بات سندھ کی شناخت سے جڑی ہوئی ہے؟

کراچی نہ صرف سندھ کا دارالحکومت ہے بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا، متنوع اور خوبصورت شہر بھی ہے۔ یہاں ہر زبان، ہر قوم اور ہر ثقافت کے لوگ آباد ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سندھ کی ثقافت کو دیوار سے لگا دیا جائے۔ اجرک، صرف ایک کپڑا نہیں، بلکہ صدیوں پرانی تہذیب کا نشان ہے۔ موہن جو دڑو سے لے کر آج تک، سندھی تہذیب میں اجرک کا مقام ایک مقدس اور قابلِ فخر علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے بین الاقوامی سطح پر بھی سندھ کی پہچان مانا جاتا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں علاقائی ثقافتوں کو ریاستی سطح پر اجاگر کیا جاتا ہے۔ بھارت کی ریاستیں، جرمنی کے صوبے، کینیڈا، چین، اور حتیٰ کہ امریکہ میں بھی ریاستی یا مقامی علامات کو گاڑیوں کی نمبر پلیٹس پر فخر سے لگایا جاتا ہے۔ پھر اگر سندھ حکومت اجرک کا نشان اپنی پلیٹس پر دے رہی ہے تو اس میں اعتراض کیسا؟

یہ اعتراض صرف ثقافتی جہالت کا نتیجہ ہے یا ایک مخصوص تعصب کا؟ ہمیں یہ بات سمجھنی ہو گی کہ سندھ صرف جغرافیہ نہیں، ایک تہذیب، ایک روح ہے۔ اگر آپ سندھ میں رہتے ہیں تو اس کی ثقافت بھی آپ کی پہچان کا حصہ ہے۔ چاہے آپ اردو بولتے ہوں، پنجابی ہوں، بلوچ ہوں یا مہاجر، اجرک کسی پر مسلط نہیں کی جا رہی، بلکہ سندھ کی محبت کا ایک اظہار ہے۔

ہمیں ایک ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جہاں ہر قوم، ہر ثقافت کو برابر کی عزت دی جائے۔ جہاں پنجابی کو اپنی دھرتی سے محبت کا حق ہو، بلوچ کو اپنے لباس پر فخر ہو، اور سندھی کو اپنی اجرک کو پہچان بنانے کی آزادی ہو۔

اجرک پر اعتراض کرنے سے پہلے، ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ کیا ہم ایک ایسی قوم بننا چاہتے ہیں جو اپنے ہی لوگوں کی ثقافت کو قبول نہ کرے؟ یا پھر ہم وہ پاکستان چاہتے ہیں جس میں وحدت تنوع میں ہو، اتحاد ثقافتی احترام میں ہو؟

لہٰذا، اجرک کو سیاسی مسئلہ بنانے کے بجائے، ہمیں اسے فخر سے اپنانا چاہیے۔ کیونکہ اجرک نہ صرف سندھ کی، بلکہ پاکستان کی عظمت کا نشان ہے .

Facebook Comments HS