بلاول کی پیش کش اور بھارت کی ہٹ دھرمی
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر بھارت کو بات چیت کی دعوت دی ہے۔ اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ’پاکستان دہشت گردی کے خلاف دنیا کی جنگ لڑ رہا ہے‘ کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف تاریخی، شاندار شراکت داری قائم کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔
اس تقریر میں بلاول بھٹو زرداری نے خاص طور سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے ان قربانیوں اور نقصانات کا ذکر کیا جو پاکستان کو برداشت کرنے پڑے ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے کبھی دہشت گردوں سے ہار نہیں مانی کیوں کہ ہم مقابلہ کر کے ان فسادی عناصر کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس کام میں بھارت کو شامل ہونے کی دعوت دی۔ پاکستان کے ایک ممتاز سیاسی لیڈر کی طرف سے یہ بامقصد پیش کش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مئی کی جنگی جھڑپوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور بھارت خاص طور سے اس کشیدگی کو کم کرنے کا ہر راستہ مسدود کرنا چاہتا ہے۔
بھارت نے گزشتہ ہفتے کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم کے مشترکہ اعلامیہ پر صرف اس لیے دستخط کرنے سے انکار کیا تھا کیوں کہ اس میں پہلگام سانحہ پر بھارت کا یک طرفہ موقف شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اب واشنگٹن میں امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت پر مشتمل گروپ کواڈ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں ضرور پہلگام سانحہ کی مذمت کی گئی ہے لیکن بھارتی وزیر خارجہ کی سرتوڑ کوشش کے باوجود اس میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے سے انکار کیا گیا ہے۔ اگر پہلگام کی مذمت کا معاملہ ہی بھارتی حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے تو اسے جان لینا چاہیے تھا کہ پاکستان نے اس سانحہ کی مذمت بھی کی تھی اور مرنے والے سیاحوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت بھی کیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستانی وزیر اعظم نے اس سانحہ کی غیر جانبدار تحقیقات کرا کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی پیش کش بھی کی تھی۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ایسی کسی بھی تحقیقات میں تعاون کرے گا۔
غیر جانبدار تحقیقات تو دور کی بات ہے، بھارتی حکام ابھی تک اس سانحہ کے بعد قومی سطح پر ہونے والی تحقیقات کی تفصیلات بھی سامنے لانے میں ناکام ہیں۔ اس طرز عمل سے نہ صرف پاکستان کا یہ شبہ تقویت پکڑ رہا ہے کہ اس سانحہ میں بھارتی ادارے ملوث تھے بلکہ عالمی طور سے بھی یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ جس سانحہ کو بنیاد بنا کر ایک خود مختار ملک پر حملہ کر کے ایک بڑے تصادم کو دعوت دی گئی، اس کی تحقیقات کے بارے میں تو بھارت خاموش ہے لیکن پاکستان پر الزام تراشی کے معاملہ میں پوری تندہی سے اقوام عالم کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ابھی تک بھارت کی ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوئی لیکن واضح ہو رہا ہے کہ نئی دہلی کی حکومت نہ تو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر آمادہ ہے اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ بھارت کے داخلی سیاسی حالات ہیں۔ نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی نے ہندو انتہا پسندی کے ایجنڈے پر سیاسی منشور استوار کیا ہے۔ اس ایجنڈے میں ایک طرف ملک میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا رجحان عام کیا گیا ہے تو دوسری طرف پاکستان کو دشمنی کی علامت بنایا گیا ہے۔ اس دشمنی کا جواز تلاش کرنے کے لیے پاکستان پر دہشت گردی کے بے بنیاد الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ ان الزامات کو اعتبار دینے کے لیے ہی بھارتی حکومت نے 7 مئی کو پاکستانی شہروں پر اچانک میزائل حملے کیے تھے اور پاکستان کے ساتھ ایک خطرناک جنگ کا خطرہ مول لیا تھا۔ یہ تو امریکہ کے علاوہ دیگر دوست ممالک کی کوششوں کی وجہ سے خطہ کسی بڑی جنگ سے محفوظ رہا لیکن اس کے باوجود بھارت نے الزام تراشی کی حکمت عملی ترک نہیں کی۔ بلکہ اب اس میں امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کا کریڈٹ لینے کے اعلان کو مسترد کرنے کا نکتہ بھی شامل کر لیا گیا ہے۔
پاکستان دشمنی کے علاوہ بھارتی پالیسی اس وقت دو نکات پر استوار ہے۔ ایک : کسی بھی ملک کو دہشت گردی کی صورت میں اس ملک پر حملہ کرنے کا اختیار ہے جس کے بارے میں اسے شبہ ہو کہ وہاں سے حملہ منظم کیا گیا تھا۔ بھارت اس ’اصول‘ کو بیان کرتے ہوئے درحقیقت کسی بھی عذر پر پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑنے کا آپشن کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ دوئم: پاک بھارت تعلقات میں کوئی تیسرا فریق ملوث نہیں ہو سکتا۔ ان کے درمیان جنگ ہو یا کشمیر و سندھ طاس معاہدہ کا معاملہ، دونوں ممالک اسے خود ہی حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے جب بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاک بھارت جنگ بند کرانے کی بات کرتے ہیں تو بھارتی حکام شدید تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں اور اسے کسی نہ کسی طرح سے تردد کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اس پر مستزاد یہ کہ اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کشمیر کا معاملہ طے کرانے کے لیے ثالثی کی پیش کش کرنے لگے ہیں۔ بھارت کو امریکی صدر کا یہ طرز عمل دشنام طرازی لگتی ہے۔ اسی لیے وہ سختی سے ایسی کسی ثالثی پر راضی نہیں ہوتا۔
دنیا نے جنگوں اور تنازعات سے نمٹنے کا ایک ہی حل تلاش کیا ہے۔ کہ متعلقہ فریقین آپس میں بات چیت کے ذریعے یا کسی ثالث کے واسطے سے مسائل پر بات کریں اور جنگ کی بجائے پرامن طریقے سے مسئلہ حل کرنے پر متفق ہوجائیں۔ اسی نظریہ کی بنیاد پر اقوام متحدہ قائم ہوئی تھی جہاں سلامتی کونسل دنیا بھر کے تنازعات پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بعض اوقات اسے کامیابی نصیب ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں ویٹو کی طاقت رکھنے والے کسی ملک کی وجہ سے یہ ادارہ ناکام رہتا ہے۔ ایسی صورت میں متاثرہ فریقین کسی دوسرے ملک کے تعاون سے کسی نتیجہ تک پہنچتے ہیں۔ کیوں کہ جنگیں نہ تو کسی مسئلہ کا حل ہیں اور نہ ہی انہیں تادیر جاری رکھا جاسکتا ہے۔ جدید اور مہلک ہتھیاروں کے زمانے میں اب جنگ جوئی کا خطرہ مول لینا نہایت پیچیدہ اور مشکل ہو چکا ہے۔
اس کی تازہ ترین مثال حالیہ ایران اسرائیل جنگ میں تلاش کی جا سکتی ہے۔ اس جنگ میں اسرائیل کو امریکہ کی غیر مشروط حمایت حاصل تھی حتی کہ آخری دنوں میں امریکی بمبار طیاروں نے اسرائیل کی مدد کے لیے ایرانی تنصیبات پر حملہ بھی کیا۔ لیکن اس کے بعد امریکہ کو ہی جنگ بندی کی کوشش کرنی پڑی۔ اگر ایران اسرائیل کی جنگ کو ختم کر کے مذاکرات کو ہی مناسب اور قابل عمل حل کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے تو پاک بھارت تنازعہ میں بات چیت سے انکار ناقابل فہم ہے۔ بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسے ایسی عسکری برتری حاصل نہیں ہے کہ وہ پاکستان کو جنگ کی دھمکی دے کر کوئی مقاصد حاصل کر لے۔ اس کا عملی مظاہرہ مئی کی مختصر اور افسوسناک جنگ کی صورت میں سب کے سامنے آ چکا ہے۔ اب بھارت زور دیتا ہے کہ اس نے تو پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی منظور کی تھی۔ اگر پاکستان کے کہنے پر ہی جنگ بند کرنا تھی تو اسے شروع کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بھارتی لیڈر ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ اس کے دلائل فرسودہ اور ناقابل قبول ہوچکے ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر میں اسے اپنی حکمت عملی کے لیے حمایت حاصل کرنا دشوار ہو رہا ہے۔
اب بھارت کسی بھی وقت پاکستان پر حملہ کا آپشن کھلا رکھ کر اور چوبیس کروڑ لوگوں کا پانی بند کر کے درحقیقت خود کو برتر پوزیشن کا حامل ملک قرار دینے کی کوشش کرنا چاہتا ہے۔ لیکن درحقیقت نریندر مودی یہ جنگ جویانہ رویہ مئی کی جنگ میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کی خفت مٹانے کے لیے اختیار کرتے ہیں تاکہ ملک میں سیاسی مقبولیت برقرار رکھنے کا اہتمام کیا جا سکے۔ لیکن بھارت کا یہ رویہ نہ صرف دنیا کو قبول نہیں ہے بلکہ خود بھارت کے مفادات کے خلاف ہے۔ بھارت اگر واقعی علاقے میں امن کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی حمایت سے دست کش ہو جائے تو اس کے لیے بات چیت ہی واحد آپشن ہے۔ جنگ کی دھمکیاں یا پانی بند کرنے کی کوشش اس خطے میں تباہی کو دعوت تو دے سکتی ہے، بھارت کو سکون یا چین فراہم نہیں کر سکتی۔ بلاول بھٹو زرداری نے جامع مذاکرات کی پیشکش کر کے درحقیقت موجودہ مشکل صورت حال میں بھارت کو فیس سیونگ اور مسائل حل کرنے کے لیے ایک معقول راستہ دینے کی کوشش کی ہے۔
بھارت کو جاننا چاہیے کہ مذاکرات کمزوری کی علامت نہیں ہوتے بلکہ بڑے اور خود اعتماد ملک کبھی بات چیت سے نہیں گھبراتے۔ وہ اسے طاقت کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت الزام تراشی کی سیاست چھوڑ کر خطے کے عوام کے مفاد میں بات چیت کا راستہ اپنائے۔ اگر مذاکرات کا دروازہ بند رکھا گیا تو امن بھی ہمیشہ دروازے کے باہر ہی کھڑا رہے گا۔


