نئے زمانوں میں وہی قصے پرانے
پورے ملک میں ٹک ٹاک ویڈیوز کے مزاحیہ اور پر لطف کونٹینٹ سے ماخوذ مواد کو معمولی تبدیلی کے ساتھ عملی جامہ پہنا کر جو سیاسی سرکس عوام کو دکھایا جا رہا ہے، اس کے ختم ہونے کے فی الحال کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔
کئی سالوں سے وہی روز کی باسی کہانیاں سن سن کر اور ایک جیسے سیاسی تماشے دیکھ دیکھ کر ہماری کئی نسلیں زمانۂ پیری میں داخل ہو چکیں، اور اب آنے والی نسلوں کو بھی سنانے کے لیے تاحال ہمارے بزرگانِ سیاست سے کوئی نئی کہانیاں نہیں گھڑی جا سکیں اس لئے تقریباً سبھی کو ہمارے یہاں سالوں سے پڑھی جانے والی کتاب یعنی مطالعہ پاکستان میں درج کہانیاں سینہ بہ سینہ یاد کرنے کے لئے کوئی اضافی محنت نہیں کرنا پڑتی، بلکہ سنتے سناتے، پڑھتے پڑھاتے یہ ہمیں از خود یاد ہو ہی جاتی ہیں۔ اور یہ سلسلہ ہمیشہ سے جاری و ساری ہے۔ یعنی ارباب اختیار و اقتدار کی وہی سالہا سال سے دہرائی جانے والی پرانی چالیں ہیں اور جانتے بوجھتے ان چالوں میں آنے والے سیدھی سادی معصوم قوم۔ ہمارے عوامی مزاج کی ترجمانی کے لئے ایک شعر کچھ اس طرح سے ہے۔
توبھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں
ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں
ہر ملک کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے اور اس تاریخ کی سچائی کو محفوظ رکھنے کے لئے محققین کے ساتھ ساتھ مختلف مصدقہ ذرائع بھی ہوتے ہیں جو بہت جان فشانی اور عرق ریزی سے مطالعے اور تحقیق کے عمل کو درست اور بہتر بناتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں اپنی درست تاریخ سے آگاہ رہیں اور کسی قسم کے جھوٹ اور من گھڑت افواہوں سے محفوظ رہیں۔ اور ہمارے پاس لے دے کے ایک ہی مصدقہ ذریعہ یعنی مطالعہ پاکستان ہی موجود ہے جس سے نہ صرف تاریخ پاکستان کو اخذ کرنا ہوتا ہے بلکہ اسی پر اکتفا بھی کرنا پڑتا ہے۔
زمانہ طالب علمی میں ہمیں مطالعہ پاکستان کی اہمیت سے اتنی زیادہ آگہی نہیں تھی پھر بھی ہم نے بفضل ربی 50 میں سے 48 نمبر حاصل کیے جس پر آج تک ہمیں خود بھی حیرت ہے کہ آخر یہ معجزہ کیونکر رونما ہوا، کہ پرچہ تو ہمارا واقعی بہت ہی اچھا گیا تھا مگر تھیوری مضمون سے اتنے اچھے نمبروں کی توقع تھوڑی کم ہی تھی خیر مطالعہ پاکستان سے ہماری انسیت اس واقعے کے بعد کچھ اور بھی بڑھ گئی۔ کیونکہ اس مضمون میں چھپی گہرائی ہمارے اوپر کافی بعد میں عیاں ہوئی کہ اس میں جو باتیں درج ہیں وہ سونے چاندی کے حروف سے لکھے جانے کے قابل اور مکمل طور پر سچائی پر مبنی ہیں تو ہم تھوڑی سی زیادہ محنت کر کے پچاس میں سے اگر پچاس نہیں، تو 49 ضرور سکور کر لیتے۔ کیونکہ حساب کے علاوہ باقی تمام مضامین کے بارے میں مشہور ہے کہ ان میں سو فیصد نمبر کبھی کسی سپر جینئس کے بھی نہیں آ سکتے، کہ تھیوری میں غلطی کا احتمال بہرحال موجود رہتا ہے، اس لئے اس میں نمبر بھی ضرور ہی کٹتے ہیں۔ بات ہو رہی تھی مطالعہ پاکستان کی کہ اس نصابی مضمون میں موجود جتنا بھی تاریخی اور حالیہ مواد شامل ہے وہ سب سو فیصد حقیقت ہے اور جو حال ہماری آنکھیں براہِ راست دیکھ رہی ہیں اور کان ڈائریکٹ سن رہے ہیں وہ بالکل جھوٹ اور نرا دھوکہ ہیں۔
مثال کے طور پر جب لوگ روزمرہ زندگیوں میں گروسری کے لئے بازاروں کا رخ کرتے ہیں جہاں مختلف اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہیں تو وہ خوامخواہ ہی حکومتوں پر تنقید کرنا شروع کر کے کفرانِ نعمت کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ انہیں گھر جا کر فوری تسکین کے لئے شربت یا ٹھنڈا پانی پینے کی بجائے مطالعہ پاکستان کے وہ صفحات کھول کے پڑھنے چاہئیں (دوسرے الفاظ میں گھول کے پینے چاہئیں ) جہاں ہماری قومی ترقی میں خواتین بشمول ہماری وزیر اعلیٰ پنجاب کا اہم کردار درج ہے، جو اتنا تیز رفتار ہے کہ محض کچھ مہینوں کے کار ہائے نمایاں درج کرانے کی خاطر کتاب میں ایک اضافی باب کو شامل کرنا پڑا۔
اور کیوں نہ کیا جاتا آخر ہماری معزز وزیر اعلیٰ وہی بہادر خاتون ہیں جو تین سال گزرنے کے باوجود عوام کو مفت بجلی مہیا کرنے کے وعدے پورے نہیں کر سکیں۔ یا لوگوں کے بل خود ادا کرنے کا قول نہیں نبھا سکیں، نوجوانوں کو روزگار میسر نہیں کر سکیں، مہنگائی کو ہنگامی بنیادوں پر کم نہیں کر سکیں، (ہنگامی بنیادوں پر مہنگائی میں اضافہ کرنا بھی تو آسان نہیں ہے ) مگر پھر بھی روزانہ تیار ہو کر کسی نہ کسی جگہ پر تقریر کرنے ضرور پہنچ جاتی ہیں۔
اس بار گرما میں ارباب اختیار کے ساتھ ساتھ شاید موسم بھی غریب عوام کی برداشت کا امتحان ہی لے رہا ہے۔
جھلستی گرمی میں محنت مزدوری کرنے کے بعد تھکے ہارے غریب محنت کش سفید پوش لوگ جب باہر سے گھر آتے ہیں تو اے سی تو بہت دور، پنکھا آن کرنے پر بھی گھر والے وہ سبق سناتے ہیں جو مطالعہ پاکستان میں درج اسباق سے بالکل مختلف ہوتے ہیں یعنی دو سو یونٹس سے زیادہ یونٹس چلائے گئے تو وہ بل آئے گا جو ادا کرنے کی سکت آپ کے اندر نہیں ہو گی۔
اس شدید گرمی اور حبس کے جان لیوا موسم میں بھی غریب عوام کے گھروں میں پینے کے لئے ٹھنڈا پانی نہیں اور بے چاروں کو اس خوف سے پنکھا آن کرنے کی آزادی نہیں ہے کہ یونٹس دو سو سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں کہ بل بہت زیادہ آئے گا۔ کیسے خوف اور اذیت میں مبتلا کر دیا گیا ہے قوم کو کہ جانوروں سے بھی ابتر حالات ہیں لوگوں کے، پینے کو صاف پانی نہیں، کھانے کو دو وقت کی روٹی بھی مشکل، دوائی و صحت کی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں اور اوپر سے بیروزگاری کا عذاب الگ، جس سے نمٹنے کے لیے بے چارے مڈل کلاس لوگ اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو پڑھانے لکھانے کے بعد خود سے دور دیار غیر میں بھیجنے پر مجبور ہو جاتے ہیں تاکہ ان کا مستقبل محفوظ ہو اور ان کی قابلیت اور تعلیم کے مطابق انہیں اچھا روزگار حاصل ہو سکے۔ اگر دیکھا جائے تو گزشتہ تین سالوں میں ہی ریکارڈ برین ڈرین ہوا ہے اور پڑھے لکھے نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد روزگار کے مواقع ڈھونڈنے کے لئے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئی ہے۔
لیکن یہاں پھر ہمیں مطالعہ پاکستان سے سبق کی ایک ڈوز لینی پڑے گی تاکہ ذہنی قابلیت کے اس انخلاء کے مثبت پہلو ( جو اب سے پہلے بعید از امکان تھے ) کا دامن ہاتھ سے بالکل ہی چھوٹنے نہ پائیں۔ کیونکہ ایک وقت تک یہ بھی ہماری کم سمجھی بلکہ نادانی تھی کہ ہم ہمیشہ یہی سمجھتے تھے کہ برین ڈرین کسی بھی ملک کی ترقی یا کامیابی کی ضمانت بالکل نہیں ہوتا اور ملک کے نوجوان اور ہنر مند افراد کی مستقل ہجرت کسی لحاظ سے بھی ایک بڑے نقصان سے کم نہیں ہوتی۔ کیونکہ ہم نے تو یہی پڑھا سنا تھا کہ نوجوانوں اور پڑھے لکھے افراد کی قابلیت پر سب سے پہلا حق ان کے اپنے ملک کا ہوتا ہے اور حکومت پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ان قابل اور ہنر مند افراد کی قابلیت کی قدر کرتے ہوئے ان کو با عزت اور اچھے روزگار ملک میں ہی مہیا کرے تاکہ برین ڈرین کے تیزی سے بڑھتے رجحان پہ قابو پایا جا سکے۔ مگر یہ عقدہ بھی ہم پر اس تین چار سال سے جاری حکومت کی مہربانی سے کھلا ہے کہ برین ڈرین معاشی ترقی کے لیے بہت اچھی چیز ہے مزید برآں ہمارے ان ذہین سیاست دانوں نے لگے ہاتھوں برین ڈرین کو Brain asset یعنی ”دماغی سرمایہ“ بھی قرار دے دیا اور یوں برین ڈرین کے بارے میں ہماری غلط فہمی کچھ کچھ دور ہوئی۔ ویسے لگے ہاتھوں حکومت وقت کو مطالعہ پاکستان میں برین ڈرین کی افادیت کے بارے میں ایک سیر حاصل مضمون چھاپ دینا چاہیے تاکہ والدین اپنے بچوں کو جب کمانے کے لئے اپنے سے میلوں دور بھیجیں تو اس وقت وہ یہ سبق ذہنوں میں دہرائیں اور اداس ہونے کی بجائے خوشی خوشی اپنے بچوں کی جدائی کا پتھر دل پر رکھ سکیں اور اپنے ملنے جلنے والوں کو اس روشن باب کے حوالے دے کر اور مثالوں سے سمجھا کر انہیں بھی اس کے حق میں قائل کر سکیں۔
جیسا کہ شدید گرمی کے بارے میں پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے۔ شاید اسی گرمی کا اثر کچھ لوگوں کے دماغوں پر بھی کافی زیادہ ہو گیا ہے جیسا کہ پچھلے دنوں غالباً شیخوپورہ کی کسی جگہ پر پیش آنے والے ایک واقعے کی ویڈیو نظر سے گزری جس میں ایک سیکیورٹی گارڈ بجلی کا بل درست کروانے کے لئے آئی ایک بزرگ خاتون کو انتہائی بد تہذیبی سے زمین پر سے گھسیٹ کر کمرے سے باہر لے گیا۔ یعنی وہ بیچاری بزرگ خاتون جو یقینی طور پر اس ملک کے ٹیکس ادا کرتی ہے اگر اپنے غلط بل کو درست کرانے کا گناہ کرانے آہی گئی تھی تو اس سیکورٹی گارڈ کی طرف سے بجائے رہنمائی اور مدد کے، اس سلوک کی مستحق ٹھہری۔ لیکن ان سب حقائق کے باوجود، بات پھر وہیں آ کے رک جاتی ہے کہ آنکھوں دیکھے سچ کو ہم جھٹلا سکتے ہیں مگر مطالعہ پاکستان میں درج اسباق کو غلط نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہمیں یہی پڑھایا گیا ہے کہ پیارے بچو! یہ سیکیورٹی گارڈ ہیں یا یہ پولیس کے سپاہی ہیں یہ ہماری جان و مال کا تحفظ کرتے ہیں اور ہمیں چوروں ڈاکوؤں سے بچاتے ہیں۔
ملک کے حالات جتنے نازک ہیں وہ سب کو دکھائی دے رہا ہے مگر اس موقع پر ہمیں وہ مہان صحافی اب دکھائی نہیں دیتے جو تین سال پہلے مہنگائی کے خلاف روزانہ کی بنیادوں پر ہنگامی پروگرام فرما رہے ہوتے تھے اور غصے سے بے قابو ہو کر مارکیٹ میں عوام الناس کی مزاج پرسی کے لئے نکل کھڑے ہوتے تھے۔ کبھی پیٹرول کی قیمتوں پر چلا چلا کر ہلکان ہوتے تھے تو کبھی بجلی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافوں نے انہیں بہت اداس اور زود رنج بنا دیا تھا۔ مہنگائی پر ان کی شعلہ بیانیاں سننے سے تعلق رکھتی تھیں، اب دیکھیے تو جیسے ملک میں دودھ شہد کی انہار بہہ رہی ہیں اور یہ صحافی خواتین و حضرات امن و شانتی کے پر سکون ماحول میں اے سی کی ٹھنڈک تلے ریشمی گاؤتکیوں سے ٹیک لگائے آرام سے بیٹھے ملکی تعمیر و ترقی کے نئے اسباق گھڑنے میں مگن ہیں کہ آخر کو مطالعہ پاکستان کے نصاب میں انہی مہان قلم کاروں کے قلم سے پھوٹنے والے توصیف و تعریف پہ مبنی روشن حروف پہ مشتمل داستانیں ہی تو درج ہونی ہیں جو اس ملک کے معماروں نے لفظ بہ لفظ یاد کرنے ہیں اور سینہ بہ سینہ منتقل کرنے ہیں۔


