بڑھاپے کی تنہائی اور ہمارے مشاغل


عرصہ قبل جب میری شادی بھی نہیں ہوئی تھی، میں مانچسٹر اپنے بھائی کے گھر پاکستان سے گھومنے کی غرض سے آئی تھی۔ ایک دن کسی اسٹور میں میرے برابر میں کھڑی ایک بہت بزرگ خاتون، غالباً اسی پچاسی سال عمر ہوگی، شیشے کے اندر رکھی جیولری دیکھ رہی تھیں۔ بڑھاپے سے کمزور اور کمر خمیدہ۔ وہ سرخ لباس میں ملبوس تھیں اور ان کے رخسار گلابی اور لبوں پہ لال رنگ کی لپ اسٹک تھی۔ اس وقت بحیثیت پاکستانی میرے لیے یہ کچھ حیرت کی بات تھی۔ کیونکہ ہماری ثقافت میں پچاس ساٹھ سالہ عورت بھی گہرے شوخ رنگوں سے اجتناب کرتی اور اپنے آپ کو بزرگانہ رویے کی پابند سمجھتی ہے۔ (گو اب صورتحال کچھ مختلف ہے ) نظریں ملیں تو حسب دستور میں نے انہیں ”ہیلو“ کہ دیا جو گویا ان خاتون کے لیے بے تھکان گفتگو کا پروانہ تھا۔ وہ مسلسل اپنے متعلق بولتی رہیں۔ اپنے مشکلات اور تنہائی وغیرہ وغیرہ۔ میری بھابی بمشکل ان کی گفتگو کے اس لامنتناہی کو منقطع کر کے مجھے دکان سے باہر لے گئیں۔ ”یہاں کے بوڑھے تنہائی کے مارے ہوتے ہیں اور اس تلاش میں ہوتے ہیں کہ کوئی ان کے دکھڑے سننے والا ملے۔“ اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ مشرق میں بھی ایسا وقت آنے کو ہے۔ خاندانی روابط اور مل جل کے رہنے اور ایک دوسرے کی خبر گیری کی روایات دم توڑ دیں گی۔

مشہور اداکارہ عائشہ خان کی دردناک موت اور سوشل میڈیا پہ ان کی اولادوں پہ لعن طعن نے مجھے اس پرانے واقعہ کی یاد دلائی اور یہ بھی احساس دلایا کہ دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی وقت بدل گیا ہے۔ گو لوگ عائشہ خان کی کسمپرسی کی موت کو بزرگوں کی تنہائی کا المیہ اور بچوں کی بے اعتنائی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ کوئی ان کے بچوں پہ لعن طعن کر رہا ہے کہ انہوں نے اس ماں کی پرواہ نہیں کی جس کے قدموں کے نیچے جنت ہوتی ہے۔ کسی کا خیال یہ ہے کہ مرنے سے پہلے اپنی جائیداد کو تقسیم کرنا ہی بچوں سے دوری کا سبب بنا اور اس طرح ہم میں سے اکثر بجائے اس کے کے خود اپنے مسائل پہ نظر ڈالیں، دوسروں کے معاملات میں کود کر ان پہ فیصلہ صادر کرنے مصروف ہیں۔ ویسے بھی اپنے گریبان میں جھانکنا مشکل اور دوسروں کی کمزوریوں کو اچھالنا کافی آسان کام ہوتا ہے۔

آج میں خود امریکہ میں رہتی ہوں جہاں اپارٹمنٹ بلڈنگ کے رہنے والے ایک دوسرے سے صرف ہیلو ہائے کی حد تک ہی آشنا ہوتے ہیں یا اکثر سے تو اتنا تعلق بھی نہیں ہوتا۔ سب اپنی اپنی دنیا میں مصروف اور خاصی حد تک پرائیویٹ زندگی گزارنے کے قائل اور عادی۔ ایسے میں مجھے پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والی بزرگ خواتین کا خیال آتا ہے جن کی ترجیحات خاندان کے ساتھ رہنا اور بزرگ ہونے کے ناتے اس بات کی توقع کہ ان کا خیال اسی طرح رکھا جائے جیسا کہ مشرقی روایات کا حصہ ہے۔ یہ لکھتے ہوئے مجھے اپنا ایک مضمون یاد آ رہا ہے جو عرصہ قبل امریکہ میں رہنے والے تنہائی اور بے توجہی کا شکار ایشین امیگرنٹ معمر افراد کے لیے سینئر سینٹرز اور نرسنگ ہومز کی ضرورت کے حوالے سے لکھا تھا۔ اس کے سلسلے میں میں نے پانچ معمر خواتین سے گفتگو کی تھی، جن کا تعلق پاکستان کے مختلف علاقوں سے تھا۔ پانچ میں سے چار خواتین نے واضح طور پہ اس بات کی اہمیت پہ زور دیا کہ ہمیں یہاں ایسے ادارے بنانے چاہئیں کہ جہاں اپنی یا ملتی جلتی ثقافت کے لوگ ہوں تاکہ سب مل بیٹھ کے مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیں اور بہتر زندگی جی سکیں۔ یہ ادارے دن و رات کے بھی ہو سکتے ہیں اور آدھے دن کے بھی۔ اگر معمر افراد کے لیے ایسے ادارے ہوں جہاں جنوبی ایشین ثقافت کے حامل افراد باہم ایسی سرگرمیاں کریں جو ان کو بقیہ زندگی کو معنی خیز گزرنے میں مصروف رکھیں تو یہ جذباتی کے بجائے زیادہ عملی قدم ہو گا۔

ویسے تنہائی تو کسی بھی عمر کے کسی فرد کو متاثر کر سکتی ہے۔ لیکن بزرگ، خاص کر پچھتر سال سے زائد عمر کے لوگ اکیلے پن اور سماجی تنہائی کا شکار زیادہ ہوتے ہیں اور یہ ان کی صحت پر سنگین اثر ڈال سکتا ہے۔

لیکن سچ تو یہ ہے کہ ملک میں ہوں یا نقل مکانی کے بعد بیرون ملک اب دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔ ہم سرعت رفتار صنعتی دور میں ہیں جس کے الگ تقاضے ہیں۔ بعض دفعہ تو آپ ایک چھت تلے بھرے پرے گھر میں اکیلا پن محسوس کرتے ہیں کہ کسی کے پاس آپ کی تنہائی ڈھونے کا وقت نہیں۔ ہمیں اپنی تنہائی سے نپٹنے کے لیے اپنی مصروفیات آپ ڈھونڈنی ہوں گی۔

تنہائی پر قابو پانے کے طریقے موجود ہیں، چاہے آپ اکیلے ہی رہتے ہوں اور باہر نکلنا مشکل ہو۔ بصورت دیگر ہم جسمانی عوارض جیسے دل کی بیماریاں، اسٹروک، مدافعت میں کمی، گرنے کا خدشہ، گٹھیا، ذیابیطس کے بڑھنے کے احتمال کے علاوہ ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں جیسے ڈپریشن اور انگزائیٹی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی، نسیان، اور اداسی اور مایوسی کی سوچیں گھیر لیتی ہیں۔ اور شعوری یا غیر شعوری طور پہ منفی سوچیں خودکشی پہ بھی مائل کر سکتی ہیں۔

لوگ مختلف وجوہات کی بناء پر سماجی طور پر الگ تھلگ ہو سکتے ہیں، جیسے کہ بوڑھا ہونا یا کمزور ہونا، کام سے سبکدوشی، شریک حیات اور دوستوں کی موت، یا معذوری یا بیماری کی وجہ سے۔ وجہ کچھ بھی ہو، اکیلا اور کمزور محسوس کرنا حیران کن حد تک آسان ہے، جو ڈپریشن اور جسمانی صحت اور تندرستی میں سنگین کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

کسی تنہا شخص تک پہنچنا مشکل ہے کیونکہ تنہا بوڑھے لوگ مدد مانگ کے اپنے وقار کو مجروح نہیں کرنا چاہتے۔ یہاں کچھ ایسے طریقے ہیں جو بوڑھے لوگوں کے لیے دوسروں کے ساتھ جڑنے، اور مفید محسوس کرنے میں معاون ہیں۔

سماجی روابط برقرار رکھنا: ان کے موجودہ تعلقات کی حوصلہ افزائی کریں۔ بزرگوں کو یاد دلائیں کہ وہ باقاعدہ کالز، ویڈیو گفتگو، یا ملاقات کے ذریعے دوستوں اور کنبہ کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ ان کو ایمرجینسی فون نمبرز کی فہرست دیں اور اس کی کاپی بنا کے مختلف ایسی جگہوں پہ چسپاں کر دیں جس تک ان کی رسائی ممکن ہو مثلاً فریج کے دروازے پہ، بستر کے سرہانے میز پہ، باتھ روم کے دروازے کی پشت وغیرہ

سماجی سرگرمیوں کو منظم کریں : بعض بزرگوں کے لیے گروپ سرگرمیوں جیسے بک کلب، ورزش کی کلاسز، یا مقامی پرکشش مقامات کی سیر کرنے کے مواقع پیدا کریں۔

دوستی کی خدمات: بزرگوں کو رضاکاروں سے جوڑیں جو باقاعدہ فون کالز، گھر کے دورے، یا باہر جانے کے ذریعے صحبت فراہم کر سکتے ہیں۔

آن لائن کمیونٹیز: مشترکہ مفادات اور بات چیت کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز اور سپورٹ گروپس کا استعمال کریں۔

نسلی پروگرام: رہنمائی یا مشترکہ سیکھنے کی سرگرمیوں کے ذریعے بزرگوں اور نوجوان نسلوں کے درمیان بات چیت کو آسان بنائیں۔

معنی خیز سرگرمیوں میں مشغول ہونا

مشاغل اور دلچسپیاں : بزرگوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنے شوق کو اپنائیں، چاہے وہ پینٹنگ ہو، باغبانی ہو یا موسیقی بجانا ہو۔

رضاکارانہ کام: رضاکارانہ مواقع تلاش کرنے میں بزرگوں کی مدد کریں جو ان کی دلچسپیوں اور مہارتوں کے مطابق ہوں، مقصد کا احساس فراہم کریں۔ چاہے وہ ایک دن بچوں کے لیے کہانی پڑھنا ہی کیوں نہ ہو۔ کسی غریب بچے کو تعلیم دینے کا فریضہ ہو یا ضرورت مند کے لیے سوئیٹر بننا۔ یا اپنی آزمودہ تراکیب دوسروں کو سکھانا۔

زندگی بھر سیکھنا

تعلیمی پروگراموں، ورکشاپس، یا مقامی لائبریریوں یا کمیونٹی سینٹرز کی طرف سے پیش کردہ کورسز میں شرکت کو فروغ دیں۔

پالتو جانوروں مثلاً بلی، کبوتر، چڑیا، رنگین مچھلیوں کے ٹینک وغیرہ کی دیکھ بھال۔ اس کے علاوہ گھر میں یا گھر سے باہر رکھے جانے والے پودوں کی نگہداشت بھی بہت صحتمند سرگرمی ہے۔ یہ ساری مصروفیات ان میں اپنی طاقت اور زندگی میں کنٹرول اجاگر کرتے اور تنہائی کے احساسات کو کم کر سکتی ہیں۔

چاہے پاکستان ہو یا بیرون ممالک بزرگوں کے ڈے کیئر بہت مفید کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میری ایک جاننے والی نیو جرسی میں ایک ایڈلٹ ڈے کیئر صبح نو بجے سے دو بجے دن تک پورے ہفتے جاتی ہیں۔ جہاں شاعری، موسیقی کے علاوہ مختلف قسم کے پکوان کی تراکیب کے کھانے کے علاوہ بھی کئی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ وہاں انہوں نے مختلف ممالک اور مذاہب کے لوگوں سے دوستی کے ساتھ انہیں قریب سے جانا ہے۔ اکثر ایک گروپ میں ریستوران، پلے اور سینما ہالز میں فلمز دیکھنے کے علاوہ کتابوں پہ تبادلہ خیال بھی کرتے ہیں۔ ان خاتون کی عمر لگ بھگ پچھتر سال ہے اور بقول ان کے کہ وہ اپنی زندگی سے بہت مطمئن اور خوش ہیں۔ اگر ہم پاکستان میں بھی بزرگوں کے لیے کمیونٹی کی سطح پہ ایسے پروگرام منظم کریں تو انہیں اپنی اس طاقت کا احساس ہو گا جو وہ نوکری کی سبکدوشی اور بڑھاپے کی دہلیز پہ پہنچنے کی صورت میں کھو دیتے ہیں۔

Facebook Comments HS