سنہرا پاکستان: 1960 سے 1975 کا خواب نما دور


پاکستان کی تاریخ میں 1960 سے 1975 کا دور ایک ایسا سنہرا باب ہے جو آج بھی بزرگوں کی باتوں، پرانی فلموں، ریڈیو کی گونجتی آوازوں اور پرانی تصویروں میں زندہ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک ترقی کی جانب بڑھ رہا تھا، جب ثقافت، فن اور معاشرتی رشتے اپنی بہترین صورت میں موجود تھے۔ پاکستان نہ صرف ایک ابھرتی ہوئی معیشت تھا بلکہ ایک زندہ دل قوم کا آئینہ بھی۔

اس دور میں صدر ایوب خان کے پانچ سالہ منصوبوں کے تحت ملک میں معاشی ترقی کی بنیاد رکھی گئی۔ کراچی اس وقت ایشیا کا ابھرتا ہوا معاشی مرکز بن چکا تھا، جہاں کی سڑکیں صاف، ٹرانسپورٹ منظم اور عوام مطمئن تھے۔ منگلا اور تربیلا جیسے بڑے ڈیم تعمیر ہوئے جنہوں نے زرعی انقلاب کی راہ ہموار کی۔ پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز دنیا کی بہترین ائرلائنز میں شمار ہوتی تھی اور کئی ممالک نے اپنی قومی ائرلائنز کے قیام کے لیے پی آئی اے سے تکنیکی تعاون حاصل کیا۔ اسلام آباد کو نیا دارالحکومت بنایا گیا۔ ایک منصوبہ بند، خوبصورت اور جدید شہر جس نے عالمی توجہ حاصل کی۔ لاہور کی مال روڈ، کراچی کی صدر اور راولپنڈی کے بازاروں کی رونقیں اس وقت پاکستان کی زندہ دلی کی پہچان تھیں۔

اس دور کی فلم انڈسٹری، جسے لالی وڈ کہا جاتا تھا، اپنے عروج پر تھی۔ ہر ہفتے نئی فلمیں ریلیز ہوتیں اور سینما گھروں کے باہر طویل قطاریں لگتیں۔ فلم ”ارمان“ نے وحید مراد اور زیبا کی لاجواب اداکاری اور ”کوکو کورینا“ جیسے گانے کے ساتھ پہلی پلاٹینم جوبلی فلم کا اعزاز حاصل کیا۔ محمد علی، ندیم، شمیم آرا، رانی بیگم، رنگیلا اور سلطان راہی جیسے فنکار گھروں میں پہچانے جاتے تھے۔ ان کی فلمیں نہ صرف تفریح فراہم کرتیں بلکہ معاشرتی اقدار اور انسانی جذبات کی عکاسی بھی کرتیں۔

موسیقی میں نور جہاں، مہدی حسن، احمد رشدی، رونا لیلیٰ اور فریدہ خانم کی آوازیں ہر گلی کوچے میں گونجتی تھیں۔ ”زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں“ اور ”اکیلے نہ جانا“ جیسے گانے آج بھی سامعین کے دلوں میں زندہ ہیں۔ کراچی کو اس وقت ”روشنیوں کا شہر“ کہا جاتا تھا۔ صدر، کلفٹن، ایمپریس مارکیٹ اور مزارِ قائد کے علاقے دن رات چمکتے رہتے۔ کیپری سینما میں خاندان فلم دیکھنے جاتے اور ساحلِ سمندر پر ہوا خوری روزمرہ کی تفریح ہوا کرتی۔

لاہور ادب، ثقافت اور محبتوں کا مرکز تھا۔ پاک ٹی ہاؤس میں ادیب، شاعر اور طلبہ بیٹھ کر گہری گفتگو کرتے۔ انارکلی بازار، شالیمار باغ اور تانگوں کی سواری اس شہر کی پہچان تھے۔ راولپنڈی کے راجہ بازار اور مری کی جانب جاتی ہوئی سڑکوں پر عوامی رش ایک خاص منظر پیش کرتا۔ پشاور کے قصہ خوانی بازار، کوئٹہ کے خشک میوے اور گرم چائے کے ہوٹل ہر شہر کی اپنی مخصوص خوشبو اور انداز کو ظاہر کرتے۔

معاشرتی زندگی سادگی، خلوص اور قربت سے بھرپور تھی۔ محلے کے بچے شام کو گلیوں میں کھیلتے، خواتین گھروں کے صحن میں محفلیں سجاتیں، اور مرد حضرات چائے کے ساتھ ملکی و عالمی حالات پر گفتگو کرتے۔ عید، شادی یا بسنت ہو، ہر موقع ایک اجتماعی خوشی کا باعث ہوتا۔ نہ مہنگے ہال، نہ بناوٹی تقاریب، سب کچھ خلوص، محبت اور ہم آہنگی کا عکس ہوتا۔ لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں برابر شریک ہوتے۔

تعلیم کا معیار بلند تھا۔ گورنمنٹ کالج لاہور، کراچی یونیورسٹی، ڈھاکہ یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی اور کیڈٹ کالج حسن ابدال جیسے ادارے علم کی روشنی پھیلا رہے تھے۔ نوجوانوں میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ موجود تھا۔ اسی دور کے طلبہ نے آگے چل کر پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔ سپارکو کا قیام اور ”رہبر“ راکٹ کا خلا میں بھیجنا اس بات کی علامت تھے کہ پاکستان سائنسی ترقی کی راہ پر گامزن تھا۔ پاکستان میں 1960 سے 1975 کے درمیان چند اہم یونیورسٹیاں قائم ہوئیں جن میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد 1967 میں، بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان 1975 میں، گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان 1974 میں، اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور 1975 میں شامل ہیں۔ یہ ادارے اس دور میں تعلیمی ترقی اور ملک کے مختلف خطوں میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کا باعث بنے۔

کھیلوں میں بھی یہ وقت سنہرا تھا۔ 1960 روم اولمپکس اور 1968 میکسیکو اولمپکس میں پاکستان نے ہاکی کا گولڈ میڈل جیتا۔ کرکٹ میں حنیف محمد، ماجد خان اور ظہیر عباس جیسے نام نمایاں تھے۔ گاما پہلوان اور دیہی کھیل جیسے کبڈی ہر جگہ مقبول تھے۔ ہر فتح پر پوری قوم خوشی سے جھومتی، ریڈیو پر تبصرے سنے جاتے اور گلیوں میں پٹاخے پھوٹتے۔

ٹی وی کے عام ہونے سے پہلے ریڈیو پاکستان ہر گھر کی آواز تھا۔ صبح قومی ترانے سے دن کا آغاز ہوتا، پھر خبریں، سہ پہر میں ڈرامے اور رات کو موسیقی۔ یہ ایک مکمل دنیا تھی۔ بچوں کے لیے ”ٹوٹ بٹوٹ“ اور ”نونی حال“ ، بڑوں کے لیے ”آوازِ دوست“ جیسے پروگرام مقبول تھے۔ عمر قریشی اور چشتی مجاہد کی کرکٹ کمنٹری اور ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز ہر دل میں اتر جاتی تھی۔

اس دور میں جہاں ترقی اور خوشی کا سفر جاری تھا، وہیں 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی ایک ایسا سانحہ تھا جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، خاندان بچھڑ گئے، اور ایک قومی زخم چھوڑ گیا۔ تاہم 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے نیا آئین پیش کیا، جمہوریت کا راستہ ہموار کیا، اور عوام کو ”روٹی، کپڑا، مکان“ کا نعرہ دیا۔ ایک نئی امید کا آغاز ہوا۔

1960 سے 1975 کا پاکستان صرف تاریخ کا باب نہیں بلکہ ایک خواب ہے، ایک ایسا وقت جب ہر چہرے پر مسکراہٹ تھی، ہر رشتہ خلوص سے جڑا تھا اور پاکستان واقعی سب کے دلوں کا پاکستان تھا۔ یہ وہ لمحے تھے جہاں دل جیتے جاتے تھے سچائی سے، خلوص سے اور امیدوں کا سورج کبھی غروب نہ ہوتا تھا۔

Facebook Comments HS