آپریشن فیئر پلے یا فاؤل پلے
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے عہد وزارت عظمی میں جس زیریں جنرل کو چار اعلی جنرلز پر فوقیت دیتے ہوئے پاک فوج کا سربراہ بنایا تھا اسی جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی 1975 کو ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگا لگا کر جمہوریت پر شب خون مارا گیا جو 11 برس پر محیط رہا۔ اس وقت بھی آج کی طرح ساری سیاسی جماعتیں ایک سیاسی جماعت کے خلاف اتحادی بن گئیں تھیں جنھوں نے کھل کر ضیائی مارشل لاء کی حمایت کی تھی، مٹھائیاں بانٹیں اور ان کی حکومت میں شامل ہو کر 11 برس تک خوب مزے لوٹے۔
آمر ضیاء الحق نے آئین پاکستان کو 12 صفحے کی کتاب کہہ کر رد کر دیا۔ اگر اس وقت عدالت عظمی ضیاء الحق کو آئین شکنی کی قرار واقعی سزا دے دیتی تو آج ملک پاکستان بہت بہتر حالت میں ہوتا۔ ضیاء الحق نے مجلس شوری کی شکل میں بہت سے سیاست دانوں کو اپنا دم چھلا اور حامی بنا لیا وہ کہتے تھے کہ سیاستدانوں کو تو سیاست کی اے بی سی بھی نہیں آتی جس پر ولی خان نے پھبتی کسی تھی کہ سیاست دان اے بی سی تک پڑھتے ہیں تو آگے جی ایچ کیو آ جاتا ہے ۔
سقوط پاکستان میں جنرل یحییٰ خان کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو بھی ذمہ دار تھے۔ قومی اسمبلی کی 166 نشستیں حاصل کرنے والے شیخ مجیب الرحمٰن کو اقتدار منتقل نہ کیا گیا اور ببانگ دہل یہ کہا گیا کہ جو کوئی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے ڈھاکہ گیا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ یہ بھی نعرہ لگا کہ ادھر تم ادھر ہم۔ اگر اس وقت یہ طرز عمل نہ اپنایا گیا ہوتا تو شاید پاکستان تقسیم
نہ ہوتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے کارپردازوں نے ابھی تک ہوش کے ناخن نہیں لیے ہیں اور ہم آج تک 1971 کے عہد میں گھرے ہوئے ہیں جب کہ ہم سے الگ ہو کر بنگلادیش بننے والا ملک ترقی کی دوڑ میں ہم سے کوسوں آگے نکل گیا ہے۔
ضیاء الحق نے بھٹو کو احمد رضا قصوری کے مقدمے میں عدالت عظمی سے 3 / 4 کے فیصلے سے پھانسی کی سزا دلوا دی۔ اس وقت کے چیف جسٹس مولوی مشتاق احمد نے اپنا فیصلہ کن ووٹ پھانسی کی سزا کی توثیق میں ڈال دیا۔ بعد ازاں مولوی مشتاق احمد کے جنازے پر شہد کی مکھیوں نے حملہ کر دیا اور کافی عرصے تک ان کی قبر پر جوتے رکھے جاتے رہے۔
ابھی حال میں ہی 45 سال بعد پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے بھٹو پھانسی مقدمے میں نظر ثانی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں انصاف پر مبنی عدالتی کارروائی نہیں ہوئی تھی اور انصاف کا قتل ہوا تھا۔ پاکستان کی عدالت عظمی اپنے ہی فیصلوں کے خلاف فیصلے دیتی ہے، کبھی کسی کو صادق و امین قرار دیتی ہے اور کبھی اسی شخص کو بد دیانت قرار دے کر اقتدار سے باہر کر دیتی ہے۔
ملک میں لگائے گئے ہر مارشل لاء کو نظریۂ ضرورت کے تحت جائز قرار دے کر آمریت کو فروغ دیا گیا ہے جس کے تباہ کن نتائج سے ملکی حالات دیگر گوں ہو گئے ہیں۔
ضیاء الحق کا مارشل پاکستان کی مشکلات بڑھانے کا باعث بنا۔ روس کے خلاف افغان مہاجرین کو اسلحے، پیسے اور افرادی قوت سے مدد دے کر طالبان کی شکل میں اپنے لیے مستقل درد سر بنا لیا گیا۔ منشیات، اسلحے اور دہشت گردی کی بہتات ضیائی مارشل کے تحفے ہیں۔ پاکستان کو افغان مجاہدین کو جنگ میں مدد دینا بہت مہنگا پڑا۔ ملک میں دہشت گردی کی لہر نے 35000 پاکستانیوں کو لقمہ اجل بنایا، ملکی استحکام کو پارہ پارہ کیا اور معیشت کو بالکل تباہ کر کے رکھ دیا۔
ضیاء الحق نے 90 دن کے انتخابات کرانے کے وعدے کو گیارہ برس پر محیط کر دیا۔ اپنے غیر قانونی اقتدار کو طول دینے کے لیے اسلامی احکام نافذ کرنے کا ڈھکوسلہ کیا اور ایک غیر قانونی ریفرنڈم کے ذریعے اسلامی نظام کے نفاذ کو اپنی ذات سے وابستہ کر لیا۔ جمہوریت، اظہار رائے اور انسانی حقوق کے حوالے سے یہ گیارہ برس زیر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حدود آرڈیننس جیسے غیر جمہوری قانون بنا دیے جو بالآخر نابود ہو گئے۔ اپنی مرضی کا اسلام زبردستی نافذ کرنے کی کوششیں کی گئی۔
آئین پاکستان کے حصہ اول کی چھٹی دفعہ کے مطابق آئین کو معطل کرنا یا معطل کرنے میں معاونت کرنا ریاست پاکستان سے بغاوت ہے جس کی سزا موت ہے۔
لیکن اس آئینی شق کے خلاف نظریہ ضرورت کے تحت عمل داری کو ہمیشہ روک دیا جاتا رہا ہے۔


A biased and deplorable writeup based on lots of wrong information or merely assumptions