سوات سانحہ: انسانی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور دردناک انجام


پاکستان کے دلکش خطے سوات میں جو المناک سانحہ پیش آیا، اس نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ دریا کے کنارے فوٹوگرافی اور سیر و تفریح کے لیے موجود 17 افراد چشم زدن میں تیز سیلابی ریلے کی نذر ہو گئے، جن میں سے اب تک 12 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، 4 کو بچا لیا گیا جبکہ ایک معصوم بچہ ابھی تک لاپتہ ہے۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ انتظامی نا اہلی، ناقص منصوبہ بندی اور مجرمانہ غفلت کی عکاسی کرتا ہے، جس نے معصوم جانوں کی قیمت لے لی۔

سانحے کا پس منظر

سوات، جو اپنی جھیلوں، دریاؤں، آبشاروں، پہاڑوں اور معتدل موسم کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے، پچھلے کچھ برسوں سے انسانی غلطیوں اور سرکاری بے حسی کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے۔ مینگورہ بائی پاس کے قریب دریائے سوات کا ایک حصہ جہاں واکنگ ٹریک بنانے کا کام جاری ہے، وہاں مبینہ طور پر محکمہ ایریگیشن نے واکنگ ٹریک بنانے کے لیے دریا کو عارضی بند (ڈائیورشن) سے موڑا ہوا تھا، ۔ یہ بند محض مٹی، ریت اور بجری سے بنایا گیا تھا جو شدید دباؤ برداشت کرنے کے قابل نہ تھا۔ اسی دوران خوازہ خیلہ اور مٹہ کے علاقوں میں شدید بارش (کلاؤڈ برسٹ) ہوئی جس کے بعد اچانک دریائے سوات میں سیلابی ریلا آیا۔ یہ ریلا اس کمزور بند پر دباؤ ڈال گیا اور بند ٹوٹنے سے پانی کا بہاؤ اچانک انتہائی تیز ہو گیا۔ متاثرہ افراد کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا، اور وہ دریا کے بیچ ایک ریت کے ٹیلے پر پھنس گئے۔

چشم دید گواہوں کے مطابق 17 افراد مدد کے لیے چیخ و پکار کر رہے تھے، لیکن ریسکیو ٹیم کے پہنچنے میں تاخیر ہوئی۔ 1122 کی ٹیم جب موقع پر پہنچی تو ان کے پاس فوری ریسکیو کے لیے نہ تو تربیت یافتہ عملہ تھا، نہ مناسب ساز و سامان۔ مقامی رضاکاروں کی مدد سے ایک کشتی لائی گئی، مگر کشتی ٹیلے سے ٹکرا گئی اور کئی افراد بدقسمتی سے پانی میں بہہ گئے۔ ایک طرف پی ڈی ایم اے نے پہلے ہی الرٹ جاری کیا تھا کہ مون سون کی شدت بڑھنے والی ہے، دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے کوئی پیشگی وارننگ یا سیاحوں کے انخلاء کا انتظام نہیں کیا۔ یہ کھلی کوتاہی تھی، جس کی وجہ سے دریا کے کنارے موجود خاندان خود کو محفوظ سمجھ کر دریا کے درمیان بنے ایک ٹیلے پر جا کھڑے ہوئے۔

متاثرہ خاندانوں کی داستان

یہ سانحہ صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ انسانوں کی ٹوٹی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا بدقسمت خاندان اپنی خوشیوں کے لمحات محفوظ کرنے سوات آیا تھا۔ ان کے ساتھ مردان اور کراچی سے آئے کچھ مہمان بھی شامل تھے۔ تصاویر کھینچتے وقت انہیں یہ علم نہ تھا کہ چند لمحوں بعد دریا میں طوفانی ریلا آنے والا ہے۔ بچ جانے والے افراد نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ چیختے رہے، مدد کے لیے پکارتے رہے، لیکن دور دور تک کوئی سننے والا نہ تھا۔ ایک زندہ بچ جانے والے نوجوان نے کہا، ہمیں لگا کہ دریا خشک ہے، بند بنا ہے، تو کوئی خطرہ نہیں، لیکن اچانک اتنا پانی آیا کہ ہمیں سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا۔ ان معصوموں کی ہنسی خوشی بھری تصویریں اب ہمیشہ کے لیے ان کے لواحقین کے دلوں میں قید رہ گئیں۔

کرش مافیا۔ سانحے کی جڑ

دریا سوات کے اردگرد گزشتہ دو دہائیوں میں جس طرح کرش پلانٹس اور ریت بجری کے غیرقانونی کاروبار نے پنجے گاڑے، اس نے قدرتی ماحول کا توازن برباد کر دیا۔ دریا کے بہاؤ میں رکاوٹیں ڈال کر وقتی فائدے کے لیے اس کی قیمت قدرت نے اس سانحے کی صورت میں چکائی۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے اس حوالے سے کہا کہ تمام کرش مافیا کے خلاف کارروائی ہوگی، اور دریا کے کنارے سے تجاوزات ہٹائی جائیں گی۔

سیاست اور عوامی ردعمل

واقعے کے بعد سیاسی جماعتوں نے بھی اس پر سیاست چمکانے کی کوشش کی۔ کسی نے حکومت پر تنقید کی، کسی نے اپوزیشن پر، لیکن عوام کے نزدیک اصل سوال یہ ہے کہ 17 قیمتی جانیں کیسے ضائع ہو گئیں؟ لوگ سوشل میڈیا پر برس پڑے کہ پاکستان میں انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں۔ چند لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کر دینا کافی نہیں، مستقبل میں اس طرح کے حادثات روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ڈیزاسٹر مینجمنٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مون سون اور کلاؤڈ برسٹ جیسی صورتِ حال غیر معمولی نہیں رہی، بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث اب یہ واقعات بڑھ رہے ہیں۔ اس کے لیے دریا کے بہاؤ، بند، پل اور واکنگ ٹریکس کا ریگولر آڈٹ ضروری ہے۔

ماہرین کی تجاویز

محکمہ ایریگیشن کے منصوبے تیسرے فریق سے منظور ہوں۔
ڈبل ون ڈبل ٹو کو جدید کشتیوں، لائف جیکٹس، اور تربیت یافتہ غوطہ خور مہیا کیے جائیں۔
مقامی افراد کو بھی ریسکیو کی بنیادی ٹریننگ دی جائے۔
سیاحتی مقامات پر ایمرجنسی الرٹ سسٹم مستقل بنیاد پر قائم کیا جائے۔

سیاحت پر اثرات

سوات میں پہلے ہی کئی حملوں اور بدامنی کی وجہ سے سیاحوں کا اعتماد متاثر ہوا تھا، اب اس حادثے نے ایک نیا خوف پیدا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے کہا کہ وہ اب دریا کے قریب جانے سے ڈرتے ہیں۔ اگر یہ تاثر برقرار رہا تو سوات کی سیاحتی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، جس کا نقصان ہزاروں مقامی روزگار کو ہو گا۔

مستقبل کا لائحہ عمل

اس واقعے کے بعد حکومت نے کچھ افسران کو معطل کیا، لیکن یہ کافی نہیں۔ اگر سوات جیسے بڑے سیاحتی علاقے میں ایمرجنسی پلاننگ ہی کمزور ہے تو باقی ملک میں کیا حال ہو گا؟ یہ لمحہ فکریہ ہے۔

درج ذیل اقدامات فوری کرنے ہوں گے

دریا کے بہاؤ کی باقاعدہ مانیٹرنگ۔
کرش مافیا کے لائسنس منسوخ۔
ایمرجنسی الرٹ سسٹم میں بہتری۔
ضلعی سطح پر با اختیار ڈیزاسٹر رسپانس یونٹس۔
میڈیا کے ذریعے عوامی آگاہی۔

سوات صرف ایک سیاحتی مقام نہیں، بلکہ پاکستان کا سرمایہ ہے۔ اگر ہم نے قدرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بند نہ کی، تو اگلی دفعہ یہ قیمت کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ سانحہ ایک الارم ہے جسے سننے کی ضرورت ہے۔ یہ ہمیں بتا رہا ہے کہ ہمیں ترقی، سیاحت، اور قدرت کے درمیان توازن پیدا کرنا ہو گا ورنہ خدانخواستہ یہ قدرتی آفات بار بار ہمیں آزمائیں گی۔

Facebook Comments HS