خواب، محبت اور زندگی 43


پہلی نظر، پہلا اثر First Glimpses، First Sparks

شوکت صدیقی صاحب نے ابتدا میں مساوات کا دفتر کراچی کی شارع فیصل پر رومی مسجد کے پاس رائٹرز گلڈ کے دفتر میں بنایا تھا اور وہیں پہلی مرتبہ میں نے اپنے میگزین ایڈیٹر یعنی احفاظ کو دیکھا۔ مختصر سے انٹرویو کے بعد انہوں نے مجھے اپنی میگزین ٹیم میں شامل کر لیا۔ میں پہلے سے ہی ان کی شخصیت سے مرعوب تھی کیونکہ میں جانتی تھی کہ وہ حال ہی میں چین میں چار سال گزار کے واپس آئے ہیں اور ثقافتی انقلاب کے چشم دید گواہ ہیں۔ (اس وقت تک ہمیں ثقافتی انقلاب کی حقیقت معلوم نہیں تھی) ۔ سچ پوچھئے تو اس وقت چین میں رہ کر آنے کی وجہ سے لیفٹ کے حلقوں میں احفاظ کو سیلیبریٹی ( نامور شخصیت ) کا درجہ حاصل تھا۔ میں تو دیگر نوجوانوں کی طرح ان کی شخصیت اور ذہانت سے مرعوب تھی لیکن شاید احفاظ کے لئے یہ ’پہلی نظر میں محبت‘ والا معاملہ تھا۔ گو انہیں اظہار میں وقت لگا۔

اصل بات یہ تھی کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھنے سے پہلے ہی ایک دوسرے سے متاثر ہو چکے تھے۔ میں ان کے چین کے انقلاب سے تعلق اور دانشوری کے حوالے سے اور وہ میری ”حرف بے اختیار“ قسم کی تحریروں کے حوالے سے ایک قریبی دوست کو کہہ چکے تھے کہ وہ کسی ایسی ہی لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اب سوچتی ہوں تو لگتا ہے کہ ہم دونوں ہی بے حد رومانوی اور حد درجہ کے آدرش پسند تھے۔ یہی ہماری سب سے بڑی طاقت اور یہی سب سے بڑی کمزوری تھی۔ بہرحال محبت کی اس کہانی کی اصل شروعات میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔

روزنامہ مساوات میں بائیں بازو کے عناصر کا غلبہ

مساوات میں ملازمت کے پہلے یا دوسرے دن ہی میری ہم سب کے پیارے نظریاتی بزرگ محمد میاں سے ملاقات ہوئی۔ اب معلوم نہیں اسے ملاقات کہنا چاہیے یا جھگڑا کیونکہ پہلی ملاقات میں ہی ہمارا جھگڑا ہو گیا تھا اور اس جھگڑے کی وجہ تھیں ’قرۃالعین حیدر‘ جن کی تحریروں خاص طور پر ’آگ کا دریا‘ کے ناول کی ہماری نسل شیدائی تھی۔ کوئی انہیں تنقید کا نشانہ بنائے، یہ میری برداشت سے باہر تھا۔

اس عارضی دفتر سے جلد ہی ہم ڈینسو ہال کے پاس سرائے روڈ پر اپنے مستقل دفتر میں منتقل ہو گئے۔ یہ ایک پرانی خستہ حال سی عمارت تھی جس کے لکڑی کے زینے چڑھنے والوں کے بوجھ تلے چرچراتے تھے۔ دفتر کا فرش بھی لکڑی کا تھا، ہم جن کرسیوں پر بیٹھتے تھے، ان کی حالت بھی خاص اچھی نہیں تھی۔ بارش میں چھت جگہ جگہ سے ٹپکتی تھی۔ کہنے کو یہ بر سر اقتدار پارٹی کے ترجمان اخبار کا دفتر تھا لیکن حال برا تھا۔ ہمارا دور اسی طرح کے تضادات سے بھرا ہوا تھا۔

یہ انٹرنیٹ سے پہلے کا زمانہ تھا لیکن ہم بین الاقوامی تحریکوں کی نبض کو محسوس کرتے تھے۔ فرانس کے طلبہ کی بے چینی ہو یا ہپی تحریک کی باقیات یا دنیا بھر میں سلگتی ہوئی انقلاب کی دھیمی دھیمی آگ۔ مقامی سیاسی کارکنوں کے علاوہ غیر ملکی طلبا اور ایکٹوسٹس بھی اپنی کہانیاں سنانے ہمارے دفتر آتے رہتے تھے۔ مجھے یاد ہے میں نے کراچی میں ہمارے دفتر آنے والے چند فرانسیسی طلبہ کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ ہماری دفتری فضا خوف یا تھکن سے نہیں بلکہ امید اور بے تابی سے لبریز رہتی تھی۔

میرے ذمہ طلبا اور نئی نسل کا صفحہ تھا، بعد میں خواتین کے صفحے کی ذمہ داری بھی مجھے سونپ دی گئی تھی۔ ایک مرتبہ ایک طالبعلم کا مضمون ”آزادی یا موت“ شائع کرنے پر میری نوکری جاتے جاتے بچی۔ انتظامیہ مجھ سے سخت ناراض تھی کیونکہ ان کے خیال میں یہ مضمون بر سر اقتدار پیپلز پارٹی کے خلاف تھا جب کہ وہ مضمون برطانوی سامراج کے خلاف تھا۔ خیر کچھ دوستوں نے بیچ میں پڑ کر معاملہ رفع دفع کرایا۔

ان ہی دنوں میں نے خواتین کے صفحے کے لئے فریڈرک اینگلز کی مشہور کتاب ”خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز“ کا قسط وار ترجمہ شروع کیا۔ تین اقساط چھپنے کے بعد شوکت صاحب کی نظر اس پر پڑی اور انہوں نے یہ ترجمہ رکوا دیا۔ وہ کافی خفا تھے، ”یہ لیفٹسٹس اخبار میں انقلاب لانے کے لئے آئے ہیں“ ۔ اس پر اگر احفاظ بیچ میں نہ پڑتے اور شوکت صاحب کو میرے دیگر مضامین یاد نہ دلاتے تو میری نوکری گئی تھی۔ انتظامیہ کے نقطہ نگاہ سے ہم ”Entryist“ لیفٹسٹس تھے جو پیپلز پارٹی کے ترجمان اخبار کے اندر انقلابی تبدیلی لانا چاہتے تھے۔ جب کہ ہمارے اپنے کچھ لیفٹسٹ ساتھی پیپلز پارٹی کے اخبار میں ہماری ملازمت کے خلاف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے اخبار میں کام کرنے کے نتیجے میں ایک دن بھٹو کی غلطیوں کا ذمہ دار ہمیں ٹھہرایا جائے گا۔

ان دنوں پی ٹی وی پر شوکت صدیقی صاحب کا شہرہ آفاق ناول ’خدا کی بستی‘ ٹیلی کاسٹ ہو رہا تھا۔ یہ بلیک اینڈ وہائٹ ٹی وی کا وہ دور تھاجب یادگار ڈرامے ٹی وی پر پیش کیے گئے۔ خدا کی بستی میں ہیرو کا کردار ادا کرنے والے ثاقب شیخ ہمارے دفتر میں ایڈورٹائزنگ سیکشن میں کام کرتے تھے۔ ایک اور کبھی نہ بھلائے جانے والے کولیگ سلیم مبارک تھے جو مشہور مصور مبارک ساغر کے بیٹے تھے۔ وہ ایک بہت ہی نفیس اور جمالیاتی ذوق رکھنے والے شخص تھے۔ ان کا صدر میں ایک چھوٹا سا اسٹوڈیو اپارٹمنٹ تھا جسے انہوں نے بہت نفاست سے سجایا ہوا تھا۔ اس وقت میں اور احفاظ نہیں جانتے تھے کہ جلد ہی اسی اپارٹمنٹ سے ہماری نئی زندگی کا آغاز ہو گا۔

Facebook Comments HS