سولر سسٹم پر ٹیکس: عوامی دباؤ کام کر گیا
سولر سسٹم آج کے دور میں محض بجلی کا متبادل نہیں رہا بلکہ یہ عوام کے لیے ایک ایسا محفوظ سایہ بن چکا ہے جو مہنگائی کی تپش، لوڈشیڈنگ کی اذیت اور بھاری بھرکم بلوں کے بوجھ سے نجات کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ جیسے تپتی دوپہر میں درخت کی چھاؤں تھکن بھری سانسوں کو سکون دیتی ہے ویسے ہی سولر سسٹم گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے امید، خودمختاری اور آسودگی کا پیغام ہے۔ پاکستان نے مالی سال 2025۔ 26 ء کے بجٹ میں شمسی توانائی کے فروغ اور مقامی صنعت کو سہارا دینے کے نام پر درآمد شدہ سولر پینلز پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگانے کی جو بات کی تھی بڑھتے عوامی دباؤ کے پیش نظر حکومت بالآخر اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی ہے اور سولر سسٹمز پر عائد 18 فیصد ٹیکس کو کم کر کے 10 فیصد کر دیا ہے۔ یہ قدم خوش آئند ضرور ہے، مگر موجودہ حالات اور شمسی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے تناظر میں یہ ناکافی بھی محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان میں توانائی کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے، اور مہنگی بجلی، لوڈشیڈنگ اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل کے پیش نظر حکومت کو سولر صارفین کو مزید عملی ریلیف دینا ہو گا۔
سولر صارفین کو ریلیف دینے کے لئے حکومت کو سنجیدگی سے کچھ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ( 1 ) نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کو مستقل، آسان اور صارف دوست بنایا جائے تاکہ گھریلو اور تجارتی صارفین کو اضافی بجلی قومی گرڈ میں شامل کرنے پر بروقت اور منصفانہ معاوضہ ملے۔ کسی بھی پالیسی تبدیلی سے پہلے عوامی مشاورت کو لازم قرار دیا جائے۔ ( 2 ) سینیٹر اسحاق ڈار کے مطابق 46 فیصد سولر سسٹم کا مال درآمد ہوتا ہے، لہٰذا باقی اشیاء جیسے انورٹرز، بیٹریز، اور دیگر آلات پر بھی محصولات کو کم کیا جانا چاہیے تاکہ مکمل سولر سسٹم کی قیمت عام آدمی کی پہنچ میں رہے۔ ( 3 ) حکومت خاص طور پر دیہی، بجلی سے محروم یا کم وولٹیج والے علاقوں میں آف گرڈ سولر سسٹمز کی تنصیب پر براہ راست سبسڈی دے۔ اس کے ذریعے ان علاقوں کو خودکفیل بنانے کے ساتھ ساتھ قومی گرڈ پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔ ( 4 ) حکومت کو چاہیے کہ وہ سولر پینلز، بیٹریز اور انورٹرز کی مقامی تیاری کے لئے صنعتوں کو ٹیکس چھوٹ، مشینری پر ڈیوٹی میں رعایت اور تحقیق و ترقی کے لیے فنڈز فراہم کرے، تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو۔ ( 5 ) اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے تعاون سے عام شہریوں، چھوٹے کاروباروں اور کسانوں کے لیے آسان اقساط پر سولر سسٹمز کی فنانسنگ اسکیمیں متعارف کروائی جائیں۔ اس سے نہ صرف طلب میں اضافہ ہو گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ( 6 ) حکومت سولر ٹیکنیشنز اور انسٹالرز کے لیے مفت یا سبسڈی پر ٹریننگ پروگرام شروع کرے تاکہ ملک میں سولر سسٹمز کی تنصیب اور مرمت کی معیاری سہولت عام ہو جائے۔ ( 7 ) حکومت ایک مربوط ”نیشنل سولر پالیسی“ جاری کرے، جس میں 2030 تک سولر توانائی کے اہداف، فنڈنگ، سبسڈی، مقامی مینوفیکچرنگ اور درآمدات کا توازن، اور ماحولیاتی فوائد کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہو۔
پاکستان میں سولر توانائی کے استعمال میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دسمبر 2024 تک تقریباً 2.83 لاکھ صارفین جن میں گھریلو، تجارتی، صنعتی اور زرعی شعبے شامل ہیں نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر سسٹمز استعمال کر رہے تھے۔ ان سسٹمز کی مشترکہ پیداواری صلاحیت تقریباً 4.1 گیگا واٹ ریکارڈ کی گئی، جو صرف چار ماہ بعد ، اپریل 2025 تک بڑھ کر 5.3 گیگا واٹ تک جا پہنچی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف سولر ٹیکنالوجی میں عوامی اعتماد بڑھا ہے بلکہ توانائی کے متبادل ذرائع کی جانب رجحان بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔
سولر پر ٹیکس میں کمی ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن اگر حکومت اس شعبے کو واقعی فروغ دینا چاہتی ہے تو اسے محض وقتی ریلیف سے آگے بڑھ کر جامع اور مستقل پالیسی اقدامات کرنے ہوں گے۔ شمسی توانائی نہ صرف سستی بجلی کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ماحولیاتی تحفظ، خود کفالت اور معاشی بہتری کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے بشرطیکہ حکومت وقت پر درست سمت میں فیصلے کرے۔



دنیا بھر میں نیٹ میٹرنگ اب ختم ہورہی ہے۔ اس لئے اس کو تو بھول جائیں۔
فالتو بجلی سے عام آدمی کو کسی بھی حال میں فائدہ نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ یہ مقدار اور تعداد اس کے لئے مشکلات کھڑی کر رہی ہیں۔
پچھلے سال بھر میں 20 لاکھ سے زیادہ صارف 200 یونٹ کی پروٹیکٹڈ کٹیگری میں اگئے ہیں وجہ کہ انہوں نے دن میں سولر لگالئے ہیں اور رات کو ہی محض واپڈا سے بجلی استعمال کرتے ہیں۔
اس فرق سے باقی 200 سے زائد والے صارف بجلی کی مھنگی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ اور مہنگی ہوتی جائے گی۔
نیٹ میٹرنگ زبردستی کا سودا نہیں۔ اگر صارف سمجھتا ہے کہ فالتو بجلی کی صحیح قیمت اسے نہیں مل رہی تو مت بیچے۔ یہ لالچ کا کھیل ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ جو بجلی نیٹ میٹرنگ والا اپنے پڑوسیوں کو بھیج کر کمائی کرتا ہے اس پر اس وقت انکم ٹیکس نہیں اور یہ دنیا کہ متعدد ممالک میں آمدنی میں شمار ہوتی ہے۔