موبائل فونک عشق۔ حبس زدہ ماحول میں ایک شگفتہ تحریر
محترم شان الحق حقی صاحب نے عشق کے ”ش“ ”ق“ درست کیے تھے مگر آج ہم عاشقوں کے کان مروڑیں گے۔
دنیا میں کئی ایک انٹرنیشنل قسم کی تنظیمیں ہیں جو کئی ایک قسم کے سروے کرتی پھرتی ہیں اور اپنی رپورٹیں مرتب کرتی ہیں، کہ کون سے ملک و قوم ترقی کے کن مدارج پر ہیں، مردوں اور عورتوں میں خواندگی کا تناسب کیا ہے، مردوں کی تعداد کتنی ہے اور عورتوں کی تعداد کہاں تک پہنچی نوجوانوں کے ذہنی رجحانات، سائنسی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وغیرہ وغیرہ۔
اگر ایسی ہی کوئی تنظیم عاشق تلاش کرنے نکلے تو ہمیں ضرور سر فہرست پائے گی۔ یہ ثمرات ہیں ہمارے محترم موبائل فون کے جسے بہت زیادہ نہیں تو دس پندرہ برس میں ہم نے اپنی روزمرہ زندگی کا مرکز و محور اور لازمی جز بنا لیا ہے۔ یہ اس دور کا وہ آلہ ہے وہ جادو کی چھڑی ہے اور عمرو عیار کی وہ زنبیل ہے جو معاشرے کے ہر طبقے اور ہر گھر میں موجود ہے اور یہ بے حد مفید اور ضروری شے بھی ہے اس میں کوئی شک نہیں۔
مگر اس کا کیا، کیا جائے کہ ہمارا طرز فکر منفی ہے۔ بس اسٹاپ ہوں یا گرین بیلٹ، دوا خانوں کے ویٹنگ روم، کیفے اور ریستوران کی تو بات ہی چھوڑیے۔ پارکوں کی دیواروں سے لگے اور کھمبوں کے نیچے ہاتھ میں موبائل لیے عاشق صاحب سرگوشی کرتے ملیں گے۔ ویسے یہ اتنی بری چیز بھی نہیں، عشق اور عاشقوں کی داستانیں صدیوں پرانی ہوا کرتی ہیں۔ مگر فی زمانہ عاشقوں کی فراوانی ہے۔ عشق کو بے روزگار نوجوان نسل نے دنیا کا شاید سب سے آسان کام سمجھ لیا ہے۔ بقول شخصے، بجلی کی بندش کے اوقات عاشق سازی میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ جبکہ ایک میاں عاشق جن کی موبائل فون کی دکان بھی ہے، فرما رہے تھے بلکہ گلہ کر رہے تھے کہ پتھر کے دور میں بھی تو عشق اور عاشق ہوا کرتے تھے، موبائل فون ہی کو خوا مخواہ کیوں بدنام کیا جا رہا ہے۔
مگر ہم دیکھتے ہیں روز افزوں طرح طرح کے فیچرز اور ایپ یا اپلیکیشنز نے جنونیت کا ایک طوفان اٹھا لیا ہے نوجوانوں میں ایک دوڑ لگ گئی ہے۔ جس اونچ نیچ اور کانٹوں سے بھری سڑک پر یہ بھاگ رہے ہیں اس کا اختتام ہر بار ایک جان لیوا موڑ پر ہوتا ہے، کتنے ہی سانحات اور حوادث ایسے ہی پیش آئے کہ جن کا سرا اسی ایک چیز سے جا ملا مگر ان زخموں کو کریدا جائے تو بہت سے لوگ تکلیف محسوس کریں گے کچھ بات سمجھیں گے اور کچھ لوگ ناراض ہوں گے۔ خیر یہ ایک الگ موضوع رہا۔
بات یہ ہے کہ مغرب نے اپنی روز افزوں کاوشوں سے سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کو اپنے دام کا اسیر کر لیا ہے۔ اب رابطے اور فاصلوں کا کوئی جھگڑا نہیں اب دنیا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے یعنی گلوبل ویلج اور جناب ایک دنیا ہے جو سمٹ سمٹا کر ہماری فنگر ٹپس پر آ گئی ہے۔ مگر پھر وہی بات جو ابتدا میں کہی ”طرز فکر“
اب کوئی کیسی ہی کام کی چیز ہو اور کوئی کیسا ہی عقل کا پرزہ ہو کہ جس کے استعمال سے آپ فرش پر بیٹھ کر عرش کے نظارے کر لیں یا چاند کا چکر لگا آئیں۔ لیکن ہم ہیں کہ ان عقل کے پرزوں کا ان جادو کی چھڑیوں کا کوئی نا کوئی منفی استعمال نکال ہی لیتے ہیں اور پھر کیا ہوتا ہے ہمارے بڑے بزرگ نوجوانوں کی اخلاقی پستی کا ذمہ دار مغرب اور جدیدیت کو ٹھہراتے ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ لوگوں نے اپنی مثبت سوچ اور فکر سے ٹیکنالوجی کو ترقی دی زمین کی گہرائیوں کو ماپا اور آسمانوں کی وسعتوں کو سرنگوں کر دیا اور یہاں ہم ہیں کہ اپنی منفی سوچ اور طرز فکر کے زیراثر اندھیرے غاروں کی پستیوں میں اترتے جا رہے ہیں۔
کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ دونوں راستے اچھائی کا اور برائی کا قدرت نے کھول کر رکھ دیا ہے آپ کو احسن تقویم پر خلق کیا گیا ہے آپ بہترین تخلیق ہیں کیونکہ آپ سوچنے کے قابل ہیں آپ شعور رکھتے ہیں آپ کا ہتھیار عقل ہونا چاہیے مثبت طرز فکر اپنایئے۔ یہ ترقی اور یہ ٹیکنالوجی اور ان کے مختلف نام آپ کی ہم سب کی زندگی اور زندگی کے معیار کو بلند کرنے اور اخلاقی قدروں کی پاسداری کے لیے وجود میں آئے ہیں۔ ان کا مثبت استعمال، مثبت طرز فکر کے ساتھ ہی کیجئے اسی میں ہماری بقا ہے اسی میں آسودگی ہے۔

